دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

کوعطا کرتاہوں اورجب میری کفالت طلب کرتاہے تومیں اسے بے نیازکردیتاہوں ۔ ‘‘ ( [1] ) علامہ عبد الرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوتا ہوں ۔ یعنی میں اُس کے گمان کے مطابق اس کے ساتھ معاملہ فرماتا ہوں اور اس کے ساتھ وہی کرتا ہوں جس کی وہ مجھ سے توقع رکھتا ہے ۔  یعنی اگروہ مجھ سے اچھائی کی اُمید رکھتا ہے تو میں اس کے ساتھ اچھا کرتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے بُرائی کی امید رکھتا ہے تو میں اس کے ساتھ بُرا ہی کرتا ہوں ۔ جس کانفس مطمئن ہو اور جس کا دل نورِ الٰہی سے منور ہو تو وہ اپنے رب تعالیٰ کے ساتھ اچھا گمان ہی رکھے گا کیونکہ اس کے دل میں جو نور ہے وہ اسے توحید کی ایسی باریکیاں دکھائے گا جس سے اس کا نفس سکون حاصل کرے گا تو وہ یہ گمان کرے گا کہ اس کے لیے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی کافی ہے اور ووہ رب عَزَّ  وَجَلَّ کرم فرمانے والا ہے ، رحم فرمانے والا ہے ، مہربانی فرمانے والا ہے ، وہ رب عَزَّ  وَجَلَّ اس پر نرمی فرمائے گا ، اس پر رحم فرمائے گا ، اس پر مہربانی فرمائے گا تو اس کی یہ موجودہ کیفیت ہی رب عَزَّ  وَجَلَّ سے اس کا حُسنِ ظن ہے اور جس کا نفس لالچی اور حریص ہو ، اُس پر شہوت غالِب ہوتو اُس کادل اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے اور اُس اندھیرے کے سبب نور چَھٹ جاتا ہے ، دل اندھا ہوجاتا ہے ، نفس چھوٹی چھوٹی خواہشات کرتا ہے جس کی وجہ سے ایسی صورت میں بندہ اپنے رب سے متضاد گمان کرتا ہے تو اس کی یہ کیفیت رب تعالیٰ سے بُرا گمان ہے ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جب کسی بندے سے بھلائی کا اِرادہ فرماتا ہے تو اسے اپنے بارے میں اچھا گمان عطا فرماتا ہے اور جس سے بُرائی کا اِرادہ فرماتا ہے تو اس سے برعکس معاملہ فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( [2] )

یادِالٰہی کے ساتھ رب تعالیٰ کی مَعِیَّت :

ربّ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :  ’’جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تومیں اس کے پاس ہوتاہوں ۔   ‘‘  عَلَّامَہ جَلَالُ الدِّيْن سُيُوْطِي عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’یعنی میں اس کے ساتھ اپنی رحمت ، توفیق ، ہدایت ، رِعایت اور اِعانت کے ساتھ ہوتا ہوں ۔ ‘‘ ( [3] ) ( یعنی اس پر رحمت فرماتا ہوں ، اسے نیکیوں کی توفیق دیتا ہوں ، اسے گمراہی سے ہدایت دیتا ہوں ، اس کی رعایت فرماتا ہوں اور مشکل وقت میں اس کی مدد فرماتا ہوں ۔  )

حدیث پاک کے بعض الفاظ کے معانی :

عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَالفرماتے ہیں : ’’یہاں حدیث پاک میںاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی یہ صفت بیان کی جارہی ہے کہ وہ اپنے بندے کے ایک یادو بالشت قریب ہوجاتاہے یاوہ بندے کی طرف دوڑتا ہواآتا ہے ۔ اس قسم کے الفاظ حقیقت ومجاز دونوں کا احتمال رکھتے ہیں مگر ان الفاظ کو حقیقت پرمحمول کرنا درست نہیں کیونکہ ایک بالشت یادوبالشت قریب ہونایاپھردوڑکرآنا یہ دونوں معانی اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی شان کے لائق نہیں ہیں اس وجہ سے ان الفاظ کومجاز ( یعنی اجروثواب والے معنیٰ ) پرمحمول کرناواجب ہے ۔  بندے کا اپنے رب عَزَّ  وَجَلَّکے ایک ہاتھ یا ایک بالشت قرینے ہونے کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی اطاعت وفرائض کو اداکرکے اس کاقرب حاصل کرتاہے ۔ امام طبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ ’’بندے کی کم عبادت کو ایک بالشت کے ذریعے مثال دینااور زیادہ اجر کوایک ہاتھ سے مثال دینایہ اس بات پر دلالت کرتاہے کہ جوشخص اللہ عَزَّوَجَلَّکی عبادت کرتاہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی عبادت سے بڑھ کراسے ثواب عطا فرماتاہے ۔ ‘‘ ( [4] )

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے اس فرمان عالیشان کے ظاہری معنیٰ کا ارادہ کرنا محال ہے ۔  اس کا معنیٰ یہ ہے کہ میرا جو بندہ میری طاعت وفرمانبرادی کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے تو میں اپنی رحمت ، توفیق  اور اعانت اس کے قریب کردیتا ہوں ، اور اگر وہ میری طاعت وفرمانبرادی میں زیادتی کرتا ہے اور میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اپنی رحمت کو اس پر انڈیل دیتا ہوں اور اسے اس رحمت کے بہت قریب کردیتا ہوں جس کی وجہ سے اسے اپنا مقصود حاصل کرنے میں زیادہ چلنا نہیں پڑتا ۔  اس حدیث پاک سے مراد یہ ہے کہ بندے کی جزاء اس کے رب تعالیٰ کے قرب کے اعتبار سے ضعیف یا قوی ہوتی ہے ۔ ‘‘ ( [5] )

مدنی گلدستہ

’’رب کریم  ‘‘  کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور  اور

 اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول

(1)   جب کوئی شخصاللہ عَزَّ  وَجَلَّسے توبہ کرتاہے تواللہ عَزَّ  وَجَلَّاس سے اتنا خوش ہوتاہے کہ جس طرح کوئی شخص اپنی گمشدہ چیز پاکربہت خوش ہوتاہے ۔

(2)   جوشخص رضائے الٰہی کے لیے عبادت کرتاہے تواللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی عبادت سے بڑھ کراسے اجر و ثواب عطا فرماتاہے ۔

(3)   جو بندہ رب تعالیٰ کی جیسی طاعت وفرمانبراداری کرتا ہے اسے ویسا ہی رحمت سے نوازا جاتا ہے ۔

وہ تمام احادیث جن میں رب تعالیٰ کی طرف چلنے یا دوڑنے کی نسبت ہے وہاں ان کے حقیقی معانی مراد لینا محال ہے لہٰذا مجازی معنی یعنی رحمت ، توفیق اور اعانت وغیرہ مراد لیے



[1]     شرح مسلم للنووی ، کتاب الذکروالدعا ، باب الحث علی ذکراللہ تعالی ، ۹ / ۲ ، الجزءالسابع عشر  ۔

[2]     التیسیر بشرح الجامع الصغیر ، حرف الھمزۃ ، ۱ / ۲۷۶ ۔

[3]     الدیباج علی مسلم ، باب الحث علی ذکر اللہ تعالٰی ، ۶ / ۴۳ ۔

[4]     شرح بخاری لابن بطال ، کتاب التوحید ، باب قولہ تعالٰی ویحذرکم اللہ نفسہ ، ۱۰ / ۴۲۹ ۔

[5]     شرح مسلم للنووی ، کتاب الذکر والدعاء ۔ ۔ ۔ الخ ، باب الحث علی ذکر اللہ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۹ / ۲ ، الجزءالسابع عشر  ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن