دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

بڑی اُمید ہے ، یہ باب بھی رحمتِ الٰہی سے اُمید کے بارے میں ہے ، اس لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ حدیث اس باب میں بیان فرمائی ہے ۔

قُربِ الٰہی کی کیفیت :

حدیث پاک میں ہے : ’’قیامت کے دن بندۂ مؤمن کواپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے قریب کردیا جائے گا ۔ “یہاں قربت سے مراد مکانی قربت نہیں بلکہ مرتبے اور درجے کے لحاظ سے قُربت مراد ہے کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ مکان و مسافت سے پاک ہے جیسا کہ عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’قُربِ الٰہی کامعنیٰ یہ ہے کہ مرتبے اوراِحسان میں قریب ہونا ، نہ کہ مسافت میں قریب ہونا کیونکہاللہ تعالیٰ مسافت اورا ُس کے قُرب سے پاک سے ہے ۔ ‘‘ ( [1] )

نزہۃ القاری میں ہے : ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّشہید وبصیر ہے بندہ کہیں بھی ہو اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس کے قریب ہے ، اس لیے شراح نے اس سے تَقَرُّبِ رُتبی مراد لیا ہے نہ کہ تَقَرُّبِ مکانی ۔  اس سے مراد اِظہارِ تَقَرُّب ہے یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّاپنی کوئی خاص تجلی ظاہر فرمائے گا جس سے بندہ یہ محسوس کرے گا کہ وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّسے قریب ہے ۔  اللہ عَزَّ  وَجَلَّاپنے فضلِ خصوصی سے اس بندۂ گنہگار کو اپنی تجلی میں ایسا چھپالے گا کہ دوسروں کی نظروں سے پوشیدہ رہے گا اور جو کلام فرمائے گا اس پر اس کے دوسرے بندے مطلع نہ ہوں گے ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی شان کریمی کا یہ ایک جلوہ ہے کہ اپنے کسی گنہگار بندے پر یہ عنایتِ خصوصی فرمائے گا ۔ ‘‘ ( [2] )

یہ حدیث متشابہات سے ہے :

یہ حدیث پاک متشابہات میں سے ہے ، متشابہ حدیث وہ ہوتی ہے جس کے حقیقی معنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں اور اس کے الفاظوں کے ظاہری معنی مراد نہیں ہوتے ۔ چنانچہ عمدۃ القاری میں عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’یہ حدیث متشابہات میں سے ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ اس کے معنیٰ کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر چھوڑ دیا جائے یا ایسی تاویل کی جائے تو اس کے لائق ہو ۔ ‘‘ ( [3] )

روزِ محشرحضور کی اُمَّت  رُسوا نہ ہوگی :

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بندے کواپنی رحمت کے سایہ میں چھپالے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے اس کے گناہوں کا اِقرار کروائے تو ساری مخلوق کے سامنے اُس کی ذِلَّت و رُسوائی نہ ہو اور مخلوق اُس کے گناہوں پر مطلع نہ ہو ۔ اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ یعنی اہلِ محشر سے اس کو چھپالے گا اور اُس بندے کو شرمندگی و رُسوائی سے بچائے گا ۔ ‘‘ ( [4] ) عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین اَحْمَد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّاسے محفوظ فرمالے گا اور اس کو میدانِ محشر سے جُدا کرتے ہوئے اہلِ محشر سے وہاں چھپالے گا جہاں وہ ربّ تعالیٰ اس سے اس کے گناہوں کو خفیہ طور پر ذکر فرمائے گا ۔ ‘‘ ( [5] )

پردہ پوش آقا کی اُمَّت کی پردہ پوشی :

جب ربّ تعالیٰ بندے کو اس کے گناہ یاد دلائے گا تو مؤمن فوراً اپنے گناہوں کا اِقرار کرلے گا جبکہ کافر حیلے بہانے کریں گے جیسا کہ مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اس فرمانِ عالی سے دو باتیں معلوم ہوئیں :  ( 1 ) ایک یہ کہ مؤمن اپنے گناہوں کا فورًا اِقرار کرے گا وہاں بہانے نہ بنائے گا ، کفار جھوٹ بولیں گے : (  وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِیْنَ(۲۳)) ( پ۷ ، الانعام :  ۲۳ ) ( ترجمۂ  کنزالایمان  : ہمیں اپنے رب اللہ کی قسم کہ ہم مشرک نہ تھے ۔  ) ( 2 ) دوسرے یہ کہ مؤمنوں  کی نیکیوں کا حساب علانیہ ہوگا گناہوں کا حساب خفیہ ہوگا بلکہ نیکوں کی نیکی چہروں پر نمودار ہوگی کہ اُن کے منہ چمکتے ہوں گے مگر بدوں کی برائیاں چہروں پر ظاہر نہ ہوں گی ، اُن کے منہ نہ بگڑیں گے ، کیوں نہ ہو کہ یہ لوگ پردہ پوش لجپال محبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی اُمَّت ہیں ، ان کی پردہ پوشی دنیا میں بھی ہے ، آخرت میں بھی ہوگی ۔ ‘‘ ( [6] )

اُمَّتِ مسلمہ پر ربِّ کریم کا فضلِ عظیم :

 ” شرح ابن بطال“ میں ہے :  ’’امام مہلب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا اپنے مؤمن بندوں پر بڑا فضل ہے کہ وہ قیامت کے دن اُن کے گناہوں کو چھپائے گااور اُن میں سے جس کے چاہے گا گناہوں کو معاف فرمائے گا ۔ ‘‘ ( [7] )

معافی کے بعد عتاب کرنا ربّ کی شان نہیں :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  مؤمنوں پر کل بروزِقیامت ان کے ربّ کریم عَزَّ  وَجَلَّ کا یہ بہت بڑا فضل ہوگا کہ وہ ان کے گناہوں کو چھپائے گا ، اور ربّ تعالیٰ جس کے گناہوں کو معاف فرمادے



[1]      شرح مسلم للنووی ، كتاب التوبہ ، باب سعۃ رحمۃاللہ ، ۹ /  ۸۷ ، الجزء السابع عشر  ۔

[2]     نزہۃ القاری ، ۳ / ۶۶۴ ۔

[3]      عمدۃ القاری ، کتاب البروالصلۃ ، باب ستر المؤمن علی نفسہ ، ۱۵ / ۲۲۲ ، تحت الحدیث :  ۶۰۷۰ ۔

[4]      شرح الطیبی ، کتاب احوال القیامۃ ، باب الحساب والقصاص والمیزان ، ۱۰ / ۱۸۸ ، تحت الحدیث : ۵۵۵۱ ۔

[5]      ارشاد الساری ، کتاب بدء الوحی ، باب قولہ :  وکلم اللہ موسی تکلیما ، ۱۵ /  ۵۵۷ ، تحت الحدیث :  ۷۵۱۴ ۔

[6]      مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۳۸۴ ۔

[7]      شرح بخاری لابن بطال ، کتاب المظالم والغضب ، باب قولہ تعالی :  الا لعنۃ اللہ علی الظالمین ، ۶ / ۵۷۰ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن