30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضورِ اَنور بھی ہر مؤمن کی آنکھ کی ٹھنڈک ، دل کا چین ، بے قراروں کا قرار ، بے کسوں کے کس ، بے بسوں کے بس ، بے سہاروں کے سہارا ہیں ۔ ‘‘ ( [1] )
سب سے اَولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی ……… سب سے بالا و والا ہمارا نبی
اپنے مولیٰ کا پیارا ہمارا نبی ……… دونوں عالم کا دُولہا ہمارا نبی
جس نے مردہ دلوں کو دی عمرِ اَبَد ……… ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی
غمزدوں کو رضا مُژدہ دیجے کہ ہے ……… بے کسوں کا سہارا ہمارا نبی
فرمانِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’میری زندگی اور وصال دونوں تمہارے لئے بہتر ہے ۔ میری زندگی اس لئے کہ میں تمہارے لئے سنتیں اور احکامِ شرع بیان کرتا ہوں اور میراوِصال اس لئے کہ تمہارے اَعمال میرے سامنے پیش کیے جا ئیں گے تو اُن میں سے جو اچھا عمل ہو گا اُس پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکرادا کروں گا اور جو بُرا ہو گا اس پر تمہارے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے مغفرت طلب کروں گا ۔ ‘‘ ( [2] )
مدنی گلدستہ
’’یا نبی ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّ وَجَلَّجب کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا اِرادہ فرماتا ہے تواس کے نبی کو ان سے پہلے وفات دے کر ان کا پیشرو بنادیتا ہے ۔
(2) نبی کا اُمَّت سے پہلے وصال فرماجانا اُس اُمَّت کے لیے رحمت ہے ۔
(3) حضورنبی رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اُمَّت کے والی وارث ہیں بندہ مؤمن مر کر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آغوشِ رحمت میں جاتا ہے ۔
(4) گذشتہ نافرمان اُمَّتُوں کو اُن کے نبی کی زندگی میں عذاب دے کر اُن کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچائی گئی ۔
(5) مؤمن مرکر لاوارث ہوتا ہے نہ اجنبی گھر میں جاتا ہے کیونکہ اس کے والی وارث حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس سے پہلے وہاں پہنچ چکے ہیں تو وہ اُن کی آغوشِ رحمت میں جاتاہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کل بروزِ قیامت حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت نصیب فرمائے ، ہمیں جنت میں داخلہ نصیب فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
با ب نمبر : 52 رب سے اُمِّیدوحُسنِ ظَنّ کی فضیلت کا بیان
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اُمید کے ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرناخوف کے ساتھ عبادت کرنے سے افضل ہے ، کیونکہ سب سے زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے قریب وہ لوگ ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ اس سے محبت رکھتے ہیں اورمحبت امید کے ساتھ غالب ہوتی ہے کیونکہ بھلائی کی اُمیدقُرب ومحبت پیداکرتی ہے ۔ لہٰذا بندے کو چاہیے کہ کبھی بھی رب تعالیٰ کے قہروجلال سے بے خوف نہ ہو کہ یہ بے خوفی گناہوں پر جری اور بے باکی پیدا کرتی ہے جو تباہی وبربادی کی طرف لے جاتی ہے ۔ اسی طرح گناہ ہوجانے کی صورت میں اس کی رحمت سے مایوسی بھی نہ ہو کہ رحمتِ الٰہی سے مایوسی گناہ ہے ، رب تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے ، جب وہ پاک پروردگار ہمارے گناہوں کے باوجود بھی ہمیں صبح وشام وافررِزق عطا فرمارہا ہے تو جب ہم اس کی بارگاہ میں سچی پکی توبہ کریں گے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رحمت سے دور کردے ، ہمیں مایوس کردے ۔ رب تعالیٰ کی رحمت اور اس کی پاک ذات سے ہمیشہ حُسنِ ظن ہی رکھیے ، گناہوں سے نفرت کیجئے ، نیکیوں میں رغبت پیدا کیجئے اور رحمتِ الٰہی پر نظر رکھیے کہ یہی نجات کا ذریعہ ہے ۔ یہ باب بھی رب تعالیٰ اور اس کی رحمت سے اُمید وحُسنِ ظن کے بارے میں ہے ، علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اِس باب میں ایک آیت اور3اَحادیثِ مبارکہ بیان فرمائی ہیں ۔ پہلے آیت اوراس کی تفسیر ملاحظہ کیجئے ۔
میں اپنے کام اللہ کو سونپتا ہوں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتاہے :
وَ اُفَوِّضُ اَمْرِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ(۴۴)فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا ( پ۲۴ ، المؤمن : ۴۴ ، ۴۵ )
ترجمۂ کنزالایمان : اورمیں اپنے کام اللہ کو سونپتا ہوں بیشک اللہ بندوں کو دیکھتا ہے تواللہ نے اسے بچالیا ان کے مَکر کی بُرائیوں سے ۔
اِس آیتِ مبارکہ کا پس منظر اور شانِ نزول کچھ اِس طرح ہے کہ فرعونیوں میں سے ایک شخص حضرت شمعان یا خربیل مُوَحِّد ومؤمن تھے ، چونکہ یہ بھی فرعونیوں میں سے تھے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع