دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

ترجمہ : حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن شخیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  فرماتے ہیں کہ ’’میں حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا توآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز پڑھ رہے تھے اور ( خوفِ خدا سے ) رونے کی وجہ سے آپ کے سینہ مبارکہ سے ہنڈیا جیسی آواز آ رہی تھی  ۔   ‘‘ 

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پا ک میں  حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خوفِ خدا کا ذکر ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خوفِ خدا میں اس قدر روتے کہ سینہ مبارکہ سے اس طرح آواز آتی گویا کہ ہنڈیا کے ابلنے کی آواز ہو ، جب حضور نبی رحمت شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خوفِ خدا کا یہ عالَم ہے تو ہم جیسے  گناہ گارو بدکار تو خوفِ خدا سے رونے کے زیادہ حقدار ہیں ۔

 ایک میل تک سنائی دینے والی آواز :

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اِس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سینہ مبارکہ سے خوفِ خدا کے سبب رونے سے پیدا ہونے والی آواز اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ڈر اورعظیم خوف سے پیدا ہونے والی چیز ہے ، یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو آپ کے والد ماجد حضرت سیدنا ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے وراثت میں ملی ۔  سیدنا ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں منقول  ہے کہ ان کے سینے سے ) خوف خدا کے سبب نکلنے والی ) آواز ایک میل  دور تک سنائی دیتی ، اس سے ان کے کامل خوف ، خشیت اور خضوع کا ثبوت ملتا ہے ۔ ‘‘ ( [1] )

نماز میں خشوع وخضوع اختیار کرو :

عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی ” شرح ابو داؤد“میں فرماتے ہیں : ’’صاحب محیط نے مذکورہ حدیث پاک سے یہ استدلال کیاکہ نمازی کو چاہیے کہ نماز میں خشوع اختیا ر کرے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے عدل سے ڈرے جبکہ اُس کی رحمت سے اُمید میں رہے ، خوفِ شدید سے رونے سے مراد وہ رونا ہے جو عادۃًہو ، پس اگر کوئی خوفِ خدا یا جنت کی طلب  و جہنم کے خوف کے ذکر کی وجہ سے نماز میں بغیر آواز بلند کیے روئے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، جبکہ کسی مصیبت کی وجہ سے نماز میں رونا مکروہ ہے ۔ ‘‘ ( [2] ) عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی  ” مرقاۃ “میں  ” شرح منیہ“ کے حوالے سے فرماتے ہیں :  ’’جب کوئی نماز میں روئے اور وہ آواز ایسی ہو کہ جس کو سنا جا سکتا ہو اگر یہ آواز جنت و دوزخ کاذکر  سن کر نکلی تو نماز کو باطل نہیں کرے گی کیونکہ ایسی صورت میں یہ آواز بمنزلہ دعا ، طلبِ رحمت اور معافی مانگنے کے ہے اور اگر وہ آواز کسی درد یا مصیبت کی وجہ سے ہو تو نماز کو باطل کر دے گی کیونکہ اب یہ رونا  بمنزلہ شکایت کے ہے گو یا کہ وہ کہہ رہا ہے مجھے تکلیف ہے یا مجھے کوئی مصیبت پہنچی اور یہ لوگوں کا کلا م ہے جو کہ نماز کو فاسد کر دیتا ہے ۔ ‘‘ ( [3] )

رونے سے نماز کب ٹوٹے گی ؟

دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ بہارشریعت جلد1 ، حصہ3 ، صفحہ608پر  ہے :  ” آہ ، اوہ ، اُف ، تف ، یہ الفاظ درد یا مصیبت کی وجہ سے نکلے یا آواز سے رویا اور حرف پیدا ہوئے ، ان سب صورتوں میں نماز جاتی رہی اور اگر رونے میں صرف آنسو نکلے آواز و حروف نہیں نکلے تو حرج نہیں ۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں  : ’’جنت و دوزخ کی یاد میں اگر یہ الفاظ کہے ، تو نماز فاسد نہ ہوئی ۔ ‘‘

خوفِ خدا  نماز کو مقبول کرا دیتا ہے  :

          مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں :  ’’حضورِ انورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکا یہ رونا خوفِ خدایا عشق اِلٰہی  میں تھا یا اپنی امت کی شفاعت میں جیسا کہ بعض روایات میں ہے کہ حضورعَلَیْہِ السَّلَامتہجد پڑھ رہے تھے اور آیت( اِنْ تُعَذِّبْهُمْ) ۔ ۔ ۔  الآیۃ ، بار بار پڑھتے تھے اور روتے تھے یہ رونا رب تعالیٰ کو بہت پیارا ہے ، اب بھی جو نمازی حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے عشق یا خدا کے خوف سے نماز میں روئے تو نماز بڑی مقبول ہوتی ہے خصوصًا نماز تہجد ، ہاں دنیوی تکلیف سے نماز میں رونا منع ہے اور اگر اس میں تین حرف ادا ہوگئے تو نماز فاسد ہے ۔ ‘‘ ( [4] )

خوفِ خدا پیدا نہ ہونے کی وجہ :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! خوفِ خدا پیدا نہ ہونے کی وجہ کا ذکر کرتے ہوئے امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی ارشاد فرماتے ہیں  : ’’خوف گناہوں کی زیادتی کے سبب نہیں ہوتا بلکہ دلوں کی صفائی اور معرفت کے کامل ہونے کے سبب خوف پیدا ہوتا ہے ، ہم لوگوں کی بے خوفی کا سبب یہ نہیں کہ ہمارے گناہ کم اور نیکیاں زیادہ ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نفسانی خواہشات ہماری رہنمائی کرتی ہیں ، بد نصیبی ہم پر غالب  آ جاتی ہے اور ہمیں غفلت کا مشاہدہ کرنے سے روک دیتی ہے پھر نہ تو سفر ِآخرت کے مرحلے کا قریب ہونا ہمیں بیدار کرتا ہے ، نہ گناہوں کی کثرت ہمیں جھنجھوڑتی ہے ، نہ خائفین کے احوال سننے سے ہم پر خوف طاری ہوتا ہے اور نہ برے خاتمے کے خطرات ہمیں ڈراتے ہیں ، اگر عملی تیاری کے بغیر محض زبانی سوال کرنا نفع دے سکتا ہے تو ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے التجا کرتے ہیں کہ وہ اپنے فضل و کرم سے ہماری حالت کو درست فرما دے ۔   ‘‘ ( [5] )

 



[1]     دلیل الفالحین ، باب فی فضل البکاء من خشیۃ اللہ تعالی ، ۲ /  ۳۶۶ ، تحت الحدیث : ۴۵۰ ۔

[2]      شرح ابو داودللعینی ، کتاب الصلاۃ ، باب البکاء فی الصلاۃ ، ۴ / ۱۲۶ ،  تحت الحدیث : ۸۸۱ ۔

[3]     مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ  ، الفصل الثانی ، ۳ /  ۸۲ ، تحت الحدیث : ۱۰۰۰ ۔

[4]     مرآۃ المناجیح ، ۲ / ۱۳۹ ۔

[5]     احیاء العلوم ، ۴ / ۵۵۷ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن