30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’یعنی میں تیرے تمام گناہوں کومٹادوں گا جیسے کفر ہے تو اسے ایمان لانے کے ساتھ اورجواس کے علاوہ گناہ ہیں انہیں توبہ واستغفارکے ذریعے مٹادوں گااورمجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ تیرے گناہ چھوٹے ہوں یا بڑے ہوں ۔ اے ابن آدم ! اگر تیرے گناہ آسمان کے کناروں تک پہنچ جائیں یعنی آسمان اور زمین کے درمیانی خلا کو بھر دیں پھر تو مجھ سے مغفرت کاسوال کرے گا تو میں تجھے بخش دوں گاکیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کریم ہے اور لغزشوں کومعاف کرتا اورنیکیوں کوقبول کرتاہے ۔ یہ مثال اللہ عَزَّ وَجَلَّکے کرم ، فضل اور اس کی رحمت پر دلالت کرتی ہے جس کی کوئی انتہانہیں ہے ۔ یعنی تومجھ سے اس حال میں ملے کہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے ۔ گناہوں سے معافی اس وقت ہوگی جب اللہ عَزَّ وَجَلَّپرایمان لائے گاکیونکہ اطاعت کو قبول کرنا اورگناہوں کومعاف کرناایمان پرموقوف ہے ۔ ‘‘ ( [1] )
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ یعنی تیرے کیسے ہی گناہ ہوں میں بخش دوں گا ، میں آنے والے کونہیں دیکھتا بلکہ اپنے دروازے کو دیکھتا ہوں کہ کس دروازے پر آیا ہے اورصوفیائے کرام اس کے معنیٰ کرتے ہیں مطابق ۔ یعنی تجھے تیرے گناہ کے مطابق بخشوں گا ، چھوٹے گناہ کی چھوٹی بخشش ، بڑے گناہ کی بڑی بخشش ، لاکھوں گناہو ں کی لاکھوں بخششیں ۔ کسی شاعرنے کیاخوب لکھاہے :
گنہِ رضاؔ کا حساب کیا وہ اگرچہ لاکھوں سے ہیں سوا
مگر اے کریم تیرے عفو کا نہ حساب نہ شمار ہے
” اگر تیرے گناہ آسمان کے کناروں تک پہنچ جائیں ۔ “ ( یعنی ) اگر تو گناہوں میں ایسا گھر جائے جیسے زمین آسمان سے گھری ہوئی ہے کہ ہر طرف تیرے گناہ ہوں ، بیچ میں تُو ہو ، پھر مجھ سے معافی مانگے تو میں تیرے سارے گناہ بخش دوں گا ، بلکہ آسمان زمین کی چکی سب کو پیس دیتی ہے ، کسی ہندی شاعر نے کیا خوب کہا :
چکیا چکیا سب کہیں اور کلیا کہے نہ کوئے
جو کلیا سے لاگا اس کا بال نہ بیکا ہوئے
” میں زمین بھر مغفرت لے کرتیرے پاس آؤں گا ۔ “جیسے رازق ہر مرزوق کو بقدر حاجت روٹی دیتا ہے ، ہاتھی کو مَن اور چیونٹی کو کَن ( ذَرہ ) دیتا ہے ، ایسے ہی وہ غفار بقدرِ گناہ مغفرت عطا فرمائے گا مگر شرط یہ ہے کہ گنہگار ہو ، غدار نہ ہو ۔ اسی لیے شرط لگائی گئی کہ میرا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔ خیال رہے کہ ایسے مقامات پر شرک بمعنیٰ کفر ہوتا ہے ، رب تعالیٰ فرماتاہے : ( اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ) ( پ۵ ، النساء : ۴۸ ) ( ترجمۂ کنزالایمان : ’’بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے ۔ ) یعنی جوکفر پرمَرے اس کی بخشش نہیں اورنبی یا کتاب یااِسلامی اَحکام میں سے کسی کااِنکارکرنادرحقیقت رب تعالیٰ کاہی اِنکارکرناہے لہٰذاحدیث بالکل واضح ہے اوراس میں کفارکی مغفرت کا وعدہ نہیں کفر و مغفرت میں تضادہے ۔ ‘‘ ( [2] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! جو گنہگار اس پاک پروردگارعَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں اپنے تمام سابقہ گناہوں سے سچی پکی توبہ کرلے تو وہ رب تعالیٰ بھی اسے ضرور معاف فرمادے گا ۔ لہٰذا اپنے تمام سابقہ گناہوں سے توبہ کرلیجئے ، ان پر ندامت اختیار کیجئے اور آئندہ کوئی بھی گناہ نہ کرنے کا پکا عہد کرلیجئے کہ جس نے دنیا میں رہتے ہوئے اپنے گناہوں سے توبہ کرلی وہ کامیاب ہوگیا ، ورنہ قبر وحشر میں سخت عذاب کا سامنا ہوسکتا ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں سچی توبہ کی توفیق نصیب فرمائے ۔ آمین
کرلے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی
قبر میں ورنہ سزا ہوگی کڑی
مدنی گلدستہ
’’مغفرت ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) رب تعالیٰ کی رحمت اور اس کی پاک ذات سے کبھی بھی مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔
(2) کوئی شخص کتناہی بڑاگناہگارکیوں نہ ہو ، اللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے اس کے گناہوں کوبخشنا کوئی بڑی بات نہیں ہے ، بس بندہ سچے دل سے اپنے گناہوں کی معافی مانگے تو رب تعالیٰ سب گناہ معاف فرمادے گا ۔
جب کوئی شخصاللہ عَزَّ وَجَلَّسے امیدلگاکرتوبہ کرتاہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے گناہوں کومعاف فرمادیتا ہے اگرچہ اس کے گناہ آسمان کے کناروں تک پہنچ جائیں یازمین کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع