30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رحمتِ خدا ہر دم گنہگار کو دامن کرم میں لینے کو تیار :
مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’مقصد یہ ہے کہ ربّ کا کرم بہت وسیع ہے ، گناہگار کو ہر وقت کرم میں لینے کو تیار ہے کوئی آنے والا ہو ۔ ( جب سورج مغرب سے طلوع ہوگا ) اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوجائے گا ، ربّ تعالیٰ فرماتاہے : ( یَوْمَ یَاْتِیْ بَعْضُ اٰیٰتِ رَبِّكَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُهَا ) ( پ۸ ، الانعام : ۱۵۸ ) الخ ۔ مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ اس وقت سے ان لوگوں کی توبہ قبول نہ ہوگی جو سورج کو پچھم ( مغرب ) سے نکلتے دیکھیں ، لیکن جو لوگ اِس واقعہ کے بعد پیدا ہوں اُن کی توبَۂ کفربھی قبول ہوگی اور توبَۂ گناہ بھی کہ انہوں نے علاماتِ قیامت دیکھی ہی نہیں ۔ ‘‘ ( [1] )
مکھی پر رحم کے سبب مغفرت فرمادی :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ربّ تعالیٰ کا کرم اور اس کی رحمت بہت وسیع ہے ، جب وہ ربِّ کریم گناہگاروں کو بخشنے پر آتا ہے تو بسا اوقات ایک چھوٹے سے عمل کے سبب بھی بخش دیتا ہے ۔ چنانچہ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۳۲۴ صفحات پرمشتمل کتاب’’152رحمت بھری حکایات ‘‘ صفحہ۲۵۵پر ہے : حجۃ الاسلام حضرت سَیِّدُنَا امام ابوحامد محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی کو کسی نے خواب میں دیکھ کر پوچھا : ’’مَافَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ ‘‘ جواب دیا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مجھے اپنی بارگاہ میں کھڑا کیا اور ارشاد فرمایا : تم میری بارگاہ میں کیا لائے ہو؟ میں نے مختلف عبادات کا ذکر کیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ارشاد فرمایا : تم ایک مرتبہ بیٹھے لکھ رہے تھے کہ ایک مکھی تمہارے قلم پر آکر بیٹھ گئی تو تم نے اس پر رحم کرتے ہوئے سیاہی چوسنے کے لیے اسے چھوڑ دیا اور کچھ نہ کہا ، پس اسی وجہ سے میں آج تم پر رحم کرتا ہوں ۔ جاؤ ! میں نے تمہیں بخش دیا ۔ ‘‘ ( [2] )
معاف فضل وکرم سے ہو ہر خطا یاربّ ……… ہو مغفرت پئے سلطان انبیاء یاربّ
بلا حساب ہو جنت میں داخلہ یاربّ ……… پڑوس خلد میں سرور کا ہو عطا یاربّ
مدنی گلدستہ
’’صدیق ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت بہت بڑی ہے ، وہ بندے کو آخری وقت تک توبہ کا موقع دیتا ہے اور اگر کوئی اس وقت بھی توبہ کرلے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی توبہ قبول فرمالے گا ۔
(2) حدیث کا مقصد گناہگاروں کو توبہ کی طرف بلانااور رحمت الٰہی سے امید دلانا ہے ۔
(3) اللہ عَزَّوَجَلَّ توبہ کو پسند فرماتا ہے یعنی وہ چاہتا ہے کہ گناہگار لوگ توبہ کرلیں ۔
(4) رحمتِ خدا ہر وقت بندوں کو اپنے دامنِ کرم میں لینے کے لیے تیار ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی بارگاہ میں توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ اپنی رحمت کاملہ کے صدقے ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے ، ہماری حتمی مغفرت فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 438 گناہوں سے پاک کرنے والا پانی
عَنْ اَبِی نَجِیْحٍ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ السُّلَمِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : كُنْتُ وَاَنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ اَظُنُّ اَنَّ النَّاسَ عَلَى ضَلَالَةٍ وَاَنَّهُمْ لَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ وَهُمْ يَعْبُدُونَ الْاَوْثَانَ فَسَمِعْتُ بِرَجُلٍ بِمَكَّةَ يُخْبِرُ اَخْبَارًا فَقَعَدْتُ عَلَى رَاحِلَتِي فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ فَاِذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَخْفِيًا جُرَاءُ عَلَيْهِ قَوْمُهُ فَتَلَطَّفْتُ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ بِمَكَّةَ فَقُلْتُ لَهُ : مَا اَنْتَ؟ قَالَ : اَنَا نَبِيٌّ فَقُلْتُ : وَمَا نَبِيٌّ؟ قَالَ : اَرْسَلَنِي اللهُ فَقُلْتُ : وَبِاَيِّ شَيْءٍ اَرْسَلَكَ؟ قَالَ : اَرْسَلَنِي بِصِلَةِ الْاَرْحَامِ وَكَسْرِ الْاَوْثَانِ وَاَنْ يُوَحَّدَ اللهُ لَا يُشْرَكُ بِهِ شَيْءٌ قُلْتُ : فَمَنْ مَعَكَ عَلَى هَذَا؟ قَالَ : حُرٌّ وَعَبْدٌ وَمَعَهُ يَوْمَئِذٍ اَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قُلْتُ : اِنِّي مُتَّبِعُكَ قَالَ : اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ ذٰلِكَ يَوْمَكَ هَذَا اَلَا تَرَى حَالِيْ وَحَالَ النَّاسِ وَلَكِن اِرْجِعْ اِلَى اَهْلِكَ فَاِذَا سَمِعْتَ بِيْ قَدْ ظَهَرْتُ فَاْتِنِيْ قَالَ : فَذَهَبْتُ اِلٰی اَهْلِيْ وَقَدِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَكُنْتُ فِي اَهْلِيْ فَجَعَلْتُ اَتَخَبَّرُ الْاَخْبَارَ وَاَسْاَلُ النَّاسَ حِيْنَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ حَتّٰى قَدِمَ نَفَرٌ مِّنْ اَهْلِیَ الْمَدِينَةَ فَقُلْتُ : مَا فَعَلَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي قَدِمَ الْمَدِينَةَ؟ فَقَالُوا النَّاسُ : اِلَيْهِ سِرَاعٌ وَقَدْ اَرَادَ قَوْمُهُ قَتْلَهُ فَلَمْ يَسْتَطِيْعُوْا ذٰلِكَ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ! اَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ : نَعَمْ ، اَنْتَ الَّذِي لَقِيتَنِي بِمَكَّةَ قَالَ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ! اَخْبِرْنِي عَمَّا عَلَّمَكَ اللهُ وَاَجْهَلُهُ اَخْبِرْنِي عَنِ الصَّلَاةِ قَالَ : صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ اَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتّٰى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ قِیْدَ رُمْحٍ فَاِنَّهَا تَطْلُعُ حِينَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِيْنَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ ثُمَّ صَلِّ فَاِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُوْرَةٌ حَتّٰى يَسْتَقِلَّ الظِّلُّ بِالرُّمْحِ ثُمَّ اَقْصِرْ عَنِ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع