دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

( 3 ) سوال : اگر کوئی کافر کسی مسلمان سے کہے کہ فلاں عالِم صاحب کے پاس لے چلو ، مجھے ان کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنا ہے ، اگر وہ مسلمان ان عالِم صاحب کے پاس لے جائے تو کیا اب بھی اس مسلمان کے لیے حکم کفر ہے ؟

جواب : نہیں !  اس صورت میں اس مسلمان پر حکم کفر نہیں‘ ظاہر ہے وہ خود کہہ رہا ہے کہ میں تو اس عالِم کے ہاتھ پر مسلمان ہوں گا ۔  اب اس کا قصور نہیں ہے  ۔

 ( 4 ) سوال :  کسی کافر کو مسلمان کرنے کا آسان طریقہ ارشا دفرمایئے ؟

جواب : کافر کو مسلمان کرنے کے لیے پہلے اس سے پچھلے تمام عقائدِ باطلہ سے توبہ کروالی جائے مثلاً مسلمان ہونے کا خواہش مند عیسائی آیا ۔  تو اس سے کہیے کہ :  کہو !  میں عیسائی مذہب سے توبہ کرتا ہوں ۔  جب وہ یہ کہہ لے تو پھر اس سے کلِمۂ طیبہ یا کلِمۂ شہادت پڑھائیں ، اگر وہ عربی میں نہیں پڑھ سکتا تو جو بھی زبان وہ سمجھتا ہے اسی زبان میں اس سے شہادتین باآواز پڑھوالیا جائے ۔  یعنی وہ کہہ دے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے رسول ہیں ، اس طرح سے وہ شخص مسلمان ہوجائے گا ۔  

 ( 5 ) سوال : اگر کافر کو اسلام کا جذبہ ملا اور اس نے دل ہی دل میں طے کرلیا کہ میں آج سے مسلمان ہوں یا یہ یہی الفاظ زبان سے کہہ لیے تو کیا حکم ہے ؟ کیا سابقہ مذہب سے توبہ کرکے کلمہ پڑھنا شرط ہے ؟

جواب : سابقہ مذہب سے توبہ کرکے کلمہ پڑھنا شرط نہیں ، اس کا اپنے آ پ کو مسلمان کہنا ہی سابقہ مذہب سے توبہ بھی ہے ۔  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے قبول اسلام کے واقعات میں عموماً ایسا ہی ہوتا تھا کہ وہ توبہ کے الفاظ ادا کیے بغیر کلمہ شہادت پڑھ کر د امن مصطفے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے وابستہ ہوجاتے تھے ۔  سابقہ مذہب سے توبہ کے الفاظ ادا کیے بغیر کلمہ پڑھنا ایمان کے لیے کافی ہے ۔ البتہ جہاں احتمال یعنی شک ہو وہاں سابقہ مذہب سے بیزاری کا اظہار ضروری ہوتا ہے ۔ چنانچہ حضرت مولانا نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی سورۃ النساء کی آیت نمبر ۹۴ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ’’اکثر فقہائے کرام نے فرمایا کہ اگر یہودی یا نصرانی یہ کہے کہ میں مؤمن ہوں تو اس کو مؤمن نہ مانا جائے کیونکہ وہ اپنے عقیدہ یعنی نصرانی مذہب کو ہی ایمان کہتا ہے اور اگر لَا اِلٰہَ اِلَّا ﷲ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ﷲ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کہے جب بھی اس کے مسلمان ہونے کا حکم نہ دیا جائے گا جب تک وہ اپنے دین سے بیزاری اور اس کے باطل ہونے کا اعتراف نہ کرے ۔  

طلوع و غروب آفتاب کے وقت ممانعت نمازکی وجہ :

حدیث پاک میں طلوع آفتاب و غروب آفتاب کے وقت نماز پڑھنے سے منع فرمایا کیونکہ اس وقت سورج شیطان کے دونوں  قرن کے درمیان ہوتاہے ۔  قرن عربی میں سینگ کو کہتے ہیں لیکن قرنِ شیطان سے یہاں حدیث میں کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں علماء کے اقوال مختلف ہیں ۔ ٭ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد شیطان کا گروہ اور اس کے پیروکار ہیں ۔ ٭ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد اُس کی قوت ، غلبہ اور اس کا فساد ہے ۔ ٭ ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد شیطان کے سر کا کنارہ ہے ۔  یہی زیادہ ظاہر ہے اور قوی قول ہے اور مطلب یہ ہے اِن اوقات میں شیطان سورج کے محاذی ( برابر ) اپنا سر کر کے کھڑا ہوجاتا ہے تاکہ جو کفار اس وقت سورج کو سجدہ کرتے ہیں وہ شیطان کو سجدہ کرنے والے ہوجائیں ۔ شیطان اور اس کے چیلوں کا تسلط چونکہ ظاہر ہے تو ان اوقات میں نماز سے منع کرنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شیاطین نمازیوں پر ان کی نماز کو مشتبہ نہ کردیں لہٰذا اس سے بچنے کے لیے ان اوقات میں نماز پڑھنا مکروہ ہے جیسا کہ اُن جگہوں ( یعنی کفار کے عبادت خانوں ) پر نماز پڑھنا مکروہ قرار دیا گیا ہے جو شیطان کے ٹھکانے ہیں ۔ “ ( [1] )

حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :  ” طلوع و غروب و نصف النہار ان تینوں وقتوں میں کوئی نماز جائز نہیں ، نہ فرض نہ واجب نہ نفل نہ ادا نہ قضا ، یوہیں سجدۂ  تلاوت و سجدۂ سہو بھی ناجائز ہے ، البتہ اس روز اگر عصر کی نماز نہیں پڑھی تو اگرچہ آفتاب ڈوبتا ہو پڑھ لے ، مگر اتنی تاخیر کرنا حرام ہے ۔ حدیث میں اس کو منافق کی نماز فرمایا ، طلوع سے مراد آفتاب کا کنارہ ظاہر ہونے سے اس وقت تک ہے کہ اس پر نگاہ خیرہ ہونے لگے جس کی مقدار کنارہ چمکنے سے ۲۰ منٹ تک ہے اور اس وقت سے کہ آفتاب پر نگاہ ٹھہرنے لگے ڈوبنے تک غروب ہے ، یہ وقت بھی۲۰ منٹ ہے ۔ “ ( [2] )

رحمتِ الٰہی کی چھماچھم برسات :

مذکورہ حدیث پاک میں رحمتِ الٰہی کا بیان ہے کہ جب بندہ وضو کرتا ہے تو اس کے جسم سے گناہ جھڑتے ہیں ۔  چنانچہ وضو کے فضائل اور اس سے گناہوں کے جھڑنے کے متعلق چار فرامین مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے :  ( 1 )  ” جنت میں مؤمن کا زیور وہاں تک ہوگا جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے ۔ “ ( [3] ) ( 2 )  ” جب میری اُمَّت کو قیامت کے دن پکارا جائے گا تو وضو کے باعث اُن کی پیشانیاں اور قدم چمکتے ہوں گے ، لہٰذا تم میں سے جو اپنی چمک میں اضافہ کرسکتا ہے اُسے چاہیے کہ اُس میں اضافہ کرے ۔ “ ( [4] ) ( 3 )  ” جو شخص نماز کا اِرادہ کرتے ہوئے وضو کرنے کے لیے آتا ہے ، پھر اپنی ہتھیلیاں دھوتاہے توپہلا قطرہ ٹپکتے ہی اس کی ہتھیلیوں کے گناہ جَھڑ جاتے ہیں ، جب وہ کلی کرتاہے اور ناک میں پانی چڑھا تاہے اور ناک صاف کرتاہے تو پہلاقطرہ ٹپکتے ہی اس کی زبان اور ہو نٹوں کے تمام گناہ جھڑ جاتے ہیں ، پھر جب وہ اپنا منہ دھوتاہے تو اُس کی آنکھ اور کان کے تمام گناہ پہلا قطرہ ٹپکتے ہی جھڑ جاتے ہیں اور جب وہ كہنیوں سمیت ہاتھ اورٹخنوں سمیت پاؤں دھوتاہے تو ہرگناہ سے سلامتی ( یعنی پاکی ) حاصل کر لیتا ہے اور اس حال میں نکلتاہے جیسا اس دن تھا جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا ، پھر



[1]      شرح مسلم للنووی ، کتاب الایمان ، باب الاوقات التی نھی عن الصلاۃ فیھا ، ۳ / ۱۱۲ ، الجزء السادس ۔

[2]      بہارشریعت ، ۱ / ۴۵۴ ، حصہ سوم ۔

[3]      مسلم ، کتا ب الطھارۃ ، باب تبلغ الحلیۃ حیث یبلغ الوضوء ، ص ۱۵۱ ، حدیث :  ۲۵۰ ۔

[4]      بخاری ، کتاب الوضوء ، باب فضل الوضوء و الغر المحجلون ۔ ۔  ۔ الخ ، ۱ / ۷۱ ، حدیث : ۱۳۶ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن