30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) جائیں گے ۔
(2) جب کوئی شخص پیدل چل کراللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف آتاہے یعنی اس کی طاعت وفرمانبرادی کرتا ہے تو اس کی رحمت اس کی طرف دوڑتی ہوئی آتی ہے ۔
(3) یہ بھی معلوم ہوا کہ بندے کی جزا رب تعالیٰ کے قرب کی وجہ سے ضعیف یا قوی ہوتی ہے ، جو شخص جتنا زیادہ قرب حاصل کرتا ہے اسے اتنی ہی بڑی جزا دی جاتی ہے ۔
اللہعَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں کثرت سے توبہ واستغفارکرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے قرب کی لازوال دولت عنایت فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 441 موت کے وقت رب تعالٰی سے حُسنِ ظن
عَنْ جَابِرِ بْنِِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَااَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِثَلَاثَةِ اَ يَّامٍ يَقُولُ : لَا يَمُوتَنَّ اَحَدُكُمْ اِلَّا وَهُوَ يُحْسِنُ الظَّنَّ بِاللهِ عَزَّ وَجَلَّ. ( [1] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناجابربن عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفاتِ ظاہری سے تین دن قبل آپ کویہ فرماتے ہوئے سناکہ : ’’تم میں سے ہر شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّسے حسن ِ ظن رکھتے ہوئے ہی مرے ۔ ‘‘
ربّ تعالٰی سے اچھاگمان رکھنا :
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیاِس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’تم میں سے جو بھی مرے تو وہ اِس حال میں مَرے کہ اس کا یہ حُسنِ ظن ہوکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس کی مغفرت فرمادے گا ۔ صوفیائے کرام عَلَیْہِمُ الرَّحْمَہکا اِس پر اتفاق ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے امید لگاتے ہوئے عبادت کرنا خوف کرتے ہوئے عبادت کرنے سے افضل ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے امیدلگاتے ہوئے عبادت کرناآزادبندوں کی عبادت کاطریقہ ہے جبکہ اس سے خوف کرتے ہوئے عبادت کرنا غلاموں کا طریقہ ہے ۔ اچھے عمل کروتاکہ موت کے وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اچھاگمان رکھوکیونکہ جس نے موت سے پہلے بُرے عمل کئے ہوں گے تو وہ موت کے وقت بھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بُراہی گمان رکھے گا اورصحت کی حالت میں بندے پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا خوف غالب رہناچاہیے تاکہ بندہ نیک اعمال کرنے میں جدوجہد کرتا رہے اور جب موت قریب آجائے اور بندے کے عمل منقطع ہوجائیں تو اُس وقت بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بخشش کی اُمید اورحُسنِ ظن رکھے کہ یہ اپنے مالک کریم رؤف رحیم سے ملنے کا وقت ہے ۔ ‘‘ ( [2] )
علامہ عبدالرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’یعنی تم مختلف اَحوال میں سے فقط حُسنِ ظن کی حالت میں ہی مرنا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے حُسنِ ظن یہ ہے کہ وہ رب تعالیٰ سے یہ گمان رکھے کہ وہ اس پر رحم فرمائے گا ، اس کے گناہوں کو معاف فرمائے گا ۔ ‘‘ ( [3] )
نیک شخص نیکیاں قبول ہونے کی اُمید رکھے :
مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ صوفیافرماتے ہیں نیک بختی کی نشانی یہ ہے کہ بندے پر زندگی میں خوفِ خدا غالب ہواورمرتے وقت اُمید ۔ نیک کار ( نیک لوگ ) نیکیاں قبول ہونے کی اُمیدیں رکھیں اور بدکارشخص معافی کی ۔ اُمید کی حقیقت یہ ہے کہ انسان نیکیاں کرے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل وکرم کااُمیدوار رہے کیونکہ بدکاری کے ساتھ اُمیدرکھنا دھوکا ہے امید نہیں ۔ ‘‘ ( [4] )
حضور نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ايک ایسے شخص کے پاس تشريف لے گئے جو نز ع کے عالم میں تھا ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اس سے پوچھا : ’’تم اپنے آپ کو کيسا پاتے ہو؟ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں اپنے آپ کو يوں پاتا ہوں کہ مجھے اپنے گناہوں کا خوف بھی ہے اور اپنے رب تعالیٰ کی رحمت کی اميد بھی ۔ ‘‘ حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمايا : ’’ایسے وقت میں جس بندے کے دل میں یہ دونوں باتيں ( یعنی اميد اور خوف ) جمع ہوں ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اُس کی اميد کے مطابق عطا فرماتا ہے اور جس چیز سے اُسے خوف ہوتا ہے اس سے امن عطا فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( [5] )
حُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیفرماتے ہیں کہ ایک شخص لوگوں کوقرض دیاکرتاتھا ، وہ مالدارکو معاف کردیا کرتا اور تنگ دست کے ساتھ نرمی کیا کرتا ۔ جب اس کی موت واقع ہوئی تووہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے اس حال میں ملاکہ اس نے کوئی بھی نیک عمل نہیں کیاتھا ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ارشادفرمایا : ’’ہم سے زیادہ معاف کرنے کاکون حق دارہے ؟
[1] مسلم ، کتاب الجنۃ ، باب الامربحسن الظن باللّٰہ تعالٰی عندالموت ، ص۱۵۳۸ ، حدیث : ۲۸۷۷ ۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الجنائز ، باب تمنی الموت وذکرہ ، ۴ / ۷۲ ، ۷۱ ، تحت الحدیث : ۱۶۰۵ملخصا ۔
[3] التیسیربشرح الجامع الصغیر ، حرف لا ، ۲ / ۵۰۶ ۔
[4] مرآۃ الناجیح ، ۲ / ۴۳۹ ۔
[5] ترمذی ، کتاب الجنائز ، باب ماجاء فی التشدید عندالموت ، ۲ / ۲۹۶ ، حدیث : ۹۸۵ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع