دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

رب تعالیٰ جس پر چاہے اپنا فضل فرمادے اور اس کو دنیا وآخرت کی بھلائیاں عطا فرمادے ۔  بدکار مردے کا حال اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ذات سے کبھی بھی بے خوف نہیں ہونا چاہیے ، ہروقت خوفِ خدا میں لرزاں وترساں رہنا چاہیے کہ ربّ تعالیٰ کا غضب  اور جلال جس شخص پر نازل ہوتا ہے وہ دنیا وآخرت میں ذلیل وخوار ہوجاتا ہے ، تباہی وبربادی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کا مقدر بن جاتی ہے لہٰذا بندے کو چاہیے کہ ربّ تعالیٰ کی رحمت سے اُمید بھی رکھے اور اس کی ذا ت کا خوف بھی رکھے ۔  یہ باب بھی چونکہ خوفِ خدا اور  اُمید دونوں کو جمع کرنے کے بارے میں ہے ۔  اسی لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔

نیک شخص کا جنتی مقام کو دیکھنا :

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’جب نیک شخص مرجاتاہے تووہ جنت میں اپنا اعلیٰ مقام دیکھ رہا ہوتاہے اورو ہ زبانِ حال سے یہ کہہ رہاہوتاہے کہ مجھے میری منزل تک جلدی لے چلو ۔  میت کایہ کلام کرناحقیقتاً بھی ہوسکتا ہے کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس بات پرقادرہے کہ وہ مردے کواس طرح زندہ کردے جس طرح وہ قبرمیں سوال وجواب کے لیے زندہ کیا جاتاہے اورسرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ منکرنکیر کے قبر میں آنے سے پہلے مردہ سنتاہے جیساکہ حدیث پاک میں ہے کہ  ” مردہ دفن کرکے جانے والوں کی جوتوں کی آوازسنتا ہے پھر اس کے پاس ( منکرنکیر ) دو فرشتے آتے ہیں ۔ “حضرت سیدنا ابو سعیدخدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :  ’’ میت اپنے غسل دینے والے ، اٹھانے والے ، کفن دینے والے اور قبر میں اتارنے والے سب کو پہچانتی ہے ۔ ‘‘ ( [1] )

مُردے کاجوتوں کی آہٹ سننا :

مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :  ’’جنازے سے مراد میت ہے اور اس کے رکھے جانے سے مراد گھر سے باہر نکال کر لوگوں کے سامنے قبرستان لے جانے کے لیے رکھا جانا ہے ۔ ظاہر یہی ہے کہ مُردہ بزبانِ قال یہ گفتگو کرتا ہے کیونکہ اسے نزع میں ہی اپنے آئندہ حال کا پتہ چل جاتا ہے ، اب اسے یہاں ٹھہرنا وبال معلوم ہوتاہے ۔  اس لیے کہتا ہے  : جلدی پہنچاؤ ۔ ‘‘ ( [2] )

اعمال کے سبب خوف میں مبتلا ہونا :

مذکورہ حدیث پاک میں بیان ہوا کہ نیک و صالح انسان وفات کے بعد اپنی آخری منزل کی طرف جانے کے لیے بیتاب ہوتا ہے جبکہ گنہگار و بدکار کافر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے ہیبت و خوف میں مبتلا ہوتا ہے ۔  علامہ غلام رسول رضوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ کافر یہ جانتاہے کہ اس نے کوئی نیک کام نہیں کیااوراس کا آگے جانامصائب وبليات میں داخل ہوناہے ۔ اس لیے وہ آگے جانے کوبراجانتاہے اور واویلا کرتاہے اس کایہ واویلا اگر انسان سن لیں تو اس کی دہشت سے بے ہوش ہوجائیں ۔ ‘‘ ( [3] )

مُردے کی دردناک پکار :

حدیث پاک کے آخر میں بیان ہوا کہ اگر مردے کی یہ آواز انسان سن لیں تو وہ بے ہوش ہوجائیں مردے کی یہ آواز ” جانور ، فرشتہ ، کنکر ، پتھر سب سنتے ہیں انسان کو اس لیے نہ سنائی گئی کہ اولاً تو اس میں اس آواز کی برداشت کی طاقت نہیں ۔ دوسرے اس پر ایمان بالغیب لازم ہے اگر وہ آواز سن لے تو ایمان بالغیب نہ رہے ۔ “ ( [4] )

مولاعلی اور ایک قبر کے احوال :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ مردے کی آوازانسان کے علاوہ ہرچیز سن لیتی ہے لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے محبوب بندوں میں سے جسے چاہے یہ آواز سنا دیتا ہے چنانچہ ایک بار امیر المؤمنین حضرتِ سیدنا علی المرتضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم زِیارتِ قُبُور کے لئے کوفہ کے قَبرِ ستان تشریف لے گئے ۔  وہاں ایک تازہ قَبرپر نظر پڑی ۔ آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو اُس کے حالات معلوم کرنے کی خواہِش ہوئی ۔ چُنانچِہ بارگاہِ خُداوندی عَزَّ  وَجَلَّمیں عَرض گُزار ہوئے : یااللہ عَزَّ  وَجَلَّ !  اِس مَیِّت کے حالات مجھ پر مُنْکَشِف ( یعنی ظاہِر ) فرما ۔   ‘‘  اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی بارگاہ میں آپ کی اِلتجاء فوراً مَسْمُوع ہوئی ( یعنی سُنی گئی ) اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ کے اور اُس مُردے کے درمیان جتنے پردَے حائل تھے تمام اٹھا دیے گئے ۔ اب اس قَبر کا بھیانک منظر آپ کے سامنے تھا ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ مُردہ آگ کی لپیٹ میں ہے اور رو روکرآپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے اِس طرح فریادکررہا ہے : ’’یَاعَلِیُّ ! اَنَا غَرِیْقٌ فِی النَّارِ وَحَرِیْقٌ فِی النَّارِ یعنی اے مولا علیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم !  میں آگ میں ڈوبا ہوا ہوں اور آگ میں جل رہا ہوں ۔ ‘‘ قَبْر کے دَہشتناک منظر اور مُردے کی درد نا ک پُکار نے حیدرِ کرّارکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکو بے قرار کر دیا ۔ آپ نے اپنے رَحمت والے پروَردگار عَزَّ  وَجَلَّکے دربار میں ہاتھ اُٹھادئیے اور نہایت ہی عاجِزی کے ساتھ اُس مَیِّت کی بخشش کیلئے درخواست پیش کی ۔ غیب سے آواز آئی : ’’اے علی ( کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم )  ! آپ اِس کی سِفارش نہ ہی فرمائیں کیوں کہ روزے رکھنے کے باوُجُودیہ شخص رمضان المبارک کی بے حُرمتی کرتا ، رمضان المبارک میں بھی گُناہوں سے بازنہ آتا تھا ۔ دن کو روزے تو رکھ لیتا مگر راتوں کو گُناہوں میں مبْتَلارہتا تھا ۔   ‘‘  مَولائے کائِنا ت سیدناعلیُّ المُرتَضٰی شیرِ خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم یہ سُن کر اور بھی رنجیدہ ہوگئے اور سَجدے میں گِر کر رو رو کر عرض کرنے لگے : ’’ یااللہ عَزَّ  وَجَلَّ ! میری لاج تیرے ہاتھ میں ہے ، اِس بندے نے بڑی اُمّید کے ساتھ مجھے پُکارا ہے ، میرے مالِک عَزَّ  وَجَلَّ !  تُو مجھے اِس کے آگے رُسوا نہ فرما ، اِ س کی بے بَسی پر رَحم فرمادے اور اِس بیچارے کو بَخش دے ۔   ‘‘  سیدنا مولا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم رو روکر مُناجات کر رہے تھے ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی رَحمت کا دریا جوش میں آ یا اور نِدا آئی : ’’اے علی ! ہم



[1]     مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الجنائز ، باب المشی بالجنازۃ  والصلوۃ  علیھا ، ۴ / ۱۳۳ ، تحت الحدیث : ۱۶۴۷ ملخصًا ۔

[2]     مرآۃ المناجیح ، ۲ / ۴۶۶ ۔

[3]     تفہیم البخاری ، ۲ / ۳۷۴ ۔

[4]     مرآۃ المناجیح ، ۲ / ۴۶۷ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن