دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

کیونکہ یہ بھی احتمال تھا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے یہ فرمایا ہو  : ’’اپنی اُمَّت کے کسی بھی فرد کو قرآن سنا دو ۔ ‘‘ ( 6 ) حضرت سَیِّدُنَا اُبَی   بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو قرآنِ پاک سنانے کا حکم کیوں دیا؟اس کی  حکمت میں اختلاف ہے ، راجح قول یہ ہے کہ یہ حکم اس لئے دیا تاکہ کسی اہل علم اور فضیلت والے کوقرآنِ پاک سنانے کا  عمل سنت ہوجائے اورلوگ قرآنِ پاک کی قراءت کے آداب سیکھیں اور کوئی شخص کسی کو قرآنِ پا ک سنانے میں عار محسو س نہ کرے ۔  ( 7 ) حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کی جلالت و اہلیت پر تنبیہ ہے کہ لوگ ان سے قرآن سیکھیں اور حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد سَیِّدُنَا اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہی امام القراء ہیں ۔  ( 8 ) سورۂ بَیِّنَہْ کو سنانے کی تخصیص اس لئے کی گئی کہ یہ مختصر اور دِین کے اُصول و فُروع کے کثیر فوائد کی جامع ہے ۔ ( [1] )

قرآنِ پاک سنانا وسکھاناسنت ہے :

مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ ( حدیث پاک میں ہے :  ) اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے مجھے حکم دیا ہے کہ میں آپ کے سامنے (  لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ) کی تلاوت کروں ۔   ‘‘  یعنی اس طرح کہ قرآنِ کریم کی بعض آیتیں یا سورتیں خصوصیت سے تم کو سناؤں اگرچہ عمومًا ہر مسلمان کو سنانا اَحکام بتاناہمارا تبلیغی فریضہ ہے ۔ معلوم ہوا کہ کسی خاص شخص کو قرآنِ پاک سنانا بھی سنت ہے ۔ ‘‘ ( سیدنا ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا اپنے نام کے بارے میں پوچھنا ) یہ سوال تعجب کے لیے ہے کہ کیا مجھ جیسے عاجز مسلمان کا نام بھی رب تعالیٰ نے آپ کے سامنے عزت کے ساتھ لیا ۔ کیا میں ایسا خوش نصیب انسان ہوں ؟سوال کے بہت مقصد ہوتے ہیں ایک تعجب بھی ہے ۔  ( سَیِّدُنَا اُبی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ) رونا انتہائی خوشی کا تھا اور اِس اندیشہ کی بنا پر تھا کہ میں عاجز انسان اتنی بڑی نعمت کا شکریہ کس طرح ادا کرسکوں گا ۔ حضرت اُبی ابن کعب نے قرآن سیکھنے میں بڑی محنت کی تھی حتی کہ آپ تمام صحابہ میں بڑے پائے کے قاری تھے اِسی بنا پر رب تعالیٰ نے فرمایا کہ :  اے محبوب چونکہ دنیا ان سے قراءت سیکھے گی ۔  لہٰذا آپ خصوصیت سے انہیں قراءت سنائیں ، آپ میرے شاگرد اعلیٰ ہیں ، یہ آپ کے شاگردِ رشید ہوں ۔  خصوصیت سے یہ سورت تلاوت فرمانے کی یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ حضرت اُبَی ابن کعب علمائے یہود سے تھے اور اس سورت میں علمائے اہل کتاب کا ذکر ہے ، اس کے سننے سے اُن کا ایمان اور بھی قوی ہوگا ، اس حدیث سے حضرت اُبی ابن کعب کی عظمت کا پتہ لگا ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ افضل مفضول کو مفضول افضل کو قرآنِ کریم سکھائے ۔  ( [2] )

مدنی گلدستہ

’’ قرآن پا ک   ‘‘  کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور  اور

اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول

(1)   تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بہت عزت وعظمت والے ہیں کہ انہیں شرف صحابیت نصیب ہوا جس سے یہ تمام دیگر انسانوں میں ممتاز ہوگئے مگر بعض صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو مخصوص فضائل بھی عطا فرمائے گئے ، جیسا کہ اس حدیث پاک میں سیدنا اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے فضائل بیان ہوئے ۔

(2)   حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو یہ فضلیت حاصل ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نام لیا اور رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کو قرآن سنایا ۔

(3)   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی خوفِ خدا سے گریہ وزاری فرمایا کرتے تھے ۔

(4)   کسی دوسرے کو قرآن پاک سنانا سنت ہے ۔

(5)   کسی کو علم دینے یا کسی سے علم حاصل کرنے میں افضلیت و مفضولیت کا کوئی عمل دخل نہیں اور نہ ہی اس میں کسی قسم کی کو ئی  عار محسوس کرنی چاہیے  ۔

(6)   اگر کسی مسئلہ میں تَرَدُّدْہوتو  اہل علم سے اس بارے میں تحقیق کر لینی چاہیے ۔

(7)   اللہ والوں کی شان یہ ہے کہ جب انہیں  کوئی خوشی ملتی تو اس خوشی میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خوف کو بھی شامل کرلیا کرتے ہیں ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی محبت نصیب فرمائے ، ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں اپنا خوف اورخوف سے رونا نصیب فرمائے ۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 452                                                                                 سَیِّدَتُنَا اُمِّ اَیْمَنْ کی گریہ وزاری

 عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ :  قَالَ اَبُوْ بَكْرٍ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا بَعْدَ وَفَاةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اِنْطَلِقْ بِنَا اِلَى اُمِّ اَيْمَنَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا نَزُوْرُهَا كَمَا كَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزُوْرُهَا فَلَمَّا انْتَهَيَا اِلَيْهَا بَكَتْ فَقَالَا  لَهَا : مَا يُبْكِيْكِ؟ اَمَا تَعْلَمِيْنَ اَنَّ مَا عِنْدَ اللهِ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ !  قَالَتْ : اِنِّيْ لَا اَبْكِيْ اَنِّيْ لَا اَعْلَمُ اَنَّ مَا عِنْدَ اللهِ تَعَالىٰ خَيْرٌ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلٰكِنِّی اَبْكِيْ اَنَّ الْوَحْيَ قَدِ انْقَطَعَ مِنَ السَّماءِ فَهَيَّجَتْهُمَا عَلَى الْبُكَاءِ فَجَعَلَا يَبْكِيَانِ مَعَهَا. ( [3] )

 



[1]     شرح مسلم للنووی ، کتاب فضائل  القرآن ، باب استحباب قرآۃ القرآن علی اھل الفضل ۔ ۔ ۔ الخ ، ۳ / ۸۶ ، الجزء  السادس   ۔

[2]     مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۲۶۷ ۔

[3]     مسلم ، کتاب فضائل الصحابۃ ، باب من فضائل اُمِّ اَیْمَن رضی اللہ تعالی عنھا ، ص۱۳۳۳ ، حدیث : ۲۴۵۴ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن