دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

ہاں سے روشن دلائل کے ساتھ آئے تو  میں اُن پر ایمان لایا اور اُن کی تصدیق کی ۔  تو اس سے کہا جائے گا  : تو نے سچ کہا اور تو اِسی دین پر رہا ، اِسی پر مرا اور اِسی پر اٹھایا جائے گا ۔ ‘‘ ( [1] )

قبر میں اللہ کی رحمت سے کامیابی ملے گی :

اِس حدیث پاک سے یہ پتہ چلا کہ کوئی  شخص فقط اپنی کوشش سے کامیاب نہیں ہوسکتا ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے ہی کامیابی ملے گی کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بندوں کو دنیا و آخرت میں دین پر ثابت قدمی عطا فرماتا ہے ۔  جیسا کہ  ” مرآۃ المناجیح“ میں ہے : ’’یہاں آخرت سے مراد قبر ہے ، یعنی قبر میں کوئی شخص اپنی کوشش سے کامیاب نہیں ہوسکتا ، محض ربّ کے کرم سے کامیابی ملے گی ۔ یعنی مؤمنوں کو زندگی اور قبر میں کلمۂ شہادت پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی ثابت قدم رکھتا ہے ، ورنہ دنیا کے بہت سے حالات اور قبر کے سخت سوالات اُسے پھسلانے والے ہیں ۔ قول ثابت سے مراد کلمہ طیبّہ ہے چونکہ قبر میں صرف عقائد کا امتحان ہے ، اِس لئے اَعمال کا ذکر نہ ہوا ۔ ‘‘ ( [2] )

مدنی گلدستہ

’’مومن  ‘‘  کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور

اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول

(1)   قبر میں منکر نکیر نامی دوفرشتے انسان سے اس کے ربّ اور دین کے بارے میں سوال کرتے ہیں ۔

(2)   اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے مسلمان کو دنیا و آخرت میں دینِ اسلام پر استقامت ملتی ہے ۔

(3)   کوئی بھی فقط اپنی کوشش سے کامیاب نہیں ہوسکتا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے مسلمان کو دنیا وآخرت میں  کامیابی ملتی ہے ۔

(4)   قبر میں عقائد کا امتحان ہوگا ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قبر کے جوابات صحیح دینے کی توفیق عطا فرمائے ، ہماری قبر کی تمام منزلیں آسان فرمائے اورہمارا خاتمہ ایمان پر بالخیر فرمائے ۔  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 428                                                                                                              مؤمِن وکافِر کے نیک اَعمال اور اُن کی جزا

عَنْ اَنَسِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّ الْكَافِرَ اِذَا عَمِلَ حَسَنَةً اُطْعِمَ بِهَا طُعْمَةً مِنَ الدُّنْيَا وَاَمَّا الْمُؤْمِنُ فَاِنَّ اللهَ تَعَالٰی  يَدَّخِرُ لَهُ حَسَنَاتِهِ فِي الْآخِرَةِ وَيُعْقِبُهُ رِزْقًا فِي الدُّنْيَا عَلَى طَاعَتِهِ.وَفِیْ رِوَایَۃٍ : اِنَّ اللهَ لَا يَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَةً يُعْطٰى بِهَا فِي الدُّنْيَا وَيُجْزَى بِهَا فِي الْآخِرَةِ وَاَمَّا الْكَافِرُ فَيُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ لِلَّهِ تَعَالٰی فِي الدُّنْيَا حَتّٰى اِذَا اَفْضٰى اِلَى الْآخِرَةِ لَمْ یَکُنْ لَهُ حَسَنَةٌ يُجْزٰى بِهَا. ( [3] )

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا اَنس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  ارشاد فرمایا :  ” جب کافر کوئی نیک عمل کرتاہے تواُس کے بدلے میں دنیا میں ہی اس کو کھاناکھلا دیا جاتاہے اورمؤمن کی نیکیوں کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّآخرت کے لیے جمع فرماتا ہے اور دنیا میں اُس کو رِزق اُس کی اِطاعت اور فرمانبرداری کرنے پر عطا فرماتا ہے ۔ “ ایک روایت میں یوں ہے : ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّبندۂ مؤمن پر نیکیوں میں زیادتی و ظلم نہیں فرماتا ، بعض نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی عطا فرمادیتا ہے اور کچھ کی جزا آخرت میں عطا فرما ئے گا اور کافر کی وہ نیکیاں جو اس نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لیے کی ہوتی ہیں ان کے بدلے میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّاُس کو دنیا میں ہی کھانا کھلا دیتا ہے یہاں تک کہ جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کافر کوآخرت میں لائے گا  تو  اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہوگی جس کا اُس کو بدلہ دیا جائے ۔   ‘‘ 

کافر خسارے میں ہے :

نزہۃ القاری میں ہے : علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ کافر اگر کفر پر مرے تو اُس کے اَعمالِ حسنہ پر کوئی ثواب نہیں ملے گا ۔  لیکن جو اِسلام سے مشرف ہوا اور اِسلام پر مَرااسے زمانہ کفر کی نیکیوں کا ثواب ملے گا یا نہیں اِس میں اختلاف ہے ، ابن بطال اور دوسرے محققین  کہتے ہیں کہ اُن اَعمالِ خیر کا ثواب ملے گا مگر امام قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہودوسرے ائمہ محققین فرماتے ہیں کہ زمانہ کفر کے اَعمالِ خیر پر اسے اجر نہیں ملے گا اور اُصول کے یہی مطابق ہے ، اس لیے کہ نیکی کو نیکی ہونے کے لیے نیتِ طاعت ضروری ہے اور کافر نیت کا اَہل نہیں ، یہ ہوسکتا ہے کہ بعض خصوصیات کی وجہ سے کسی خاص کافر کو کچھ اجر ملے جیسے ابولہب کے عذاب میں تخفیف ہوئی ۔  ( [4] )

مؤمنوں پر ربّ تعالٰی کا فضل وکرم :

 



[1]      عمدۃ القاری ، کتاب الجنائز ، باب ماجاء فی عذاب القبر ، ۶ / ۲۷۶ ، تحت الحدیث : ۱۳۶۹ ۔

[2]      مرآۃ المناجیح ، ۱ /  ۴۹ ۔

[3]      مسلم ، کتاب صفۃ القیامۃ ، باب جزاء المومن بحسناتہ فی الدنیا والآخرۃ ۔ ۔ ۔ الخ ، ص ۱۵۰۸حدیث :  ۲۸۰۸ ۔

[4]     نزہۃ القاری ، ۲ / ۹۱۷ملتقطا ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن