30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی الفاظِ حدیث کے معانی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ” اَصَبْتُ حَدًّا کا معنیٰ یہ ہے کہ ایسا گناہ جس سے تعزیر لازم آتی ہے اس سے مراد وہ گناہ نہیں جس پر حدِّ شرعی واجب ہوجاتی ہے جیسے زنا کرنا یا شراب پینا وغیرہ کیونکہ حدودِ شرعِیَّہ نہ تو نماز سے ساقِط ہوتی ہیں اور نہ ہی حاکم کے لیے ان حدود کو معاف کرنا جائز ۔ ‘‘ ( [1] )
حدیثِ مذکور میں ہے کہ جب اُس شخص نے کہا کہ میں نے گناہ کیا ہے تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے یہ نہیں پوچھا کہ تم نے کون سا گناہ کیا ہے ؟بلکہ بنا پوچھے ہی گناہ کی بخشش کی بشارت سنا دی؟ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ حضورنبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جانتے تھے کہ کون سا گناہ کیا ہے ؟ دوسری وجہ اس کی عیب پوشی ہے کہ سب کے سامنے پوچھنے میں اس کی رسوائی ہوگی ، اس لیے سب کے سامنے نہ پوچھا ۔ چنانچہعَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ کیونکہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بذریعہ وحی اُس کے گناہ کے بارے میں جانتے تھے اور یہ بھی جانتے تھے کہ اُس کو بخش دیا گیا ہے ۔ ‘‘ ( [2] ) علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’حضورنبی اکرم ، شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُس کی عیب پوشی کرتے ہوئے اُس سے گناہ کے بارے میں نہیں پوچھا ۔ ‘‘ ( [3] )
حدود شبہات سے ساقط ہوجاتی ہیں :
عَلَّامَہ مُہَلَّب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’جب اس شخص نے تاجدارِ رِسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے گناہ کا اقرار کیا اور اپنا گناہ بیان نہیں کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بھی اس کو کُریدا نہیں اور نہ ہی استفسار فرمایا کہ تم نے کون سا گناہ کیا ہے ؟ اِس سے پتہ چلا کہ حدود کے جرم کو کھولنا جائز نہیں بلکہ اُس گناہ کو چھپانا ہی زیادہ بہتر ہے کیونکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس جرم کے کھولنے کو تجسس کی وہ قسم خیال فرمایا جس سے منع کیا گیا ہے اسی لیے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس شخص سے اِعراض کیا اور اس کے فعل کو ایک شبہ قرار دیا جس سے حدود ساقط ہوجاتی ہیں کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مؤمنوں پر بہت رؤف رحیم ہیں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس شخص نے یہ گمان کیا ہو کہ اس پر حد قائم ہوگی لیکن درحقیقت حد قائم نہیں ہونی تھی بلکہ ایسا گناہ ہوا تھا جس کا کفارہ وضو اور نماز بن جاتے ہیں اور جبکہ یہ جائز نہیں کہ کنایہ اور شبہات کی وجہ سے حد قائم کی جائے تو حاکم پر لازم ہے کہ وہ جرم کو زیادہ مت کھولے کیونکہ حدود شبہ کی وجہ سے قائم نہیں بلکہ زائل ہوتی ہیں ۔ ‘‘ ( [4] )
| مؤمن ہوں مؤمنوں پہ رؤف رحیم ہو | …… | سائل ہوں سائلوں کو خوشی لَانَہَر کی ہے |
صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی قوت ایمانی :
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ ( وہ گناہ ) لائق حدہویا نہ ہو ، جوبھی فرمان الٰہی ہوحدیاکفارہ یاکوئی اورچیز ، اسی لئے یہاں کتابُﷲفرمایا ۔ یہ صحابہ کرام ( عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ) کی قوتِ ایمانی ہے کہ دوسرے مجرم اپنے جرم چھپا کر جان بچانے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ حضرات اپنے قصورظاہرکرکے جانوں پرکھیل کرایمان بچاتے ہیں ۔ ( جا تجھے بخش دیا گیا ) یعنی جس گناہ کو تونے قابلِ حدسمجھا تھا وہ اس نماز کی برکت سے معاف ہوگیا ۔ لہذا اس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ نمازسے شرعی سزائیں معاف ہوجاتی ہیں ۔ خیال رہے کہ گناہ صغیرہ پرکبھی حد نہیں ہوتی اورسواء ڈکیتی کی حد کے کوئی حد توبہ سے معاف نہیں ہوتی ، ڈاکو اگرگرفتاری سے پہلے توبہ کرے تو سزا نہیں پاتا ( [5] ) ، یونہی اگر کافربعدزنا مسلمان ہوجائے تو رجم وغیرہ کا مستحق نہیں ۔ شیخ عبدالحق ( محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی ) نے فرمایا : مَعَنَاسے معلوم ہوا کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے ساتھ نماز پڑھنا گناہوں کی معافی کے لیے اِکسیر ہے ۔ نماز کی عظمت امام کی عظمت کے مطابق ہے ۔ سُبْحٰنَ اﷲ ! جن کے ساتھ والی نمازمجرموں کو بخشوادے وہ ذاتِ کریم خودکیسی ہوگی ۔ ‘‘ ( [6] )
اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کیجئے :
مذکورہ حدیث میں ہے کہ حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس مسلمان کی پردہ پوشی فرمائی اور اس سے اس کے گناہ کے بارے میں سوال نہیں فرمایا ۔ اس سے پتہ چلا کہ اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرنی چاہیے اگر کسی کا عیب یا کوئی گناہ پتہ چل جائے تو اسے لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرنی چاہیے ۔ کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرنے کے احادیث میں بہت فضائل بیان فرمائے گئے ہیں ، تین فرامین مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : ( 1 ) ” جو بندہ دنیا میں کسی بندے کی پردہ پوشی کرے گا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ قیامت کے دن اس بندے کی پردہ پوشی فرمائے گا ۔ “ ( [7] ) ( 2 ) ’’جس نے کسی کی پر دہ پوشی کی گو یا اس نے زندہ دفن کی گئی بچی کوزندہ کردیا ۔ ‘‘ ( [8] )
[1] ریاض الصالحین ، باب الرجاء ، ص۱۳۸ ، تحت الحدیث : ۴۳۵ ۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ ، الفصل الاول ، ۲ / ۲۶۹ ، تحت الحدیث : ۵۶۷ ۔
[3] شرح مسلم للنووی ، کتاب ، باب قولہ تعالی ان الحسنات یذھبن السیٔات ، ۹ / ۸۱ ، الجزء السابع عشر ۔
[4] شرح بخاری لابن بطال ، کتاب المحاربین ۔ ۔ ۔ الخ ، باب اذا اقر بالحد ولم یبین ۔ ۔ ۔ الخ ، ۸ / ۴۴۴ ۔
[5] گرفتاری سے پہلے اگر ڈاکو توبہ اور ا س کے تقاضے پورے کرلے تو ڈاکہ زنی کی سزا اور آخرت کی رسوائی سے بچ جائے گا لیکن لوٹے ہوئے مال کی واپسی اور قصاص کا تعلق چونکہ بندوں کے حقوق سے ہے اس لیے ان کا تقاضا باقی رہے گا ۔ اب اس کے اولیاء چاہیں تو معاف کردیں ، چاہیں تو اس کا تقاضا کرلیں ۔ ( صراط الجنان ، پ۶ ، المائدہ ، تحت الآیۃ : ۳۴ ، ۲ / ۴۲۳ )
[6] مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۳۶۲ ۔
[7] مسلم ، کتاب البروالصلۃ ، باب تحریم الغیبۃ ، ص۱۳۹۷ ، حدیث : ۲۵۹۰ ۔
[8] صحیح ابن حبان ، کتاب البروالصلۃ ، باب الجار ، ۱ / ۳۶۷ ، حدیث : ۵۱۸ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع