30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سنت ہے ۔ !تیسرے یہ کہ میت کے نام کا کھانا اس کے پیاروں دوستوں کو دینا بہتر ہے ، اس سے میت کوبہت خوشی ہوتی ہے ، ایک ثواب پہنچنے کی دوسرے اس کے دوستوں پیاروں کی امداد ہونے کی ۔ بعض لوگ گیارہویں کا کھانا سیدوں کو ، مزارات کے چڑھاوے وہاں کے مجاوِرُوں کو دیتے ہیں اُن کی اصل یہ حدیث ہے کہ مجاوِرِین اور اولاد میت کو پیارے ہوتے ہیں ۔ چوتھے یہ کہ میت کو دنیا کے حالات کی خبر رہتی ہے تب ہی تو وہ اپنے پیاروں پر صدقہ کرنے سے خوش ہوتی ہے ۔ ( [1] )
سب سے پہلے ایمان لانے والی خاتون :
عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین اَحْمَد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’حدیثِ پاک میں جو کَانَتْ کَانَتْ یعنی حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا ایسی تھیں ، ایسی تھیں کی تکرار ہے ۔ اس تکرارسے حضرت سیدتنا خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے خصائل مرادہیں جو ا ُن کی فضیلت پردلالت کرتے ہیں کہ وہ فاضلہ ، عاقلہ اور پرہیزگارتھیں ۔ اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مَروی ہے کہ سرکارِمدینہ راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا ” حضرت خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا مجھ پر اس وقت ایمان لائیں جب لوگوں نے میراانکارکیا ، میری اس وقت تصدیق کی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا اورمیری مال کے ذریعے اس وقت مددکی جب لوگوں نے مجھے اپنا مال نہ دیا ۔ “ ( [2] )
قیامت تک کے سادات کی نانی جان :
مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیث کے الفاظ ” وہ ایسی تھیں وہ ایسی تھیں“کے تحت فرماتے ہیں : ’’یہاں پرحضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے حضرت خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی بہت سی صفات کی طرف اشارہ فرمایاہے کہ وہ بہت روزہ دار ، تہجد گزار ، میری بڑی خدمت گزار ، میری تنہائی کی مُونِس ، میری غمگسار ، غار حراء کے چلّے میں میری مددگار تھیں ، حضرتِ سَیِّدَتُنا فاطمہ زہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی ماں اورقیامت تک کے سیدوں کی نانی ہیں ۔ ‘‘ ( [3] )
رسولُ اللہ کی سیدہ خدیجہ سے اَولاد :
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے اِس فرمان ” ان سے میری اولاد ہے ۔ “کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس کامطلب یہ ہے کہ تمام اولاداُن ہی سے ہوئی ہے یہاں تک کہ حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بھی ، سوائے حضرت سیدنا ابراہیمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے کہ وہ حضرت سیدتنا ماریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بطن سے پیدا ہوئے ۔ حضرت سیدتنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاقرشیہ ہیں ، پہلے یہ ابن ہالہ بن زرارہ کے نکاح میں تھیں ، پھر عتیق بن عابد کے نکاح میں رہیں ، پھر حضور تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے نکاح میں آئیں ، اُس وقت اُن کی عمرچالیس سال تھی اورحضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کایہ پہلانکاح تھا ، اِس سے پہلے کسی بھی خاتون سے نہ توآپ نے نکاح فرمایااور نہ ہی سیدہ خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی موجودگی میں کسی اورسے نکاح کیاحتی کہ اُن کی وفات ہوگئی ۔ اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے مَردوں اورعورتوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی عمر۶۵ پینسٹھ سال تھی اوروفات کے بارے میں تین قول ہیں : ہجرت سے پانچ ، چاریاتین سال پہلے مکہ مکرمہ میں وفات ہوئی ۔ اُس وقت سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوت کے دس سال گزرے تھے ، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی تدفین مقامِ حجون میں ہوئی اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کو سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ پچیس سال شریک حیات رہنے کاشرف حاصل ہوا ۔ ‘‘ ( [4] )
سیدہ ہالہ بنت خویلدکاحضورسے اجازت مانگنا :
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’حضرت سیدتنا ہالہ بنتِ خویلد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اجازت مانگی تو اس سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حضرت سیدتنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا اجازت مانگنایادآگیا کیونکہ اِن کی آوازحضرت سیدتنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی آواز سے ملتی تھی ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خوشی سے کھڑے ہوگئے اور فرمایا : ’’یا اللہ ! یہ توہالہ ہیں ۔ ‘‘ ( [5] )
مدنی گلدستہ
سیدہ’’خدیجہ ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاحضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی محبوب ترین زوجہ تھیں کہ آپ اکثر دیگر اَزواج کے سامنے ان کے اوصاف بیان فرماتے ۔
(2) آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سیدتنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کی طرف سے بکری ذبح فرماتے اور اُس کا گوشت اُن کی سہیلیوں کے گھروں میں بھیجا کرتے تھے ۔
(3) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے سب سے پہلے حضرت سیدتنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے نکاح فرمایا ، اِس سے پہلے کسی بھی عورت سے نہ توآپ نے نکاح فرمایااور نہ ہی اُن کی موجودگی میں کسی اورسے نکاح کیا ۔
[1] مرآۃ المناجیح ، ۸ / ۴۹۶ ، ۴۹۷ ۔
[2] ارشاد الساری ، کتاب مناقب الانصار ، باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وسلم خدیجۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، ۸ / ۳۳۳ ، تحت الحدیث : ۳۸۱۸ ۔
[3] مرآۃ المناجیح ، ۸ / ۴۹۷ملخصًا ۔
[4] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب المناقب والفضائل ، باب مناقب ازوج النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱۰ / ۵۵۶ ، تحت الحدیث : ۶۱۸۶ ۔
[5] عمدۃ القاری ، کتاب مناقب الانصار ، باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱۱ / ۵۳۴ ، تحت الحدیث : ۳۸۲۱ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع