30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گا پھر اس پر عتاب نہ فرمائے گا کہ معافی کے بعد عتاب کرنا ہمارے ربّعَزَّ وَجَلَّ کی شان نہیں ہے ۔ چنانچہ حضرت سیدنا محمد بن حنفیہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنَاعلی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی : ( فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْلَ(۸۵)) ( پ۱۴ ، الحجر : ۸۵ ) ترجمۂ کنزالایمان : ’’تو تم اچھی طرح درگزر کرو ۔ ‘‘ تو رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دریافت فرمایا : ’’اے جبریل ! اَلصَّفْحُ الْجَمِیْل کیا ہے ؟ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے جواب دیا : ’’جب آپ ظلم کرنے والے کو معاف کردیں تو پھر اُسے ملامت نہ کریں ۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اے جبریل ! پھر تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے کرم کی بدولت اِس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ جس سے درگزر فرمائے تو اُس پر عتاب نہ کرے ۔ ‘‘ یہ سن کر سَیِّدُنَا جبریل عَلَیْہِ السَّلَام رونے لگے اور رسولِ پاک ، صاحب لَولَاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی رونے لگے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان دونوں کی طرف حضرت سَیِّدُنَا میکائیل عَلَیْہِ السَّلَامکو پیغام دے کر بھیجا کہ تمہارا رب تم دونوں کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے : ’’جس کومیں معاف کردوں گا اس پرعتاب کیسے کروں گا؟ ایسا کرنا میرے کرم کے شایان شان نہیں ۔ ‘‘ ( [1] )
مٹا دے ساری خطائیں مری مٹا یاربّ ……… بنا دے نیک بنا نیک دے بنا یاربّ
گناہ گار ہوں میں لائق جہنم ہوں ……… کرم سے بخش دے مجھ کو نہ دے سزا یاربّ
گناہ بے عدد اور جرم بھی ہیں لاتعداد ……… معاف کردے نہ سہہ پاؤں گا سزا یاربّ
میں کرکے توبہ پلٹ کر گناہ کرتا ہوں ……… حقیقی توبہ کا کردے شرف عطا یاربّ
مدنی گلدستہ
’’وہ غفور ہے ‘‘ کے 8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 8مدنی پھول
(1) قیامت کے دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ مؤمنوں کو قُربِ خاص سے نوازے گا ۔
(2) اللہ عَزَّ وَجَلَّ دنیا میں بھی مسلمانوں کے گناہوں کو ظاہرنہیں فرماتا ۔
(3) قیامت کے دن اللہ عَزَّ وَجَلَّمسلمانوں کی پردہ پوشی فرمائے گا اور اُنہیں ساری مخلوق کے سامنے رُسوا نہیں فرمائے گا ۔
(4) اللہ عَزَّ وَجَلَّ قیامت کے دن مسلمانوں کے گناہوں کو معاف فر مائے گا ۔
(5) مسلمانوں کی صرف نیکیاں ظاہر ہوں گی ۔
(6) کفارِ بد اَطوار روزِ محشر بھی ربّ تعالیٰ کی پاک بار گاہ میں مَعَاذاللہجھوٹ بولیں گے ۔
(7) روزِ محشر نیکوں کے چہرے چمکتے ہوں گے ۔
(8) اللہ عَزَّ وَجَلَّمکان اور قریب و بعید ہونے سے پاک ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ کل بروزِ قیامت ہمیں بلا حساب وکتاب جنت میں داخل فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 434 نیکیاں گناہوں کو مٹاتی ہیں
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍرَضِیَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَجُلًا اَصَابَ مِنِ امْرَاَةٍ قُبْلَةً فَاَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاَخْبَرَهُ فَاَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّوَجَلَّ : ( وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ ) فَقَالَ الرَّجُلُ : اَلِیَ هٰذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : لِجَمِيعِ اُمَّتِي كُلِّهِمْ. ( [2] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ ایک شخص نے کسی عورت کا بوسہ لے لیا ۔ پھر ( نادم ہوکر ) حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور سارا ماجرا عرض کیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی :
وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِؕ-اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِؕ ( پ۱۲ ، ھود : ۱۱۴ )
ترجمۂ کنزالایمان : اور نماز قائم رکھو دن کے دونوں کناروں اور کچھ رات کے حصوں میں بے شک نیکیاں برائیوں کو مٹادیتی ہیں ۔
اس شخص نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا یہ حکم صرف میرے لیے ہے ؟ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ میری تمام اُمَّت کے لیے ہے ۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع