30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اجنبی عورت کے ساتھ خلوت خطرناک ہے :
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’یہ اَجنبیہ عورت کے ساتھ تنہائی کی شامت ہے ۔ ‘‘ حضرت ابن ملک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں اُس عورت نے کہا : ” اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر ۔ “ تو یہ نادِم ہوئے اور اس فرمانِ باری تعالیٰ پر عمل کرتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور سارے واقعے کی خبر دی : ( وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا(۶۴)) ( پ۵ ، النساء : ۶۴ ) ترجمۂ کنزالایمان : ’’اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔ ‘‘ پھرحضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ میں اپنے ربّ کے حکم کا انتظار کروں گا ۔ ‘‘ چنانچہ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نمازِ عصر ادا فرمائی تو اللہ تَبَارَک وَ تَعَالٰی نے سورۂ ہود کی مذکورہ آیت نازل فرمائی ۔ ( [1] )
حدیث مذکورہ میں بیان کیا گیا کہ نیکیاں برائیوں کو مٹاتی ہیں ، جب اُن صاحب سے گناہ ہوگیا تو وہ نادم ہوکر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور اپنا گناہ بیان کیا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آیت نازل فرمائی اور اس میں حکم دیا کہ نماز قائم کریں ، اُن کے گناہ معاف ہوجائیں گے ۔ اس سے یہ بھی پتہ چلا کہ نماز سے گناہ معاف ہوتے ہیں ۔ لیکن وہ کونسے گناہ ہیں جو نماز سے معاف ہوتے ہیں؟ اس بارے میں علامہ ابن بطال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز سے صغیرہ گناہ معاف ہوتے ہیں کیونکہ بوسہ اور اُس جیسے اَفعال جو مرد عورت سے کرتا ہے ( جماع کے علاوہ ) وہ ” اَللَّمَمَ“کے تحت داخل ہیں جن کے بخشنے کا ربّ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے بشرطیکہ بندہ کبیرہ گناہوں سے بچے جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
اَلَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ اِلَّا اللَّمَمَؕ-اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِؕ- ( پ۲۷ ، النجم : ۳۲ )
ترجمۂ کنزالایمان : جو بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے بے شک تمہارے ربّ کی مغفرت وسیع ہے ۔
اور کبیرہ گناہوں کے بارے میں اہلِ سنت کا اِجماع ہے کہ اُن کے معاف ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بندہ سچی توبہ کرے ، اُن پر نادم ہواور اِس بات کا پکا اِرادہ کرے کہ اُن گناہوں کی طرف دوبارہ نہیں لوٹے گا ۔ ( [2] )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مذکورہ حدیث کے پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ نمازِ فجر اور ظہر دن کے اِس کناروں کی نمازیں ہیں اور عصرو مغرب دوسرے کنارے کی اور عشاء رات کی ، لہٰذا یہ آیت پانچوں نمازوں کو شامل ہے ، زلف زلفت سے بنا ، بمعنیٰ قُرب یعنی رات کا وہ ٹکڑا جو دِن سے قریب ہے ۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے : ( وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْﭪ(۱۳)) ( پ۳۰ ، التکویر : ۱۳ ) ( ترجمۂ کنزالایمان : اور جب جنت پاس لائی جائے ۔ ) ( یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا یہ حکم صرف میرے لیے ہے ؟ ) یہ آیت اگرچہ تیرے بارے میں اُتری مگر اس کا حکم عام ہے ۔ کوئی مسلمان کوئی گناہِ صغیرہ کرے ، اس کی نمازیں وغیرہ معافی کا ذریعہ ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اجنبیہ سے خلوت اور بوس وکنار گناہِ صغیرہ ہے ، ہاں یہ جرم بار بارکرنے سے کبیرہ بن جائے گا کیونکہ صغیرہ پر دوام کبیرہ ہے اوریہ جان کربوس وکنارکرنا کہ نماز سے معاف کرالیں گے کفر ہے کہ یہ ﷲ پر اَمن ( یعنی نڈر ہونا ) ہے ۔ یہ حدیث اس کے لئے ہے جو اتفاقًا ایسا معاملہ کر بیٹھے ، پھر شرمندہ ہوکر توبہ کرے ، لہٰذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ اِس میں اُن حرکتوں کی اجازت دے دی گئی ۔ یہاں مِنْ اُمَّتِی فرمانے سے معلوم ہوا کہ یہ آسانیاں صرف اِس امت کے لئے ہیں گزشتہ اُمَّتُوں کی معافی بہت مشکل ہوتی تھی ۔ ( [3] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! مذکورہ حدیث پاک سے جہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت اور اس کے فضل کا پتہ چلا کہ اس کے بندے جب اس کی بارگاہ میں شرمندہ اور نادم ہو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں تووہ اپنے بندوں کے گناہوں کو معاف فرمادیتا ہے وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ اجنبی مردوعورت کا تنہائی اختیار کرنا نہایت ہی خطرناک ہے ۔ آج کل ہمارے معاشرے میں اجنبی مردوں وعورتوں کے اختلاط وتنہائی کی بیماری بھی بڑی تیزی سے پھیلتی چلی جارہی ہے ، یقیناً یہ فحاشی وبے حیائی تک پہنچنے کی وہ سیڑھی ہے کہ جو اس سیڑھی پر چڑھ گیا اس کا بے حیائی سے بچنا بہت ہی مشکل ہے ، نہایت ہی غیرت اور خوف خدا کا مقام ہے ، کوئی بھی غیرت مند مسلمان اس بات کو قطعاً پسند نہیں کرے گا ۔ اجنبی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار کرنے کی مذمت پر مشتمل تین فرامین مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ملاحظہ کیجئے : ( 1 ) ’’عورتوں کے پاس جانے سے بچو ۔ ‘‘ ایک شخص نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! دیور کے متعلق کیا حکم ہے ؟ ‘‘ فرمایا : ’’دیور موت ہے ۔ ‘‘ ( [4] ) یعنی دیور کے سامنے ہونا گویا موت کا سامنا ہے کہ یہاں فتنے کا زیادہ احتمال ہے ۔ ( 2 ) ’’اپنی عورت یعنی ستر کی جگہ کو محفوظ رکھو مگر بی بی یا اس باندی سے جس کے تم مالک ہو ۔ ‘‘ ( [5] ) ( 3 ) ’’جب مرد عورت کے ساتھ تنہائی میں ہوتا ہے تو وہاں تیسرا شیطان ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( [6] )
[1] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ ، ۲ / ۲۶۸ ، تحت الحدیث : ۵۶۶ ۔
[2] شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الصلاۃ ، باب الصلاۃ کفارۃ ، ۲ / ۱۵۵ ۔
[3] مرآۃ المنا جیح ، ۱ / ۳۶۱ ۔
[4] بخاری ، کتاب النکاح ، باب لا یخلون رجل بامراۃ الا ذو محرم ۔ ۔ ۔ الخ ، ۳ / ۴۷۲ ، حدیث : ۵۲۳۲ ۔
[5] ابن ماجۃ ، کتاب النکاح ، باب التستر عند الجماع ، ۲ / ۴۴۸ ، حدیث : ۱۹۲۰ ۔
[6] ترمذی ، کتاب الفتن ، باب ما جاء فی لزوم الجماعۃ ، ۴ / ۶۷ ، حدیث : ۲۱۷۲ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع