دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّاُس کا درجہ بلند فرما دیتاہے اور اگر بیٹھ جائے تو سلامتی کے ساتھ بیٹھتاہے ۔ “ ( [1] ) ( 4 )  ” جس نے کامل طریقے سے وضو کیا اور اپنے دونوں ہاتھ اور چہرہ دھویا اور اپنے سر اور کا نوں کا مسح کیا ، پھر فرض نَماز کے لئے کھڑا ہوا تواُس کے قدم اُس دن میں جس برائی کی طرف چلے اوراُس کے ہاتھوں نے جو ( ناجائز ) لیا اور اس کے کانوں نے جو سنا ، اُس کی آنکھوں نے جو دیکھا اور جو اُس نے بُری گفتگو کی ، سب معاف کردئیے جائیں گے  ۔ “ ( [2] )

دے شوقِ تلاوت دے ذوقِ  عبادت       ………    رہوں باوضو میں سدا یاالٰہی

مدنی گلدستہ

’’جنتِ بقیع  ‘‘  کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور

اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول

(1)   حضور نبی رحمت ، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بہت ہی زبردست حکمتِ عملی کے ساتھ اسلام کی دعوت کاآغاز فرمایا ، ابتدائے اسلام میں چونکہ مسلمان کمزور تھے اس وقت آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بعض لوگوں کو اپنا ایمان ظاہر کرنے سے منع فرمایا ۔

(2)   حکمت عملی اختیار کرنا سنت ہے ، لہٰذاہمیں بھی نیکی کی دعوت کا کام حکمتِ عملی سے کرنا چاہیے ۔

(3)   اگر کوئی غیر مسلم اسلام قبول کرنا چاہے تو بلا تاخیر اُسے فوراً کلمہ پڑھا کر دائرہ اسلام میں داخل کرلینا چاہیے ، بعداَزاں اسے شرعی اَحکامات سکھانے کی ترکیب بنائی جائے ۔

(4)   طلوع ِ آفتاب اور غروبِ آفتاب کے وقت نماز پڑھنا منع ہے  سوائے اس دن کی عصر کے ۔

(5)   وضو کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے ، اِطمینان کے ساتھ کامل طریقے سے وضو کرنا چاہیے ۔

(6)   وضو کرتے ہوئے جو جو اعضائے وضو دھوئے جائیں ان تمام کے گناہ جھڑ جاتے ہیں ۔

(7)    بروز ِقیامت اعضائے وضو چمکتے ہوں گے تو جو جتنا زیادہ وضو کرے گا اس کی چمک اتنی زیادہ ہوگی ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایمان پر استقامت عطافرمائے ، ہمیں حکمت عملی سے کام لینے کی توفیق عطا فرمائے ، ہر دم باوضو رہنے اور پانچوں نمازیں باجماعت ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 439                                                                                                                              نبی کا پہلے وِصال فرمانا اُمَّت کے لیـے رَحمت

عَنْ اَبِيْ مُوسَى الْاَشْعَرِی رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ :  اِذَا اَرَادَ اللهُ تَعَالٰی رَحْمَةَ اُمَّةٍ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا بَيْنَ يَدَيْهَا وَاِذَا اَرَادَ هَلَكَةَ اُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ فَاَهْلَكَهَا وَهُوَ حَيٌّ يَنْظُرُ فَاَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلَاكِهَا حِيْنَ كَذَّبُوْهُ وَعَصَوْا اَمْرَهُ. ( [3] )

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کسی قوم کے ساتھ رحمت کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُس قوم کے نبی کو اُن سے پہلے وفات دیتا ہے اور نبی کو اُس قوم کے لیے پیشرو بنادیتا ہے اور جب کسی قوم کی ہلاکت کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُن کے نبی کی زندگی میں اس قوم کو عذاب دیتا ہے ، انہیں ہلاک فرماتا ہے ، نبی حیات ہوتے ہیں اور ان کی ہلاکت دیکھ رہے ہوتے ہیں تو اس طرح اللہ عَزَّوَجَلَّ اُن کی ہلاکت سے نبی کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے کیونکہ انہوں نے نبی کو جھٹلایا اور اُس کی حکم عدولی کی ۔   ‘‘ 

مغفرت کی بشارت :

مذکورہ حدیث سے پتہ چلا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُمَّتِ محمدیہ کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرمالیا ہے کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حضورتاجدارِ رسالت ، شہنشاہ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اِس اُمَّت کے لیے پیشرو بنا دیا ہے ، اب جب کوئی مسلمان اس دنیا سے جائے گا تو سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنا شفیع پائے گا یہ مغفرت کی بڑی بشارت ہے چنانچہمُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :  ’’مؤمن مرکر نہ تو لاوارث ہوتا ہے نہ اجنبی گھر میں جاتا ہے ، اس کے والی وارث حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس سے پہلے وہاں پہنچ چکے ہیں ، اُن کی آغوشِ رحمت میں جاتاہے ، بھرے گھر میں اُترتا ہے ۔ اللہتعالیٰ نے گذشتہ جلالی نبیوں کی نافرمان اُمَّتُوں کو اُن کے سامنے ہلاک فرماکر اُن کی آنکھیں ٹھنڈی کیں اور ہمارے حضور کی نافرمانی اُمَّت کو حضور کے سامنے ہی ہدایت دے کر آپ کا مطیع بناکر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی کیں ۔ چنانچہ مکہ معظمہ کے نافرمان کافر فتح مکہ کے دن سارے کے سارے ایمان لائے حضور کے مطیع ہوئے ۔ جلالی پیغمبروں کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور ہے ، حضور کی آنکھوں کی ٹھنڈک کچھ اور ، ہر آنکھ کے لیے ٹھنڈا سرمہ علیحدہ ہے ۔ خیال رہے کہ



[1]      مسند امام  احمد ، حدیث ابی امامۃ الباھلی ، ۸ / ۲۹۶ ، حدیث : ۲۲۳۳۰  ۔

[2]      مسند امام احمد ، حدیث ابی امامۃ الباھلی ، ۸ / ۲۹۸ ، حدیث :  ۲۲۳۳۵  ۔

[3]      مسلم ، کتاب الفضائل ، باب اذا اراد اللہ تعالی رحمۃ امۃ ۔ ۔  ۔ الخ ، ص۱۲۵۵ ، حدیث : ۲۲۸۸ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن