دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

ہے ۔ ‘‘ ( [1] ) عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذِی الْجَلَال فرماتے ہیں :  ’’حدیث پاک میں  اس با ت کا جوازہے کہ جب قراءت سننے والے کو کوئی عذر لَاحَقْ ہو یا وہ کسی کام میں مشغول ہو جائے تو قاری کو قرات سے روک دے کیونکہ قراءت سننے والے کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کے معانی میں غور و فکر کرے اور اس کے عجائبات کو سمجھے اور یہ بھی احتمال ہے کہ آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے قاری کو اس وجہ سے روکا تا کہ آیت میں آنے والی نصیحت پر تنبیہ ہوکہ اس آیت کی تلاوت کے وقت آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی چشمانِ مبارک سے آنسو جاری ہو گئے تھے ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے رونے میں آیت میں موجود نصیحت کی طرف اشارہ ہے ۔ ‘‘ ( [2] )

سب سے زیادہ رحمت و شفقت کرنے والے  :

شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث پا ک کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس آیت کا معنیٰ یہ ہے کہ پروردگارِعالم فرماتا ہے  : ان کا فروں کا کیا حال ہوگا جبکہ ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے ۔  یعنی ہر امت کا پیغمبر اپنی امت کے خلاف فسادِعقائد اور بُرے اعمال کے بارے میں  گواہی دے گا اور اے محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! تمہیں ہم ان تمام پیغمبروں پر گواہ لائیں گے ۔ آپ گواہی دیں گے کہ یہ سب پیغمبر اپنی امتوں کے خلاف گواہی دینے میں سچے ہیں یا اے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  آپ اپنی اُمَّت پر گواہی دیں گے جب کہ آپ کی امت دوسری امتوں کے بارے میں گواہی دے گی  ۔ اس آیت سے مقصود قیامت کا دن یاد دلانا ہے کہ عجب سخت دن ہو گا جبکہ امتوں کو پکڑا جائے گا اور پیغمبر ان کے خلاف گواہی دیں گے ۔ حضور نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کارونا اور گریہ کرنا قیامت کے ڈر کے تصور اور لوگوں کے حالات کی سختی کی وجہ سے تھا کیونکہ پیغمبر عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ساری مخلوق پر سب سے زیادہ رحمت اور شفقت فرمانے والے ہیں  ۔ ‘‘ ( [3] )

قرآن پڑھ کر یا سن کر رونا سنت ہے  :

’’سَیِّدُنَا ابنِ مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف دیکھا تو آپ کی چشمان مبارکہ سے آنسو جاری تھے ۔ ‘‘ اس کے تحت  ” مرآۃ المناجیح“ میں ہے :  ” یعنی حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مبارک آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگی ہوئی تھی یا تو ہیبت الٰہی سے قیامت کے اس مقدمہ کے تصور سے یا اپنی امت پر رحمت کی وجہ سے ۔ مرقات نے فرمایا کہ اس آیت پر بعض لوگ بے ہوش ہوگئے اور بعض حضرات مر بھی گئے ۔ معلوم ہوا کہ قرآن شریف پڑھ کر یا سن کر رونا سنت ہے بشرطیکہ بناوٹ سے نہ ہو ۔ بیہقی شریف میں ہے کہ قرآن کریم غم و رنج لیے ہوئے آیا ہے ، اس لیے تم اس کی تلاوت پر روؤ  ۔ ‘‘ ( [4] )

سیدنا یحیٰی عَلَیْہِ السَّلَامکی گریہ وزاری :

حضرت سَیِّدُنا یحیی عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامجب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو ( خوفِ خدا سے ) اس قدر روتے کہ درخت اور مٹی کے ڈھیلے بھی آپ کے ساتھ رونے لگتے حتّٰی کہ آپ کے والدِ محترم حضرت سَیِّدُنا زکریا عَلَیْہِ السَّلَامبھی آپ کو دیکھ کر رونے لگتے یہاں تک کہ بے ہوش ہو جاتے ۔ حضرت سَیِّدُنَا یحییٰ عَلَیْہِ السَّلَامکی گریہ وزاری کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک آنسوؤں نے آپ کے مبارک رخسار وں کے گوشت کو پھاڑ دیا جس کے سبب دیکھنے والوں کو آپ کی داڑھیں نظر آتی تھیں ۔ یہ دیکھ کر آپ کی والدہ ماجدہ نے اونی کپڑے کے دو ٹکڑے لے کر آپ کے رخساروں پر چپکا دیئے ۔ اس کے باوجود جب آپ دوبارہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو پھر رونا شروع کر دیتے ، جس کے نتیجے میں وہ اونی کپڑے کے ٹکڑے  بھیگ جاتے ۔  جب آپ کی والدہ انہیں خشک کرنے کے لئے نچوڑتیں اور آپ اپنے آنسوؤں کے پانی کو اپنی ماں کے بازو پر گرتا ہوا دیکھتے تو بارگاہِ الٰہی عَزَّ  وَجَلَّ میں یوں عرض گزار ہوتے : ’’اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ !  یہ میرے آنسو ہیں ، یہ میری ماں ہے اور میں تیرا بندہ ہوں جبکہ تو سب سے بڑھ کر  رحم فرمانے والا ہے ۔ ‘‘ ( [5] )

مرے اَشک بہتے رہیں کاش ہر دم                 ………    ترے خوف سے یا خدا یاالٰہی

ترے خوف سے تیرے ڈر سے ہمیشہ               ………    میں تھرتھر رہوں کانپتا یا الٰہی

مدنی گلدستہ

’’خوفِ خدا  ‘‘  کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور  اور

اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول

(1)   تلاوتِ قرآن سن کر خوفِ خدا سے رونا سنت ہے کہ حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی تلاوتِ قرآن سن کر خوفِ خدا سے رویا کرتے تھے ۔

(2)   حضور نبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہت شفیق ومہربان ہیں ، اسی وجہ سے روزِ قیامت مختلف لوگوں کی سختی کو یاد کرکے آپ کی چشمان مبارکہ سے آنسو جاری ہوگئے ۔

(3)   حدیث پا ک میں دوسرے سے قرآن پاک سننے کا استحباب ہے کہ دوسرے سے سننایہ آیت میں غور و فکر کرنے اور اس کو سمجھنے میں آسانی پیدا کرتا ہے جبکہ خود قراءت کرنے والا الفاظ کی کما حقہ ادائیگی میں مشغولیت کی وجہ سے اس طرح کا غور و فکر نہیں کر سکتا ۔  

 



[1]     دلیل الفالحین ، باب فضل البکاء من خشیۃ اللہ تعالی ، ۲ /  ۳۶۱ ، تحت الحدیث : ۴۴۶ ۔

[2]     شرح بخاری لابن بطال ، کتاب  فضائل القرآن ، باب قول المقرئی للقاری ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱۰ /  ۲۷۸ ۔

[3]      اشعۃ اللمعات ، کتاب  فضائل قرآن ، باب  آداب تلاوت ، ۲  / ۱۶۰  ۔

[4]      مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۲۶۷ ۔

[5]      احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ، بیان احوال الانبیاء ۔ ۔ ۔ الخ ، ۴ / ۲۲۵ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن