30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی غم مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نصیب فرمائے ، خوفِ خدا اور عشق مصطفٰے میں رونا نصیب فرمائے ، ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرمائے ، ہماری حتمی مغفرت فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حد یث نمبر : 451 خوشی کے آنسو
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلَ الله صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم لاُِبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : اِنَّ الله عَزَّ وَجَلَّ اَمَرَنِي اَنْ اَقْرَاُ عَلَيْكَ : ( لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا )قَالَ : وَسَمَّانِي؟قَالَ : ’’نَعَمْ ‘‘ فَبَكٰى اُبَيٌّ.
وَفِيْ رِوَايَةٍ : فَجَعَلَ أُبَيٌّ يَبْكِي. ( [1] )
ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ارشادفرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے : ( لَمْ یَكُنِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ) کی تلاوت کروں ۔ ‘‘ انہوں نے پوچھا : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرا نام لیا ہے ؟ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘‘ ( یہ سن کر ) سَیِّدُنَا ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رونے لگے ۔ ایک روایت میں یوں ہے کہ انہوں نے رونا شروع کر دیا ۔
سَیِّدُنَا اُبی بن کعب کا مختصر تعارف :
حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا تعلق قبیلہ خزرج سے ہے ، آپ بارگاہِ رسالت کے کاتب وحی تھے ، آپ ان چھ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے ایک ہیں جو عہد رسالت میں ہی مکمل حافظ قرآن ہوچکے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سرکارِ دوعالَم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی موجودگی میں بھی فتاویٰ دیا کرتے تھے ۔ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان آپ کو سَیِّدُالْقُرَّاء یعنی قاریوں کا سردار کہا کرتے تھے ۔ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی کنیت ’’ابوالمنذر ‘‘ رکھی تھی ۔ امیر المؤمنین سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ کو ابوالطفیل کنیت سے پکارا کرتے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بارگاہ رسالت سے ’’سید الانصار ‘‘ کا خطاب ملا ، اور امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے انہیں سید المسلمین کا لقب عطا فرمایا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کثیر صحابہ کرام وتابعین عظام نے اکتساب فیض کیا ، آپ کے شاگردوں کی فہرست بہت طویل ہے ۔ ( [2] )
خوشی میں خوفِ خدا کو شامل کرنا صالحین کی شان :
مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضرت سیدنا اُبی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضور نبی رحمت ، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی : ’’ کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرا نام لے کر آپ کو یہ حکم دیا ؟ ‘‘ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پوچھنے کی وجہ یہ تھی کہ ہو سکتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کو مطلقاً حکم دیا ہو کہ اپنی امت میں سے کسی کو بھی یہ سورت سنا دیں اور خصوصیت کے ساتھ میرا نام نہ لیا ہو ۔ حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘‘ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہارا نام لے کر کہا اور نسب بھی ذکر فرمایا ۔ ‘‘ یہ سن کر سَیِّدُنَا اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرونے لگے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے رونے کی وجہ یا تو خوشی ہے کہ آپ خوشی سے رونے لگے یا اس نعمت پر شکرمیں کمی کو دیکھ کر خوف سے روئے ، یا خود کو کم درجہ سمجھتے ہوئے خوف اور تعجب سے روئے ۔ صالحین یعنی نیک لوگوں کی یہی شان ہوتی ہے کہ جب وہ خوش ہوتے ہیں تو اپنی خوشی میں خوفِ خدا کو بھی شامل کر لیتے ہیں ۔ سرکارِدوعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کاسَیِّدُنَا اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کوقراءت سنانے کا مقصد یہ تھا کہ وہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے قراءت سیکھیں اور ایک دوسرے کو قرآن پاک سنانا سنت ہو جائے اور حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعب کی فضلیت پر تنبیہ ہو جائے ۔ یہ مقصد نہ تھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سَیِّدُنَا اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کچھ سیکھیں ۔ سرکارِمدینہ منورہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قراءت کرنے میں سورۂ بَیِّنَہ کو متعین کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ سورت مختصر ہے مگر بہت سے قواعد و اُصولِ دِین اور فروعات اور اہم باتوں کی جامع اور اِخلاص و دِل کی پاکیزگی پر مشتمل ہے ۔ ‘‘ ( [3] )
حدیث پاک سے حاصل ہونے والے فوائد :
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے مذکورہ حدیث پا ک سے چند فوائد بھی ذکر فرمائے ہیں : ( 1 ) علم تجوید کے ماہر اور اہل علم وفضل کے سامنے قرآن سنانا مستحب ہے ، خواہ قرآن سنانے والا سننے والے سے افضل ہو ۔ ( 2 ) مذکورہ حدیث پاک سے حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے ، کیونکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنَا ابی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو قرآنِ مجید سنایا ، اس فضیلت میں لوگوں میں سے کوئی بھی ان کا شریک نہیں ۔ ( 3 ) حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی ایک اور فضیلت یہ بھی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کا نام لیااور ان کی اس بلند و بالا شان کا ذکر حدیث پا ک میں آیا ۔ ( 4 ) خوشی کی خبر سن کر رونا بھی جائز ہے ۔ ( 5 ) خصوصیت کے ساتھ کسی مسئلہ کی تحقیق پوچھنا بھی جائز ہے کیونکہ حضرت سَیِّدُنَا اُبَی بن کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھا : ’’کیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے میرا نام لیا ہے ؟ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع