دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

……٭جس مؤمن کی آنکھ سے مکھی کے پرکے برابر آنسو نکلیں پھر وہ آنسو اس کے چہرے کے ظاہری حصے کو پہنچیں تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اسے جہنم پر حرام فرمادیتا ہے ۔

……٭حضرت سیدنا ابراہیم خلیلُ اللہعَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو خوف خدا کے سبب اس قدر گریہ وزاری فرماتے کہ ایک میل کے فاصلے سے ان کے سینے میں ہونے والی گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دیتی تھی ۔

……٭جنت وودوزخ کے درمیان ایک گھاٹی ہے جسے وہی طے کرسکتا ہے جو بہت رونے والا ہو ۔

یہ ہنسنا کیسا ۔ ۔ ۔ ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہمیں دنیا میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے فقط اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے ، ہمیں نہیں معلوم کہ موت کا فرشتہ کب آکر ہماری روح قبض کرلے گا؟ ہمیں نہیں معلوم کہ اس دنیا سے ہم اپنا ایمان سلامت لے کر جاسکیں گے یانہیں؟ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ہماری قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگی یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا؟ ہم قبر میں آنے والے فرشتوں یعنی منکر نکیر کے سوالوں کے جواب بھی دے سکیں گے یا نہیں؟ہمیں نہیں معلوم کہ کل بروز قیامت ہمارا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے گایا بائیں ہاتھ میں؟ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم پل صراط سے بخیریت گزر جائیں گے یا نہیں؟ ہمیں جنت نصیب ہوگی یا ہمارا ٹھکانہ جہنم ہوگا؟  آہ ۔ ۔ ۔ جب ہمیں ان تمام باتوں کا علم نہیں تو پھر یہ غفلت کیسی؟ پھر یہ دنیا میں بے جا مشغولیت کیسی؟ پھر یہ بات بات پر ہنسنا اور قہقہے لگانا کیسا؟ پھر یہ نیکیوں سے دوری کیسی؟ پھر اپنے شب وروز گناہوں میں گزارنا کیسا؟

حضرت سَیِّدُنَا حسن بصری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ایک نوجوان کے پاس سے گزرے جو لوگوں کے ساتھ ایک مجلس میں بیٹھا ہوا ہنسنے میں مشغول تھا ۔ آپ نے اس سے ارشاد فرمایا : ’’اے نوجوان  !  کیا تو پل صراط سے گزر چکا ہے ؟  ‘‘  اس نے عرض کی  : ’’نہیں  ۔   ‘‘  آپ نے دریافت فرمایا : ’’کیا تو جانتا ہے کہ تو نے جنت میں جانا ہے یا تیرا ٹھکانہ دوزخ ہے ؟  ‘‘  نوجوان نے عرض کی  : ’’جی نہیں  ۔   ‘‘  ارشاد فرمایا : ’’تو پھر یہ ہنسنا کیسا؟  ‘‘  اس دن کے بعد کسی نے اس نوجوان کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ۔ ( [1] )

گناہوں نے میری کمر توڑ ڈالی                       ………    مرا حشر میں ہوگا کیا یا الٰہی

گناہوں کے اَمراض سے نیم جاں ہوں            ………    پئے مرشدی دے شفا یا الٰہی

میرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو                     ………    کر اِخلاص ایسا عطا یا الٰہی

عبادت میں گزرے مری زندگانی                 ………    کرم ہو کرم یا خدا یا الٰہی

مدنی گلدستہ

’’بیت المقدس  ‘‘  کے 9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور

 اس کی وضاحت سے ملنے والے 9مدنی پھول

(1)   حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبر و حشر اور جہنم کے عذاب کو جانتے ہیں ۔

(2)   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مخلوق میں سب سے زیادہ خوف خدا رکھنے والے ہیں ۔

(3)   آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے خوف سے بہت رویا کرتے تھے ، آپ نے کبھی بھی قہقہہ نہیں لگایا بلکہ فقط مسکرایا کرتے تھے ۔

(4)   حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جہنم  کے عذاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :  ’’جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم لوگ وہ جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے ۔   ‘‘ 

(5)   عذابِ الٰہی کے خوف سے رونا صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْکی سنت ہے  ۔

(6)   خوفِ خدا سے رونے کی بہت فضیلت بیان فرمائی گئی ہے ، خوفِ خدا سے رونے والے کی مغفرت کردی جاتی ہے  ۔

(7)   قبروحشر کی ہولناکیوں اور قیامت کی دشوار گزار گھاٹیوں سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ مانگنی چاہیے ۔

(8)   جنت ودوزخ کے درمیانی گھاٹی کو وہی پارکرسکتا ہے جو خوف خدا سے زیادہ رونے والا ہو ۔

(9)   جب ہمیں اپنی آخرت کے بارے میں معلوم نہیں تو خوف خدا پیدا کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ رونا چاہیے ، نیکیوں پر کمربستہ ہونے اور گناہوں سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

          اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  سے دعا ہے کہ وہ ہمیں  ہر طرح کے عذاب سے اپنے حفظ و امان میں رکھے ، قبر وحشر کی ہولناکیوں اور جہنم کے عذابات سے محفوظ فرمائے ، ہماری حتمی مغفرت فرمائے ۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر :  448                                                                                                                                                         خوفِ خدا سے رونے والا داخل جہنم نہ ہوگا

عَن اَبي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :  لَا يَلِجُ النَّارَ رَجُلٌ بَكٰى مِنْ خَشْيَةِ اللهِ حَتّٰى يَعُوْدَ اللَّبَنُ فيِ الضَّرْعِ وَلَا يَجْتَمِعُ غُبَارٌ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَدُخَانُ



[1]     احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ، بیان احوال الصحابۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۴ /  ۲۲۷ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن