دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

یا تین صفوں سے کم اَفراد کی شفاعت قبول نہ ہوگی بلکہ ہر حدیث معمول بہا ہے اور کم سے کم عدد پر شفاعت حاصل ہوجائے گی ۔ ‘‘ ( [1] ) ( یعنی اگر تین 3صفوں میں چالیس ( 40 ) سے کم اَفراد ہیں تو بھی مغفرت ہوجائے گی اور اگر چالیس ( 40 ) اَفراد تو ہیں مگر صفیں تین سے کم ہیں تو بھی ربّ کے فضل سے شفاعت ہوجائے گی ۔  )

کسی کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  مذکورہ حدیث پاک سے جہاں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت کا بہترین نظارہ دیکھنے کو ملا کہ فقط جنازے میں شرکت کرنے والے نیک لوگوں کے سبب میت کی مغفرت فرمادیتا ہے وہیں یہ بھی پتا چلا کہ کسی بھی شخص کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے ، ہوسکتاہے کہ وہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا کوئی نیک اور مغفرت یافتہ بندہ ہو اور اس کے صدقے ہماری مغفرت فرمادی جائے بلکہ بسا اوقات تو لوگوں کے کسی کو حقیر سمجھنے کے سبب بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اس کی مغفرت فرمادیتا ہے ۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا عبد الوہاب بن عبد المجید ثقفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  میں نے ایک جنازہ دیکھا جسے تین مرد اور ایک خاتون نے اٹھارکھا تھا ، خاتون کی جگہ میں نے اٹھالیا ، پھر ہم جنازے کو قبرستان لے گئے ، نماز جنازہ پڑھنے اور تدفین کے بعد میں نے اس خاتون سے معلوم کیا کہ میت سے آپ کا کیا رشتہ تھا؟ بولی :  میرا بیٹا تھا ۔  میں نے پوچھا :  پڑوسی وغیرہ جنازے میں کیوں نہیں آئے ؟ اس نے کہا : ’’انہوں نے اس کے معاملے کو حقیر سمجھ کر کوئی اہمیت نہیں دی ۔   ‘‘  میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو اس نے کہا :  ’’میرا فرزند ہیجڑا تھا ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَاعبد الوہاب بن عبد المجید ثقفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  مجھے اس غمزدہ ماں پر بڑا رحم آیا ، میں اسے اپنے گھر لے آیا ، اسے رقم ، گیہوں اور کپڑے پیش کیے ۔  اسی رات سفید لباس میں ملبوس ایک آدمی چودھویں کے چاند کی طرح چہرہ چمکاتا ہوا میرے خواب میں آیا اور شکریہ ادا کرنے لگا ۔  میں نے پوچھا :  آپ کون ہیں؟ بولا :  ’’میں وہی مخنث ہوں جسے آج آپ لوگوں نے دفن کیا تھا ، لوگوں کے حقیر سمجھنے کی وجہ سے میرے ربّ عَزَّ  وَجَلَّ نے مجھ پر رحم فرمایا ۔ ‘‘ ( [2] )

مدنی گلدستہ

’’مسلم  ‘‘   کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور

 اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول

(1)   ہر مسلمان کی نماز  جنازہ پڑھنی چاہیے ہوسکتا ہے اس جنازے میں شریک کسی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے نیک بندے کے سبب ہماری بھی مغفرت ہوجائے ۔

(2)   نیک لوگوں کی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ  گنہگاروں کی مغفرت فرمادیتا ہے ۔

(3)   مسلمانوں کی  اجتماعی دعا قبول ہوتی ہے   ۔

(4)   شرک  بہت ہی بڑا گناہ ہے اس کی وجہ سے کوئی بھی عمل قبول نہیں ہوتا ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہماری حتمی مغفرت فرمائے ، بلا حساب جنت میں داخلہ عطا فرمائے ۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 431                                                                                                            جنت میں زیادہ تعداد میں جانے والی اُمَّت

عَن ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ  قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِّنْ اَرْبَعِينَ فَقَالَ : اَتَرْضَوْنَ اَنْ تَكُونُوا رُبُعَ اَهْلِ الْجَنَّةِ؟ قُلْنَا : نَعَمْ !  قَالَ :  اَتَرْضَوْنَ اَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ اَهْلِ الْجَنَّةِ؟ قُلْنَا :  نَعَمْ !  فَقَالَ :  وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ ، اِنِّي لَاَرْجُو اَنْ تَكُونُوا نِصْفَ اَهْلِ الْجَنَّةِ وَذٰلكَ اَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا اِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ وَمَا اَنْتُمْ فِي اَهْلِ الشِّرْكِ اِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْاَسْوَدِ ، اَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْاَحْمَرِ. ( [3] )

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم چالیس ( 40 ) کے قریب اَفراد حضورسرورِ دوعالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ ایک خیمہ میں حاضر تھے ، سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہم سے ارشاد فرمایا : ” کیا تم اس بات پر راضی ہوکہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟“ ہم نے  عرض کی : ’’ جی ہاں ۔ ‘‘ پھرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ” کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو؟  ‘‘   ہم نے  عرض کی : ’’ جی ہاں ۔   ‘‘  پھرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ” مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ٔقدرت میں محمد ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )  کی جان ہے  ! مجھے اُمید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف حصہ بنو گے کیونکہ جنت میں صرف مسلمان ہی جائیں گے اور مشرکین کے مقابلے میں تمہاری تعداد ایسے ہوگی جیسا کہ سیاہ بیل کی کھال میں  سفید بال یاسرخ بیل کے چمڑے میں سیاہ بال  ۔   ‘‘ 

اُمَّتِ محمدیہ کے لیے بشارت عظمٰی :

اس حدیث پاک میں اُمَّتِ محمدیہ کے لیے بڑی بشارت ہے کہ جنت میں سب سے زیادہ تعداد اُمتِ محمدیہ کی ہوگی نیز رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جانتے ہیں کہ جنت میں کس اُمَّت کی کتنی تعداد ہوگی جبھی تو بتادیا کہ جنتیوں میں آدھے جنتی اِس اِمَّت کے ہوں گے بلکہ بعض احادیث مبارکہ میں تو اس بات کا بھی بیان ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم



[1]      شرح مسلم للنووی ، کتاب الجنائز ، باب من صلی علیہ اربعون شفعوا فیہ ، ۴ / ۱۷ ، الجزء السابع ۔

[2]     احیاء العلوم ، ۴ / ۴۴۹ ۔

[3]      بخاری ، كتاب الرقاق ، باب كیف الحشر ، ۴ / ۲۵۳ ، حدیث : ۶۵۲۸ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن