دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

٭انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی تعظیم کا طریقہ یہ ہے کہ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے اُن کی اتباع کی جائے ۔ ٭اہل بیت وصحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی تعظیم کا طریقہ یہ ہے کہ اُن کی سیرتِ طیبہ پرعمل کیا جائے ، اُن کا ادب واِحترام کیا جائے ، اُن سے محبت کی جائے ۔ ٭قرآن کی تعظیم کا طریقہ یہ ہے کہ اُس کی تلاوت کی جائے ، اُس کے معانی ومفاہیم کو سمجھ کر اُس پر عمل کی جائے ، اُس کا ادب واحترام کیا جائے ، اُس کی طرف پاؤں نہ پھیلائے جائیں ، اُس کی طرف پیٹھ نہ کی جائے ، بغیروُضو وغسل کے اُسے ہرگز نہ چھوا جائے ۔

آیت مبارکہ کی باب سے مناسبت :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! معلوم ہوا کہ اہل بیت اَطہار اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نشانیوں میں سے ہیں ان کی تعظیم و توقیر کرنا اور ان کا ادب و احترام بجالانے میں مبالغہ کرنا تقویٰ اور پرہیزگاری اور ایمان کامل کی علامت ہے ۔ یہ باب بھی اہل بیت کی تعظیم اور ان کی فضیلت کے بارے میں ہے اس لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ آیت مبارکہ اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 346                                                                دو عظیم چیزیں قرآن اور اہل بیت

عَنْ يَزِيْدَ بْنِ حَيَّانَ قَالَ :  اِنْطَلَقْتُ اَنَا وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ وَعَمْرُوبْنُ مُسْلِم اِلَى زَيْدِ بْنِِ اَرْقَمَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ فَلَمَّا جَلَسْنَا اِلَيْهِ قَالَ لَهُ حُصَيْنٌ :  لَقَدْ لَقِيْتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيْرًا رَاَيْتَ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعْتَ حَدِيْثَهُ وَغَزَوْتَ مَعَهُ وَصَلَّيْتَ خَلْفَهُ :  لَقَدْ لَقِيْتَ يَا زَيْدُ خَيْرًا كَثِيْرًا حَدِّثْنَا يَا زَيْدُ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :  يَا اِبْنَ اَخِيْ وَاللهِ لَقَدْ كَبِرَتْ سِنِّي وَقَدُمَ عَهْدِيْ وَنَسِيْتُ بَعْضَ الَّذِيْ كُنْتُ اَعِيْ مِنْ رَسوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا حَدَّثْتُكُمْ فَاقْبَلُوْا وَمَا لَا فَلَا تُكَلِّفُوْنِيْهِ ثُمَّ قَالَ : قَامَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فِيْنَا خَطِيْبًا بِمَاءٍ يُدْعَى خُمًّا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ فَحَمِدَ اللهَ وَاَثْنَى عَلَيْهِ وَوَعَظَ وَذَكَّرَ ثُمَّ قَالَ : اَمَّا بَعْدُ اَلَا اَيُّهَا النَّاسُ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ يُوْشِكُ اَنْ يَاْتِيَ رَسُوْلُ رَبِّيْ فَاُجِيْبَ وَاَنَا تَارِكٌ فِيْكُمْ ثَقَلَيْنِ :  اَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيْهِ الْهُدٰى وَالنُّوْرُ فَخُذُوْا بِكِتَابِ اللهِ وَاسْتَمْسِكُوْا بِهِ فَحَثَّ عَلَى كِتَابِ اللهِ  وَرَغَّبَ فِيْهِ ثُمَّ قَالَ : وَاَهْلُ بَيْتِيْ اُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِيْ اَهْلِ بَيْتِيْ اُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِيْ اَهْلِ بَيْتِيْ فَقَالَ لَهُ حُصَيْنٌ :  وَمَنْ اَهْلُ بَيْتِهِ يَا زَيْدُاَلَيْسَ نِسَاؤُهُ مِنْ اَهْلِ بَيْتِهِ؟ قَالَ :  نِسَاؤُهُ مِنْ اَهْلِ بَيْتِهِ وَلٰكِنْ اَهْلُ بَيْتِهِ مَنْ حُرِمَ الصَّدَقَةَ بَعْدَهُ قَالَ :  وَمَنْ هُمْ؟ قَالَ :  هُمْ آلُ عَلِيٍّ وَآلُ عَقِيْلٍ وَآلُ جَعْفَرٍ وَآلُ عَبَّاسٍ. قَالَ :  كُلّ ُهٰؤُلَاءِ حُرِمَ الصَّدَقَةَ؟ قَالَ :  نَعَمْ. ( [1] ) وَفِيْ رِوَايَةٍ : اَلَا وَاِنّي تَارِكٌ فِيْكُمْ ثَقَليْنِ :  اَحَدُهُمَا كِتَابُ اللهِ وَهُوَ حَبْلُ اللهِ مَنِِ اتَّبَعَهُ كَانَ عَلَى الهُدٰى وَمَنْ تَرَكَهُ كَانَ عَلَى ضَلَالَةٍ. ( [2] )

ترجمہ :  حضرتِ سَیِّدُنا یزید بن حیان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں ، حُصَیْن بن سَبْرَہ اور عَمرو بن مسلم ہم تینوں حضرت سَیِّدُنَا زید بن اَرْقَمْ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی خدمت میں حاضر ہوئے پس جب ہم ان کے پاس بیٹھ چکے تو حضرت سیدنا حُصَین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے کہا :  ’’اے زید !  آپ نے بہت بھلائی پائی کیونکہ آپ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت سے مشرف ہوئے ، آپ نے ان سے احادیث سنیں ، ان کے ساتھ غزوات میں شریک ہوئے اوران کی اقتداء میں نماز ادا کی ۔  اے زید !  آپ نے خیر کثیر پائی ، آپ ہمیں بھی وہ باتیں بتائیں جو آپ نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سنیں ۔  حضرت سَیِّدُنا زید بن ارقم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا :  ’’اے بھتیجے  !  خدا کی قسم ! میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور میرے اس یادگار زمانے کو مدت گزر گئی ہے اور جو کچھ حضور عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَام سے میں نے یاد کیا تھا اس میں سے بھی کچھ بھول گیا ہوں پس جو کچھ میں تم سے بیان کروں اسے قبول کرلو اور جو نہ بیان کرسکوں اس کے متعلق مجھے زحمت نہ دو ۔ ‘‘ پھر فرمایا کہ ایک دن رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مکہ و مدینہ کے درمیان خم نامی تالاب پر خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ۔  آپ عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَام نے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور لوگوں کووعظ و نصیحت فرمائی ۔  پھر ارشاد فرمایا :  ” خبردار !  اے لوگو !  میں ایک بشرہوں ، قریب ہے کہ میرے رب کا قاصد آجائے اور میں اس کا پیغام قبول کرلوں ۔  میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ رہا ہوں ۔  ان میں سے پہلی تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے ، تم اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی کتاب پر عمل کرو اور اسے مضبوطی سے تھام لو ۔ “ پھرآپ نے کِتَابُ اللہ پر عمل کرنے پر اُبھارا اور اس کی رغبت دلائی ۔ پھر ارشاد فرمایا :  ’’دوسرے میرے اہل بیت ہیں ، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلق اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈراتا ہوں ، میں تمہیں اپنے اہل بیت کے متعلق اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈراتا ہوں ۔ ‘‘ حضرت سیدنا حصین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے پوچھا : ’’اے زید !  اہل بیت کون ہیں؟ کیا ان میں ازواجِ مُطَہَّرات شامل نہیں؟  ‘‘   حضرت سیدنا زید بن اَرقم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا :  ’’ آپ کی ازواج بھی اہلِ بیت میں سے ہیں لیکن یہاں اہل بیت سے مراد وہ لوگ ہیں جن پر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد صدقہ لینا حرام ہے ۔ ‘‘ پوچھا : ’’ وہ کون ہیں؟  ‘‘   فرمایا :  ’’وہ آلِ علی ، آلِ عقیل ، آلِ جعفر اور آلِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ ہیں ۔ ‘‘ پوچھا : ’’ان سب پر صدقہ لینا حرام ہے ؟  ‘‘   فرمایا :  ’’ہاں ۔   ‘‘  ایک روایت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’سنو !  میں تم میں دو عظیم چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں ۔  ان میں سے ایک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی کتاب ہے جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رسّی ہے جو اس پر عمل پیرا ہوگا وہ ہدایت پر رہے گا اور جس نے اسے چھوڑ دیا وہ گمراہ ہوا ۔   ‘‘ 

نیک اَعمال میں شرکت باعث شرف :

مذکورہ حدیثِ پاک میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پاکیزہ کلام قرآنِ مجید اور حضور عَلَیْہِ الصَّلاۃُ وَالسَّلَام کے اہل بیت کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور اُن کے حقوق کی ادائیگی کا درس دیا گیا ہے ۔  حدیث پاک کی ابتدا میں بیان ہوا کہ حضرتِ سَیِّدُنا یزید بن حیان ، حُصَین بن سَبْرَہ اور عَمرو بن مسلم رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام تینوں حضرتِ سَیِّدُنا زید بن اَرْقَمْ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔  حُصَین



[1]     مسلم ، کتاب الفضائل ، باب من فضائل علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ، ص۱۳۱۲ ، حدیث : ۲۴۰۸ ۔

[2]     مسلم ، کتاب الفضائل ، باب من فضائل علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ ، ص۱۳۱۳ ، حدیث : ۲۴۰۸ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن