30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہلکی ۔ اس لئے جب وہ جنت کو مع ان نیکیوں کے چلے گا تواس پر بوجھ کچھ نہ ہوگا بلکہ وہ بعض نیکیوں پر خود سوار ہوگا جیسے قربانی ۔ مگرکافرکے گناہ ترازومیں بھی وزنی اور اس کے کندھے پر بھی بوجھل ، دیکھوپانی کے حوض میں بیٹھنے والے پرپانی کاکوئی بوجھ نہیں ہوتامگرمشک بھر لو تو اس میں وزن ہوتاہے ۔ !آٹھویں یہ کہ ہرقسم کے اَعمال کا علیحدہ وزن ہوگا ۔ جس کی نیکیاں ہلکی ہوں اس کاٹھکانہ دوزخ ہے یا اس طرح ہلکی ہوں کہ ان میں بالکل ہی وزن نہ ہو جیسے کفار کے صدقہ وخیرات وغیرہ یا ان میں وزن توہومگر گناہوں سے کم جیسے بعض گناہگار مسلمانوں کی تھوڑی نیکیاں ۔ خیال رہے کہ قیامت میں وزنی پلہ اونچاہوگا اورہلکاپلہ نیچا دنیا کے برعکس اور جس کے دونوں پلے برابر ہوں گے ان پر رب کرم فرمائے گا ۔ ” جس کی تولیں ہلکی پڑیں وہ نیچا دکھانے والی گود میں ہے ۔ “دوزخ کے نیچے طبقہ میں جس کانام ہاویہ ہے جہاں عذاب بہت سخت ہے جس سے دوزخ کے دوسرے طبقے بھی پناہ مانگتے ہیں یا ھَاوِیَہلغوی معنیٰ میں ہے یعنی گہراطبقہ ۔ ھَوٰی بمعنی گرنا ۔ خیال رہے کہ ھَاوِیَہطبقے میں صرف بعض کفاررہیں گے ۔ شانِ نزول : ایک باربنی عبدمناف اور بنی سہم میں خاندانی بڑائی پرمناظرہ ہوا ، ہرایک نے کہا کہ ہم تم سے مال ، پیشہ ، مہمان نوازی ، عزت وتعدادمیں زیادہ ہیں ۔ بنی عبدمناف کی تعدادزیادہ نکلی ۔ بنی سہم بولے کہ زندے مُردے ملاکرشمارکرو ۔ ہمارے مردے مل کرہم تم سے زیادہ ہیں ۔ یہ کہہ کردونوں قبرستان گئے اور قبروں کی طرف اشارے کرکے کہنے لگے کہ یہ ایسی شان کا مالک تھا ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی ۔ ‘‘ ( [1] )
گناہوں سے بھرپور نامہ ہے میرا ……… مجھے بخش دے کر کرم یا الہی
تُلیں میرے اعمال میزاں پہ جس دم ……… پڑے اک بھی نیکی نہ کم یا الہی
آیات مبارکہ کی باب سے مناسبت :
اس آیت مبارکہ میں اس بات کا بیان ہے کہ کل بروزِ قیامت نیک اور پرہیزگار لوگوں کے اعمال وزنی ہوں گے جس کے سبب وہ عیش میں ہوں گے ۔ جبکہ کفار وبدکار لوگوں کے اعمال ہلکے ہوں گے جس کے سبب وہ جہنم کی وادیوں میں ہوں گے ۔ پچھلی آیات میں اس بات کا بیان ہوا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے امید اور اس کی ذات سے خوف رکھنے والے مؤمنین ہیں ، نیز کفار نہ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے امید رکھتے ہیں ، بلکہ مایوس ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کی ذات سے خوف رکھتے ہیں ۔ تو گویا ان آیات مبارکہ میں ضمناً یہ بیان ہوگیا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے مایوس اور اس کا خوف نہ رکھنے والے کفار کے اعمال کل بروزِ قیامت ہلکے ہوں گے جس کے سبب وہ جہنم کی وادیوں میں داخل ہوں گے ، ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیں گے جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے امید رکھنے والے اور اس کی ذات سے ڈرنے والے مؤمنین کے اعمال وزنی ہوں گے جس کے سبب وہ عیش میں ہوں گے ، اَمن وسکون اور چین میں ہوں گے ، جنت میں داخل کیے جائیں گے ۔ یہ باب بھی چونکہ خوف اور امید دونوں کو جمع کرنے کے بارے میں ہے ۔ اسی لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ آیت مبارکہ اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 443 ربّ تعالٰی کا عذاب اور اس کی رحمت
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَوْ يَعْلَمُ الْمُؤْمِنُ مَا عِنْدَ اللهِ مِنَ الْعُقُوْ بَةِ مَا طَمِعَ بِجَنَّتِهِ اَحَدٌ وَلَوْ يَعْلَمُ الْكَافِرُ مَا عِنْدَ اللهِ مِنَ الرَّحْمَةِ مَا قَنِطَ مِنْ جَنَّتِهِ اَحَدٌ. ( [2] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’اگرمؤمن جان لیتا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پاس کتناعذاب ہے توکوئی بھی اس کی جنت کی امید نہ رکھتا اوراگر کافرجان لیتاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پاس کتنی رحمت ہے تو اس کی جنت سے کوئی ناامید نہ ہوتا ۔ ‘‘
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت اور اس کے عذاب کی کثرت کوبیان کرنامقصودہے تاکہ مؤمن اس کی رحمت پراعتماد نہ کربیٹھے اور اس کے عذاب سے بالکل بے خوف نہ ہوجائے ۔ کافراس کی رحمت سے نااُمیدی اختیارنہ کرے اور توبہ کرنا نہ چھوڑے ۔ حدیث پاک کا حاصل یہ ہے کہ بندے کوچاہیے کہ خوف و امید کے درمیان رہے ۔ یعنیاللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت پر اُمیدبھی رکھے اور اُس کے عذاب سے ڈرتا بھی رہے ۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : اگر قیامت کے دن یہ اعلان کیاجائے کہ ایک ہی شخص جنت میں داخل ہوگا تو مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت سے امیدہے کہ وہ شخص میں ہی ہوں ۔ اسی طرح اگر یہ اعلان کیا جائے کہ ایک ہی شخص جہنم میں جائے گا تو خوف خدا کے سبب میں یہ گمان کروں گاکہ وہ ایک شخص بھی میں ہی ہوں ۔ زندگی میں بندے پرخوف غالب ہوناچاہیے اورموت کے وقت امید ۔ ‘‘ ( [3] )
خوف وامید کے درمیان رہنا چاہیے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع