30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) جب قراءت سننے والے کو کوئی عذرپیش آئے یا وہ کسی دوسرے کام میں مشغول ہو نا چاہے تو قاری کو قراءت سے روک سکتا ہے ۔
(2) قرآنِ پاک کی مختلف آیات میں وعظ ونصیحت کا بیان ہے لہٰذا اس کی تلاوت کرتے ہوئے حتی المقدور ترجمہ وتفسیر کے ذریعے اس سے وعظ ونصیحت کے مدنی پھول حاصل کیے جائیں ۔
(3) افضل یعنی فضیلت والا مفضول یعنی جس پر اسے فضیلت ہے اس سے تلاوتِ قرآن یا کوئی دوسری وعظ ونصیحت کی بات حاصل کرسکتا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں قرآنِ پاک کی تلاوت کرنے ، اسے سننے اور اس میں موجود وعظ و نصیت کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 447 تم لوگ ہنستے کم اور روتے زیادہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم خُطْبَةً مَا سَمِعْتُ مِثْلَهَا قَطُّ فَقَالَ : لَوْ تَعْلَمُونَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيْلًاوَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا. قَالَ : فَغَطَّى اَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وُجُوهَهُمْ وَ لَهُمْ خَنِينٌ . ( [1] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں ایسا خطبہ ارشاد فرمایا کہ اُس جیسا خطبہ ہم نے پہلے کبھی نہیں سنا ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم لوگ وہ جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے ۔ “حضرت سَیِّدُنَا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ” پھر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے اپنے چہرے ڈھانپ لیے اور ہچکیاں لے لے کر رونے لگے ۔ “
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قبر و حشر اور جہنم کے عذاب سے لوگوں کو ڈراتے ہوئے خطبہ ارشاد فرمایاکہ ” جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم لوگ وہ جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے ۔ “یعنی قبر و حشر کی ہولناکیاں اور جہنم کے عذابات اس قدر اذیت ناک ہیں کہ اگر تم لوگ اِن عذابات کو جان لوکہ جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے گناہ گاروں کے لئے تیار کر رکھے ہیں تو خوف کے مارے بہت کم ہنسو اور زیادہ رؤ و ۔ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتْمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی قیامت کے خوف و دہشت ، دوزخ کے عذاب ، اللہتعالیٰ کی پکڑ ، عالم غیب کے اسرار جتنے مجھے معلوم ہیں تم کو اُن کا لاکھواں حصہ بھی حاصل نہیں ، نیز تم کو جس قدر علم ہے وہ ہم سے سن کر ہے ، ہم کو علم ہے دیکھ کر اور دیکھے سنے علم میں فرق ہے ۔ اگر تم کو وہ چیزیں معلوم ہوجائیں یا تو تم ہنسنا بھول ہی جاؤ یا ہنسو بہت کم اور ڈرو بہت زیادہ ، تم پر خوف کا غلبہ ہوجاوے ۔ ‘‘ ( [2] )
خوفِ خدا کے سبب ہنسی کی کمی اور رونے کی زیادتی :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! قبر کی تاریکیاں ، حشر کی ہولناکیاں اور دشوار گزار گھاٹیاں واقعی ایسی ہیں کہ ان کا کوئی بھی تصور نہیں کرسکتا ۔ حضور نبی اکرم نورِ مجسم شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تو سب کچھ پہلے ہی ملاحظہ فرمالیا ہے ، جبھی تو آپ پر خوفِ خدا کی کیفیت طاری رہتی تھی ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہنستے کم اور روتے زیادہ تھے ، آپ نے کبھی بھی قہقہہ نہیں لگایا ، فقط مسکراتھے تھے ۔ کاش ہمارے اندر بھی خوفِ خدا پیدا ہوجائے جس کے سبب ہماری ہنسی میں کمی آجائے اور رونے میں زیادتی پیدا ہوجائے ۔ مذکورہ حدیث پاک کی تفصیلی شرح باب نمبر50 کی حدیث نمبر401کے تحت گزر چکی ہے ، تفصیل کے لیے اسی کا مطالعہ کیجئے ، جبکہ اُس تفصیلی شرح کا خلاصہ یہاں پیش خدمت ہے :
……٭حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جنت کی خیر اور جہنم کے شر کو ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا کہ جو کچھ میں جانتا ہوں اگر تم جان لیتے تو کم ہنستے اور زیادہ روتے ۔
……٭حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے قہروجلال ( جیسے قبر وحشر کی ہولناکیاں ، قیامت کی دشوار گزار گھاٹیاں ، جہنم کی پرخار وادیاں وغیرہ ) کا سب سے زیادہ مشاہدہ کیا ہے اس لیے آپ ہی سب سے زیادہ خوفِ خدا رکھنے والے ہیں ۔
……٭جب سے جہنم کو پیدا کیا گیا ہے تب سے سیدنا جبریل وسیدنا میکائیل عَلَیْہِمَا السَّلَام نہیں ہنسے ۔
……٭صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بہت خوف رکھتے تھے ، بعض صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تو خوفِ خدا سے اتنا روتے تھے کہ ان کے چہروں پر رونے کے سبب سیاہ لکیریں بن گئی تھیں ۔
……٭ خوفِ خدا کے سبب رونے والے کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ مغفرت فرمادیتا ہے بلکہ ایک مبلغ کی اس لیے بخشش ہوگئی کہ اس کے بیان کو سن کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے خوف سے ایک ایسا شخص بھی روپڑا جو اپنی پوری زندگی میں کبھی بھی خوفِ خدا سے نہ رویا تھا ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع