30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قلت خشیت یعنی خوف خدا کی کمی کے چھ علاج :
واضح رہے کہ خوفِ خدا سے رونا اسی وقت نصیب ہوگا جب دل میں خوفِ خدا ہوگا ، اور دل میں خوفِ خدا کا نہ ہونا ایک باطنی بیماری ہے ، کسی بھی بیماری کے علاج کے لیے اس کے اسباب پر غور کرنا نہایت ضروری ہے ورنہ اس کا علاج بہت مشکل ہے ۔ خوفِ خدا پیدا نہ ہونے کی وجوہات پیچھے گزر چکی ہیں ۔ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 352صفحات پر مشتمل کتاب ’’باطنی بیماریوں کی معلومات ‘‘ صفحہ253سے قلت خشیت یعنی خوفِ خدا میں کمی کے چھ علاج پیش خدمت ہیں :
( 1 ) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں قلت خشیت سے سچی توبہ کرے کہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو اور خوفِ خدا کی نعمت کے حصول کے لیے دعا کرے کہ دعا مؤمن کا ہتھیار ہے اور دعا اس طرح کرے : ’’اے میرے مالک عَزَّ وَجَلَّ ! تیرا یہ کمزور وناتواں بندہ دنیا وآخرت میں کامیابی کے لیے تیرے خوف کو اپنے دل میں بسانا چاہتا ہے ۔ اے میرے رب عَزَّ وَجَلَّ ! میں گناہوں کی غلاظت سے لتھڑا ہوا بدن لیے تیری پاک بارگاہ میں حاضر ہوں ۔ اے میرے پروردگار عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے معاف فرمادے اور آئندہ زندگی میں گناہوں سے بچنے کے لیے اس صفت کو اپنانے کے سلسلے میں بھرپور عملی کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمادے اور اس کوشش کو کامیابی کی منزل پر پہنچادے ۔ اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے اپنے خوف سے معمور دل رونے والی آنکھ اور لرزنے والا بدن عطا فرما ۔ آمین
| یارب میں ترے خوف سے روتا رہوں ہردم | …… | دیوانہ شہنشاہ مدینہ کا بنا دے |
( 2 ) اپنی کمزوری وناتوانی کو سامنے رکھ کر جہنم کے عذابات پر غوروفکر کرے کہ آج دنیا میں چھوٹی سی تکلیف برداشت نہیں ہوتی تو جہنم کے سخت عذابات کو کیسے برداشت کرسکیں گے حالانکہ جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ سخت ہے ، دنیا کی آگ بھی جہنم کی آگ سے پناہ مانگتی ہے ، دوزخ میں بختی اونٹ کے برابر سانپ ہیں ، یہ سانپ ایک مرتبہ کسی کو کاٹے تو اس کا درد اور زہر چالیس برس تک رہے گا ۔ اور دوزخ میں پالان بندھے ہوئے خچروں کے مثل بچھو ہیں تو ان کے ایک مرتبہ کاٹنے کا درد چالیس سال تک رہے گا ۔
( 3 ) قرآن وحدیث میں موجود خوف خدا کے فضائل پیش نظر رکھے کہ جو رب عزوجل کے حضور اس کے خوف کے سبب کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے لیے دو جنتوں کی بشارت ہے ، دنیا میں خوف خدا رکھنے والے لیے کل بروز قیامت امن کی بشارت ہے ، خوف خدا سے نکلنے والے آنسو جسم کے جس حصے پر گریں اس پر جہنم کی آگ حرام ہونے کی نوید سنائی گئی ہے ۔ خوف خدا سے ڈرنے والے کے گناہ درخت کے پتوں کی طرح جھڑ جاتے ہیں ۔ وغیرہ وغیرہ
( 4 ) …… بزرگانِ دِین کے خوفِ خدا پر مشتمل واقعات کا مطالعہ کرے ۔ اس کے لیے تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ان کتب ’’خوفِ خدا ، توبہ کی روایات وحکایات ، احیاء العلوم ‘‘ ( جلدسوم ) وغیرہ کا مطالعہ بہت مفید ہے ۔
( 5 ) …… خود احتسابی کی عادت بنانے کے لیے مدنی انعامات پر عمل کی کوشش کرے کہ امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی طرف سے عطا کردہ یہ مدنی انعامات قلت خشیت جیسی مہلک بیماری سے نجات اور خوف خدا جیسی عظیم نعمت کے حصول میں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ بہت معاون ثابت ہوں گے ۔
( 6 ) ……خوفِ خدا رکھنے والوں کی صحبت اختیار کرے کیونکہ اللہتعالیٰ کا خوف رکھنے والے نیک لوگوں کی صحبت میں بیٹھنا بھی انسان کے دل میں خوف الٰہی بیدار کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے ۔
کب گناہوں سے کنارہ میں کروں یارب ……… نیک کب اے میرے اللہ ! بنوں گا یارب
گر تو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی ……… ہائے میں نار جہنم میں جلوں گا یارب
مدنی گلدستہ
’’خوف الٰہی ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی تمام مخلوق میں سب سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والے ہیں اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خوفِ خدا کا عالم یہ تھا کہ رونے کی وجہ سے سینہ مبارکہ سے ہنڈیہ کے ابلنے کے جیسی آواز آتی ۔
(2) نماز میں خوفِ خدا سے رونا حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت مبارکہ ہے ۔
(3) عشق مصطفٰے یا خوفِ خدا سے نماز میں رونا بھی نماز کی مقبولیت کی نشانی ہے ۔
(4) آہ ، اوہ ، اُف ، تف یہ الفاظ درد یا مصیبت کی وجہ سے نکلے یا آواز سے رویا اور حرف پیدا ہوئے ، ان سب صورتوں میں نماز جاتی رہی اور اگر رونے میں صرف آنسو نکلے آواز و حروف نہیں نکلے ، تو حرج نہیں ۔
(5) نماز میں جنت و دوزخ کا ذکر سن کر رونے سے نماز باطل نہیں ہوتی ۔
(6) نیکیوں کی کمی اور گناہوں کی زیادتی بھی عدم خوف کی علامت ہے ، لہٰذا نیکیوں پر کمربستہ رہنے اور گناہوں سے بچنے کی ہردم کوشش کرتے رہنا چاہیے ۔
(7) عدم خوف ایک باطنی بیماری ہے ، بندے کو چاہیے کہ اس کے اسباب پر غور کرے اور اس کا مکمل علاج کرے کہ جب بھی کوئی بیماری بگڑتی ہے تو وہ ناسور بن جاتی ہے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع