دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

انہوں نے عرض کیا :  نہیں ۔  اس سے بھی آپ کو ان کی زندگانی کا اطمینان ہوا اور آپ نے اپنے فرزندوں  سے فرمایا :  ’’اے بیٹو !  جاؤ اوریوسفعَلَیْہِ السَّلَام کا پتہ لگاؤاوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی  رحمت سے ناامید نہ ہونا کیونکہ اس کی رحمت سے کافرہی ناامید ہوتے ہیں ۔ ‘‘ ( [1] ) عَلَّا مَہ عَلَاءُ الدِّیْن عَلِی بِنْ مُحَمَّد خَازِن رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’بیشک مؤمن اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بھلائی کی امید رکھتاہے ، مصیبتوں کے وقت صبرکرتا ہے اورخوش حالی کے وقت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہے جبکہ کافر نہ تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے بھلائی کی امیدرکھتاہے ، نہ ہی مصیبتوں پر صبرکرتا ہے اور نہ ہی وہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی حمدو ثنا بیان کرتاہے ۔ ‘‘ ( [2] )

آیت مبارکہ کی باب سے مناسبت :

مذکورہ آیت مبارکہ میں اس بات کا بیان ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے کافر لوگ مایوس ہوتے ہیں ، ضمناً یہ بھی بیان ہوگیا کہ مؤمنین اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتے بلکہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے امید رکھتے ہیں ۔ یہ باب بھی خوف خدا سے ڈرنے اور رحمت الٰہی سے اُمید رکھنے دونوں کو جمع کرنے کے بارے میں ہے ۔ اسی لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ آیت مبارکہ اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔

 ( 3 ) روشن اور سیاہ چہرے والے

ربّ کریم ارشاد فرماتا ہے :

یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌۚ- ( پ۴ ، آل عمران : ۱۰۶ )                  ترجمۂ  کنزالایمان  : جس دن کچھ منہ اونجالے ( چمکتے ) ہوں گے اور کچھ منہ کالے ۔

عَلَّا مَہ عَلَاءُ الدِّیْن عَلِی بِنْ مُحَمَّد خَازِن عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَاطِنْ  اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اُس دن کویادکروجس دن مؤمنوں کے چہرے روشن اورکافروں کے چہرے سیاہ ہوں گے ۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ  اہل سنت کے چہرے روشن اوراہل بدعت کے چہرے سیاہ ہوں گے ۔ جبکہ بعض کاقول یہ ہے کہ مخلص لوگوں کے چہرے روشن ہوں گے اور منافقوں کے چہرے کالے ہوں گے ۔ چہرے کے روشن اورسیاہ ہونے میں مفسرین کے دو قول ہیں :  ( 1 ) پہلاقول یہ ہے کہ چہرے کے روشن ہونے سے خوشی اورمسرت مراد ہے اور سیاہ ہونے سے غم اور پریشانی مرادہے ۔  ( 2 ) دوسراقول یہ ہے کہ چہرے کے روشن اور سیاہ ہونے سے حقیقی طورپرروشن اور سیاہ ہونامرادہے ۔ کہ مؤمنوں کے چہرے روشن ہوں گے اور انہیں نور کا لباس پہنایاجائے گا ، جبکہ کافروں کے چہرے سیاہ ہوں گے اورانہیں ظلمت کالباس پہنا یا جائے گا ۔ قیامت کے دن اہل محشر جب ایمان والوں کے چہرے روشن دیکھیں گے تو وہ پہچان لیں گے کہ یہ سعادت منداور خوش بخت لوگوں میں سے ہیں اور جب کافروں کے چہرے  سیاہ دیکھیں گے تو پہچان لیں گے کہ یہ اہل شقاوت اور بدبخت لوگوں میں سے ہیں ۔ ‘‘ ( [3] )

آیت مبارکہ کی باب سے مناسبت :

مذکورہ آیت مبارکہ میں قیامت کے دن کافروں اور مؤمنوں کی جو حالت ہوگی ا س کا بیان ہے کہ کافروں کے منہ کالے ہوں گے اور مؤمنین کے چہرے اجالے ہوں گے اور پچھلی آیت مبارکہ میں بیان ہوا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے فقط کافر ہی مایوس ہوتے ہیں ۔  گویا ضمناً اس آیت مبارکہ میں یہ بھی بیان ہوگیا کہ رحمت الٰہی سے مایوس اور خوف خدا نہ رکھنے والے کافروں کے چہرے کل بروزِ قیامت سیاہ ہوں گے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے امید رکھنے والے اور خوف خدا کرنے والے مؤمنین کے چہرے منور ہوں گے ۔  یہ باب بھی خوف خدا سے ڈرنے اور رحمت الٰہی سے اُمید رکھنے دونوں کو جمع کرنے کے بارے میں ہے ۔  اسی لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ آیت مبارکہ اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔

 ( 4 ) اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بخشنے والامہربان ہے

قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد ہوتا ہے :  

اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ ۚۖ-وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۱۶۷) ( پ۹ ، الاعراف : ۱۶۷ )

ترجمۂ  کنزالایمان  :  بے شک تمہارا رب ضرور جلد عذاب والا ہے اور بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’آخرت کاعذاب یہودیوں پراِس دنیاوی عذاب کے علاوہ ہوگاجوان کی موت سے شروع ہوگا ۔ عذابِ موت ، پھر عذابِ قبر ، پھر عذابِ حشر ، پھر عذابِ صراط ، پھر عذابِ دوزخ ۔  پچھلے عذاب تو ہوتے اور ختم ہوتے رہیں گے ، لیکن دوزخ کاعذاب ہمیشہ ہوگا ۔ یہ نہ سمجھوکہ یہ واقعات دورہیں ، نہیں !  بلکہ قریب ہیں قیامت قریب ہے اوریہ تمام رسوائیاں ، ذلت اور سخت سزا اُن کے لیے ہے جو کفر پرمرجائیں لیکن جویہودی ایمان قبول کر لیں تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّاُن کے لیے غفوربھی ہے کہ ان کے سارے گذشتہ گناہ معاف فرما دے گااور وہ رحیم بھی ہے انہیں آئندہ اپنی رحمتوں کرم نوازیوں سے نوازے گا ۔ ‘‘ ( [4] )

آیت مبارکہ کی باب سے مناسبت :

 



[1]     تفسیرخزائن العرفان ، پ۱۳ ، یوسف ، تحت الآیۃ :  ۸۶ ملخصا ۔

[2]     تفسیر خازن ، پ۱۳ ، یوسف ، تحت الآیۃ : ۸۷ ، ۳  / ۴۱ملخصا ۔

[3]     تفسیر خازن ، پ۴ ، آل عمرن ، تحت الایۃ : ۱۰۶ ، ۱ / ۲۸۶ملخصًا ۔

[4]     تفسیرنعیمی ، پ۹ ، الاعراف ، تحت الایۃ : ۱۶۷ ، ۹ / ۳۰۰ ملخصا ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن