30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’یا رحمٰن ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1) کھاناکھانے یا پانی پینے کے بعد اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد کرنی چاہیے کیونکہ اس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ خوش ہوتا ہے ۔
(2) اللہ کریم کی رحمت بندے کو بخشنے کے بہانے ڈھونڈتی ہے کہ جس چیز میں ہمارا اپنا فائدہ ہے اس پر حمد کرنے سے بھی ربّ تعالیٰ ہم سے راضی ہوجاتا ہے ۔
(3) ہر ہر لقمے پر حمدِ باری تعالیٰ بجالانا اعلیٰ درجے کا شکر ہے ۔
(4) اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ولی کھانے کے ہر ہر لقمے اور پانی کے ہر ہر گھونٹ پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد کرتے ہیں ۔
(5) کھاناکھانے اور پانی پینے کے بعد اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد کرنا مستحب ہے ۔
(6) صرف اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنے سے بھی حمدِ باری تعالیٰ ہوجاتی ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کھانا سنت کے مطابق کھانے ، کھانے کے دوران بھی ذکرُاللہ سے غافل نہ ہونے اور کھانے کے بعد شکراورحمدِ الٰہی بجالانے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 437 گنہگاروں کے لیے خدا کی مُہْلَت
عَنْ اَبِي مُوسَى الْاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : اِنَّ اللهَ تَعَالٰی يَبْسُطُ يَدَهُ بِاللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيْءُ النَّهَارِ وَيَبْسُطُ يَدَهُ بِالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيْءُ اللَّيْلِ حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا. ( [1] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو موسٰی اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ رات بھر اپنا دستِ رحمت پھیلائے رکھتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن بھر اپنا دستِ رحمت پھیلائے رکھتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والاتوبہ کرے ، ( یہ کرم نوازی اُس وقت تک ہوتی رہے گی ) حتّٰی کہ سورج مغرب سے طلوع کرے ۔ ‘‘
مذکورہ حدیث باب التوبہ ( فیضانِ ریاض الصالحین ، جلداول ، ص۱۸۶ ، حدیث نمبر : ۱۶ ) میں بھی گزر چکی ہے یہاں عَلَّامَہ نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی باب الرجا میں اس حدیث کو دوبارہ لے کر آئے ہیں کیونکہ اس میں گناہگاروں کے لیے بخشش کی اُمید کا بھی سامان ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت بہت وسیع ہے ، بندے کو آخری سانس تک مہلت دی ہوئی ہے کہ توبہ کرکے اپنی مغفرت کروالے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اُسے بخش دے گا ۔
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’توبہ کی قبولیت کا کوئی وقت خاص نہیں ہے ۔ حدیث میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ہاتھ پھیلانے سے مراد توبہ کا قبول کرنا ہے ۔ بَسْط یَد اس لیے کہا کیونکہ اہلِ عرب کا یہ طریقہ ہے کہ جب اُن میں سے کوئی کسی چیز پر راضی ہوتا ہے تو اُسے قبول کرنے کے لیے ہاتھ کو بڑھاتا ہے اورجب کسی چیز کو ناپسند کرتا ہے تو اس سے اپنا ہاتھ کھینچ لیتا ہے اور یہاں پر ہاتھ کا لفظ مجازاً استعمال کیا گیا ہے کیونکہ جسمانی ہاتھ اللہ کے لیے محال ہے ( کیونکہ وہ جسم سے پاک ہے ) ۔ ‘‘ ( [2] )
توبہ اللہ کو مطلوب و محبوب ہے :
مذکورہ حدیث پاک سے پتہ چلا کہ سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے قبل توبہ کا دروازہ کھلا ہے ، چاہے کوئی کتنا ہی بڑا گناہگار ہو ، اگر وہ توبہ کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت اُسے مایوس نہیں کرے گی ، اس کی رحمت بہت وسیع ہے ۔ وہ اسے معاف فرمادے گا ۔ چنانچہعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’حدیث کا مقصد گناہگاروں کو توبہ کی طرف بلانا ہے اور یہ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ لوگوں کو سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا بلکہ اُنہیں مہلت دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کرلیں ۔ ہاتھ پھیلانے سے مراد اُس کی جُود و عطا کا وسیع ہونا ہے کہ وہ توبہ کرنے والے کو کبھی منع نہیں کرتا ۔ نیز حدیث میں اس بات پر تنبیہ ہے کہ رحمتِ الٰہی بہت وسیع ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کثرت سے گناہوں سے تجاوزفرماتا ہے ۔ علامہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ یہ ایک مثال ہے جو کہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کو توبہ مطلوب و محبوب ہے گویا کہ وہ چاہتا ہے کہ گناہگار توبہ کریں ۔ ‘‘ ( [3] )
عِصیاں سے کبھی ہم نے کَنَارا نہ کیا …… پر تُو نے دل آزُردَہ ہمارا نہ کیا
ہم نے تو جہنم کی بہت کی تجویز …… لیکن تِری رَحمت نے گوارا نہ کیا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع