30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جب چند لوگوں کا مل کر اپنے سے کم مرتبے والے شخص کی زیارت کرنے کے لیے جانا بالکل جائز ہے تو اپنے سے زیادہ مرتبے والے کی زیارت کے لیے جانا تو بدرجہ اولیٰ جائز ہے ۔
(2) نیک لوگوں کے وصال اور ان کی جدائی پر غم کرتے ہوئے حدِّشرع میں رونا جائز ہے اگرچہ وہ اس سے بھی زیادہ افضل مقام پر منتقل ہوچکے ہوں ۔
(3) فکرِ اُمَّت یا غمِ اُمَّت میں یا اُمَّتِ مُسْلِمَہ کی حالت پر خوفِ خدا سے آنسو بہانا بھی سعادت مندی ہے ۔
(4) جس طرح حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیات مسلمانوں کے لیے باعث خیروبرکت ہے ویسے ہی آپ کا وصال بھی باعث خیروبرکت ہے ، مگر آپ کے وصال سے اُمَّت کئی فوائد سے محروم ہوگئی ، اسی وجہ سے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانآپ کی جدائی کے غم میں آنسوں بہایا کرتے تھے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک لوگوں کی زیارت کے لیے جانے اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے طریقے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 453 سَیِّدُنَا صدیق اکبر کی گریہ وزاری
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : لَمَّا اِشْتَدَّ بِرَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَعُهُ قِيْلَ لَهُ فِيْ الصَّلاَةِ فَقَالَ : مُرُوْا اَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَقَالَتْ عَائِشَةُرَضِيَ اللهُ عَنْهَا : اِنَّ اَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيْقٌ اِذَا قَرَاَ الْقُرْآنَ غَلَبَهُ البُكَاءُ فَقَالَ : مُرُوْهُ فَليُصَلِّ. ( [1] ) وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ : قُلْتُ : اِنَّ اَبَا بَكْرٍ اِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ. ( [2] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ جب مرض الموت میں حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا درد بڑھ گیا توآپ سے نماز کے بارے میں عرض کیا گیا ۔ ارشادفرمایا : ’’ابو بکر سے کہو : لوگوں کو نماز پڑھا ئیں ۔ ‘‘ اُمّ المؤمنین حضر ت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی : ’’ابوبکر ایک نرم دل انسان ہیں ، جب قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تواُن پر رونا غالب آ جاتا ہے ۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ابوبکرسے کہو : نماز پڑھائیں ۔ ‘‘ ایک روایت میں ہے حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں کہ میں نے عرض کی : ’’سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُجب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو ( قرآن ) نہیں سناسکیں گے ۔ ‘‘
مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب نماز میں کھڑے ہوں گے تو ( خوفِ خدا یاعشق مصطفے ٰ میں ) رونے لگ جائیں گے اور یہ باب بھی خوفِ خدا میں رونے کی فضیلت کے بارے میں ہے اس لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ حدیثِ پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھا ئیو ! مذکورہ حدیث پا ک میں امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے خوفِ خدا کا ذکر ہے ۔ حدیث پاک کا مختصر پس منظر یہ ہے کہ جب حضور نبی پاکصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مرضِ وفات لاحق ہوا اور بیماری شدت اختیار کرگئی تو آپ نے اُمُّ المؤمنین حضر ت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا : ’’ابو بکر کو حکم دو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘‘ اس پر سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! ابو بکر ایک نرم دل انسان ہیں ۔ ‘‘ دراصل امیر المؤمنین حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بہت ہی زیادہ خوفِ خدا رکھنے والے تھے ، جب بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قرآن کی تلاوت سنتے یا خودقراءت کرتے تو بے ساختہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے ۔ سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکو یہ خدشہ تھا کہ حضور نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی غیر موجودگی میں نماز پڑھاتے ہوئے دوران تلاوت خوفِ خدا کی وجہ سے اُن پر رنج و غم کا ایسا غلبہ طاری ہو گا کہ وہ اپنے آنسو ؤں کو روک نہیں سکیں گے جیساکہ حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ ’’میرے والد ماجد حضرت سَیِّدُنَا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جب قرآنِ پاک کی تلاوت فرماتے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اپنے آنسوؤں پر اختیار نہ رہتا یعنی زار و قطار رونے لگ جاتے ۔ ‘‘ ( [3] )
چونکہ اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی بیٹی تھیں اور آپ اپنے والد کے احوال سے بخوبی واقف تھیں اسی وجہ سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے یہ عُذرپیش کیا ۔ لیکن حضور سیدعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ہی امامت مقصود تھی اسی لئے آپ نے دوبارہ حکم فرمایا کہ : ’’ابو بکر سے کہو : لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ ‘‘
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’جب حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شدید بیمار ہو گئے ۔ یعنی جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بیماری نے شدت اختیار کرلی اور یہ وہ ہی بیماری تھی جس کے سبب آپ دنیا سے رُخصت ہوئے ۔ بیماری کی یہ شدت اجر کے زیادہ ہونے اور بلندیٔ درجات کے لئے تھی ۔ آپ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع