30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قانون کے خلاف ہے : ( لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۚ-) ( [1] ) ( پ۸ ، الانعام : ۱۶۴ ) ترجمۂ کنزالایمان : ’’اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی ۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبدالعزیز اور حضرت سَیِّدُنَا امام شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمَاسے مروی ہے کہ’’اس حدیث میں مسلمانوں کے لیے بہت بڑی بشارت ہے کہ اس میں تصریح ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر مسلمان کو جنت میں داخل کرے گا اور اس کے بدلے میں ایک یہودی یا نصرانی کو جہنم میں داخل فرمائے گا ۔ ‘‘ ( [2] )
ربّ سے بلند درجات کا سوال کرو :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ربّ تعالیٰ کی رحمت بہت بڑی ہے ، اپنے پاک پروردگار عزوجل سے بلندی درجات کا سوال کرتے رہنا چاہیے ۔ چنانچہ رسولِ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے بلند درجات کا سوال کیا کرو اس لیے کہ تم کریم ( یعنی کرم فرمانے والی ذات ) سے سوال کررہے ہو ۔ ‘‘ ( [3] ) ایک حدیث پاک میں ہے کہ’’جب تم اللہ عَزَّوَجَلَّ سے سوال کرو تو اس سے فردوس اعلیٰ کا سوال کرو ۔ ‘‘ ( [4] )
یاخدا میری مغفرت فرما ……… باغِ فردوس مرحمت فرما
موت ایماں پہ دے مدینے میں ……… اور محمود عاقبت فرما
مدنی گلدستہ
’’فاروق ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) کل بروزِ قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ مسلمانوں پراپنا خاص فضل وکرم فرمائے گا ۔
(2) اگر کسی کے گناہ پہاڑ کے برابر بھی ہوں تب بھی اسے رحمتِ خدا وندی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔
(3) کفار مسلمانوں کا فدیہ بن کر واصل جہنم ہوں گے کہ وہ جہنم ہی کے مستحق ہیں ۔
(4) کفار اپنے کفر اور اَعمال کی وجہ سے دوزخ میں جائیں گے نہ کہ مسلمانوں کے گناہوں کی وجہ سے ۔
(5) قیامت کے دن کوئی کسی کے گناہ کا بوجھ نہ اٹھا ئے گا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حشر کی ذِلَّت ورُسوائی سے محفوظ فرمائے ، پیارے آقا مدینے والے مصطفے ٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت نصیب فرمائے ، جنت میں داخلہ نصیب فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 433 رَحمتِ الٰہی کا پردۂ خاص
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يُدْنَى الْمُؤْمِنُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَتّٰى يَضَعَ كَنَفَهُ عَلَيْهِ فَيُقَرِّرُهُ بِذُنُوبِهِ فَيَقُولُ : اَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ اَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا؟ فَيَقُولُ : رَبِّ اَعْرِفُ ، قَالَ : فَاِنِّي قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا وَاِنِّي اَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ فَيُعْطَى صَحِيفَةَ حَسَنَاتِهِ. ( [5] )
حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ میں نے حضورنبی پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’قیامت کے دن بندۂ مؤمن کواپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کے قریب کردیا جائے گا یہاں تک کہاللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر اپنا پردہ رکھے گا اور اس سے گناہوں کا اِقرار کرواتے ہوئے پوچھے گا : کیاتو اِس گناہ کو پہچانتا ہے ؟ کیاتو اِس گناہ کو پہچانتا ہے ؟ تو بندہ عرض کرے گا : ہاں میرے ربّ ! میں پہچانتا ہوں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فر مائے گا : بیشک دنیا میں ، میں نے تیرے گناہوں کو چھپایا تھا اور آج تیرے گناہوں کو بخشتا ہوں ۔ پھر اس کی نیکیوں کارجسٹر اس کو دے دیا جائے گا ۔ ‘‘
مذکورہ حدیث پاک میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کا زبردست بیان موجود ہے کہ قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ مسلمانوں کو اپنا قُربِِ خاص عطافر مائے گا نیز بندوں کو اُن کے گناہوں پر عذاب دینے کے بجائے معاف فرما ئے گا اور اُن کی نیکیوں والا نامَۂ اعمال اُن کے ہاتھ میں دے دیا جائے گا ۔ یقیناً تمام مسلمانوں کے لیے یہ ربّ تعالیٰ کی رحمت سے بخشش ومغفرت کی ایک
[1] مرآۃ المنا جیح ، ۷ / ۳۸۵ ۔
[2] شرح مسلم للنووی ، کتاب التوبۃ ، باب فی سعۃ رحمۃ اللہ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۹ / ۸۵ ، الجزء السابع عشر ۔
[3] قوت القلوب ، الفصل الثانی والثلاثون : شرح مقامات الیقین ، ۱ / ۳۷۴ ۔
[4] بخاری ، کتاب الجھاد والسیر ، باب درجات المجاھدین ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۲۵۰ ، حدیث : ۲۶۷۹ ۔
[5] بخاری ، کتاب التفسیر ، باب ویقول الاشھاد ۔ ۔ ۔ الخ ، ۳ / ۲۴۶ ، حدیث : ۴۶۸۵ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع