30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس لیے فرعونیوں نے ان سے کہا : ’’اگر تم ہمارے دِین کی مخالفت کرو گے تو ہم تمہارے ساتھ بُرے طریقے سے پیش آئیں گے ۔ ‘‘ اُن کے جواب میں انہوں نے یہ کہا کہ : ” میں اپنے کام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو سونپتا ہوں ، بیشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے ۔ “ یعنی اُن کے اَعمال و اَحوال کو جانتا ہے ۔ فرعون نے اپنے چیلوں کوحکم دیاکہ اس مؤمن کو شہید کردیا جائے ۔ جب آپ کو یہ معلوم ہوا تو اُن فرعونیوں میں سے نکل کر پہاڑ کی طرف چلے گئے اور وہاں نماز میں مشغول ہوگئے ۔ فرعون نے ایک ہزار آدمی آپ کی جستجو میں بھیجے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے درندے آپ کی حفاظت پر مامورکردیئے ، جوفرعونی آپ کی طرف آتا ، درندے اسے ہلاک کردیتے ۔ اور جو فرعونی بچ کرواپس چلاگیا تو فرعون اس کو سولی دے کر مار دیتا تاکہ یہ راز ظاہر نہ ہوجائے ۔ ( [1] ) ” تفسیر اِبن کثیر“ میں ہے : مؤمن آلِ فرعون نے فرمایا : ’’میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکل کرتا ہوں اوراسی سے مددچاہتاہوں اور میں تم سے الگ ہوتا ہوں اورتم سے نفرت کرتاہوں ۔ ” بیشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے ۔ “ یعنی جو اُن میں ہدایت کامستحق ہوتا ہے اسے ہدایت عطا فرماتا ہے اور جو گمراہی کا مستحق ہوتا ہے اسے گمراہ رکھتاہے ۔ ‘‘ اللہنے اسے بچالیا ان کے مَکر کی بُرائیوں سے یعنی دنیامیں حضرت سَیِّدُنَا موسٰی عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ فرعونیوں سے نجات دی اور آخرت میں اسے جنت ملے گی ۔ ( [2] )
آیتِ مبارکہ کی باب سے مناسبت :
مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں ہے کہ آل فرعون کے اس مؤمن نے اپنے تمام معاملات کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سپرد کردیااور اسی کی رحمت پر امید رکھی نیز اس مؤمن کو اپنے رب تعالیٰ کی ذات سے یہ حُسنِ ظن ویقین تھا کہ وہ رب تعالیٰ اسے ان فرعونیوں کے ظلم وستم سے محفوظ فرمائے گا یہی وجہ ہے کہ جب وہ پہاڑ پر تشریف لے گئے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان کی حفاظت کے لیے درندوں کو مقرر فرمادیا ۔ یہ باب بھی چونکہ رحمت الٰہی سے امید ، رب تعالیٰ کے ساتھ حُسنِ ظن کی فضیلت کے بارے میں ہے اس لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ آیت مبارکہ اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 440 ربّ تعالٰی اور اس کے بندے کا قُرب
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَالَ : قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِيْ وَاَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي وَاللهُ لِلّٰهِ اَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ اَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ بِالْفَلَاةِ وَمَنْ تَقَرَّبَ اِلَيَّ شِبْرًاتَقَرَّبْتُ اِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ اِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ اِلَيْهِ بَاعًاوَ اِذَا اَقْبَلَ اِلَيَّ يَمْشِيْ اَقْبَلْتُ اِلَيْهِ اُهَرْوِلُ. ( [3] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ دو عالم کے مالک ومختار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اللہعَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں ، جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تومیں اس کے پاس ہوتاہوں ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! ربّ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک کی توبہ سے اتنا زیادہ خوش ہوتا ہے جتناکوئی شخص جنگل میں اپنی گمشدہ چیز پا کر خوش ہوتا ہے اورجوایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تومیری رحمت اس سے ایک ہاتھ قریب ہوجاتی ہے اور جوایک ہاتھ میرے قریب آئے تو میری رحمت اُس سے دو ہاتھ قریب ہوجاتی ہے اور جب وہ پیدل چل کرمیری طرف آئے تو میری رحمت اس کی طرف دوڑتی ہوئی آتی ہے ۔ ‘‘
مذکورہ حدیث پاک ’’حدیث قدسی ‘‘ ہے ۔ حدیث قدسی اُس حدیث پاک کو کہتے ہیں جس میں فرمان رب تعالیٰ کا ہو اور الفاظ سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہوں ۔ یعنی جس حدیث پاک میںاللہ عَزَّوَجَلَّ کے فرمانِ عالیشان کو حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے الفاظ میں بیان فرمائیں وہ حدیث قدسی کہلاتی ہے ۔ ( [4] )
مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ بندہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات اور اس کی رحمت کے ساتھ جیسا گمان رکھے گا اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرمایا جائے گا ۔ لہذا بندے کو چاہیے کہ اپنے رب تعالی کی یاد میں ہردم مگن رہے اور اس کی رحمت سے امید رکھے ، رب تعالی کی ذات سے حُسنِ ظن رکھے ۔ یہ باب بھی چونکہ رب تعالیٰ کی رحمت سے امید اور حسن ظن کے بارے میں ہے ، اس لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ حدیث پاک اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔
ربّ تعالیٰ کا بندے کے گمان کے ساتھ ہونا :
مذکورہ حدیث پاک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : ’’میں اپنے بندے کے گمان کے ساتھ ہوں ۔ ‘‘ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اس کامعنیٰ یہ ہے کہ جب کوئی شخص مجھ سے مغفرت طلب کرتاہے تومیں اس کی مغفرت کردیتاہوں ، جب توبہ کرتاہے تواس کی توبہ قبول کرتا ہوں ، جب مجھ سے کچھ مانگتاہے تومیں اُس
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع