حدیث نمبر429 گناہوں کے مَیل کو دُور کرنے والی نہر
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بڑا فضل وکرم ہے کہ مؤمن کو اس کی نیکیوں کا صلہ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی اُسے نیکیوں کا اجر ملے گا ۔  چنانچہ مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی مؤمن کو اس کی نیکیوں کا فائدہ دنیا میں بھی ملتا ہے ، ربّ تعالیٰ فرماتا ہے : (  وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ(۲) وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُؕ- ) ( پ۲۸ ، الطلاق : ۳ ، ۲ ) ( ترجمۂ  کنزالایمان  : اورجو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لیے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو ۔  ) تقویٰ کی برکت سے ہر آفت سے نجات ، رزق میں فراخی ، عزت و عظمت سب ملتی ہے مگر یہاں کی چیزوں سے اس کی آخرت کی جزاکم نہیں ہوتی جیسے سرکاری ملازم کا بھتہ تنخواہ میں نہیں کٹتا اور کافر کی دنیاوی تکالیف آخرت کے عذاب کو کم نہیں کرتیں جیسے ملزم کی حوالات کا زمانہ جیل کی مدت میں نہیں کٹتا ۔  ( آخرت میں کافر کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جس کا اجر اسے دیا جائے ۔  ) یعنی کافر جو دنیا میں ہو ا ، دھوپ ، غذا پانی وغیرہ کھاپی لیتا ہے وہ اس کی نیکیوں کے حساب میں آجاتا ہے ۔ جب آخرت میں پہنچے گا تو اس کا حساب صاف ہوچکا ہوگا وہاں کچھ نہ پائے گا ۔ مؤمن دنیا میں قانون سے کھاتا پیتا ہے ، آخرت میں محبت سے اجر پائے گا ۔ قانون میں حساب ہے ، محبت میں بے حسابی ۔ ہوٹل میں کھانا حساب سے ملتا ہے ، دعوت میں بغیر حساب کے کہ ہوٹل قانون کی جگہ ، دعوت محبت کا ظہور : (  یُرْزَقُوْنَ فِیْهَا بِغَیْرِ حِسَابٍ ) مؤمن کی دنیاوی تکالیف اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں حتی کہ بیماریاں ، فکریں ، رِزق کی تنگی سب کفارات ہیں : ﴿  مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا یُّجْزَ بِهٖۙ ﴾کا یہ ہی مطلب ہے ۔ ‘‘ ( [1] )

ایک جملہ دنیا وآخرت کی تباہی کا سبب :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بڑا فضل وکرم ہے کہ مؤمن کو اس کی نیکیوں کا صلہ دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی اُسے اجر ملے گا ۔ مگر ہمیشہ بندے کو ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے منہ سے کوئی ایسی بات نکل جائے جس سے میرے اعمال تباہ وبرباد ہوجائیں کہ بسا اوقات ایک جملہ بھی دنیا وآخرت کی تباہی وبربادی کا سبب بن جاتا ہے ۔  چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے  روایت ہے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ” بنی اسرائیل کے دو شخصوں کے مابین دوستی تھی ، ان میں سے ایک گناہوں میں مبتلا رہتا تھا اور دوسرا عبادت گزار تھا ۔ عبادت گزار جب بھی گناہگار کو دیکھتا تو اسے گناہوں سے باز رہنے کا کہتا ۔ ایک روز اُس نے اسے کوئی گناہ کرتے دیکھا تو باز رہنے کا کہا  ۔ گناہگار نے کہا : مجھے میرے رب پر چھوڑ دو ، کیا تم مجھ پر نگران ہو؟عبادت گزار نے کہا : خدا کی قسم ! اللہ عَزَّ  وَجَلَّتیری مغفرت نہیں فرمائے گایا تجھے جنت میں داخل نہیں کرے گا ۔  مرنے کے بعد دونوں جب بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہوئے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے عبادت گزار  سے فرمایا : کیا تجھے میرے متعلق سب کچھ علم ہے یا میرے اختیارات تیرے قبضے میں ہیں ؟ گناہگار سے ارشاد فرمایا : جا میری رحمت سے جنت میں دخل ہوجا ۔ اور عبادت گزار کے متعلق فرمایا : اسے جہنم میں لے جاؤ ۔   ‘‘  اس کے بعد حضرت سَیِّدُنَا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ٔقدرت میں میری جان ہے  !  اس عبادت گزار نے ایسی بات کہی جس نے اس کی دنیا وآخرت تباہ کردی ۔ ‘‘ ( [2] )

یا خدا میری مغفرت فرما                     ………    باغِ فردوس مرحمت فرما

دِین اسلام پر مجھے یاربّ                     ………    اِستقامت تو مرحمت فرما

تو گناہوں کو کر معاف اللہ                   ………    میری مقبول معذرت فرما

مصطفے ٰ کا وسیلہ توبہ پر                         ………    تو عنایت مداومت فرما

مدنی گلدستہ

’’مدینہ  ‘‘   کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور

 اُس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول

(1)   کافر اگر کوئی نیکی کرتا ہے تو  اس نیکی کا بدلہ اُسے دنیا میں ہی دے دیا جاتا ہے ۔

(2)   کافر جب خدا کی بار گاہ میں جائے گا تو اس کے پا س کوئی نیکی نہ ہو گی  ۔

(3)   مسلمان کی نیکیاں آخرت میں جمع ہوتی رہتی ہیں  ۔

(4)   مسلمان کی کوئی بھی نیکی ضائع نہیں ہوتی ۔

(5)   بندہ مؤمن کو جو دنیامیں رزق ملتا ہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اطاعت اور فرما برداری کرنے کے صلہ میں ملتا ہے  جبکہ آخرت میں جو اسے جزا دی جائے گی وہ فضل خداوندی کے سبب ہوگی ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں دنیا وآخرت دونوں کی بھلائیاں عطا فرمائے ۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 



[1]      مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۴ ۔

[2]     ابوداود ، کتاب الادب ، باب النھی عن البغی ، ۴ / ۳۶۰ ، حدیث : ۴۹۰۱  ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن