30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُعاف فضل وکرم سے ہو ہر خطا یاربّ ……… ہو مغفرت پئے سلطان انبیاء یاربّ
بلا حساب ہو جنت میں داخلہ یاربّ ……… پڑوس خلد میں سرور کا ہو عطا یاربّ
مدنی گلدستہ
’’شَافِعِ اُمَّت ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرنا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا اُس کا بندوں پرحق ہے ۔
(2) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ربّ ہونے کا تقاضا ہے کہ اسی کی عبادت کی جائے ۔
(3) اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر کسی کا کوئی حق واجب نہیں بلکہ اس نے اپنے ذمہ کرم پر لازم کرلیا ہے ۔
(4) بعض گنہگار مسلمان جہنم میں جائیں گے اور اپنے گناہوں کی سزا پانے کے بعد جنت میں جائیں گے ۔
(5) ہمیں چاہیے کہ اس دنیا میں نیک اعمال کریں تاکہ جنت میں اعلیٰ درجات کو پا سکیں ۔
(6) عالِم کو چاہیے کہ عوام کو وہ مسئلہ نہ بتائے جو اُن کی سمجھ سے ورا ہو ۔
(7) ربّ تعالیٰ سے اچھی اُمیداِنسان کو جنت میں لے جاتی ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی اور اپنے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے ، ہماری حتمی بلا حساب مغفرت فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 427 مُسلمان بندے کی قبر میں ثابت قدمی
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : اَلْمُسْلِمُ اِذَا سُئِلَ فِى الْقَبْرِ يَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلَهَ اِلاَّ اللَّهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُولُ اللَّهِ فَذٰلِكَ قَوْلُهُ تَعَالٰى : ( یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ-). ( [1] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا براء بن عازِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’مسلمان سے جب قبر میں پوچھا جاتا ہے تو وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور حضرت محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسول ہیں ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّکے اس فرمانِ عالیشان سے یہی مراد ہے :
یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ- ( پ۱۳ ، ابراھیم : ۲۷ )
ترجمۂ کنزالایمان : اللہثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ۔
مذکورہ حدیث پاک میں فرمایاگیا : ’’مسلمان سے قبر میں پوچھا جاتا ہے ۔ “ کون پوچھتا ہے ؟ کیا پوچھتا ہے ؟ یہ نہیں بتایا ۔ چنانچہ ” دلیل الفالحین“ میں ہے : ’’دو فرشتے ہیں جو اس کام پر مامور ہیں ، اُن کا نام منکَر اور نکیر ہے جو مؤمن سے اس کے ربّ اور نبی کے بارے میں پوچھتے ہیں ۔ ‘‘ ( [2] ) ” عمدۃ القاری “میں ہے : مسلمان کا قبر میں یہ جواب دینا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان عالیشان کا مصداق ہے :
یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ ( پ۱۳ ، ابراھیم : ۲۷ ) ترجمۂ کنزالایمان : اللہثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر ۔
قولِ ثابت سے مرادکلمہ توحید ہے کیونکہ یہ کلمہ بندۂ مؤمن کے دل میں راسخ ہوتا ہے ۔ حضرت سَیِّدُنَاقتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ دنیا کی زندگی میں ثابت قدمی سے مراد یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ دنیا میں مؤمنوں کو بھلائی اور نیکی کے کام پر ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں ثابت قدم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ قبر میں منکر نکیر کے سوالوں کے جواب میں ثابت قدم رکھتا ہے ۔ حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : جب بندۂ مؤمن سے قبر میں پوچھا جائے گا کہ تیرا ربّ کون ہے ؟ تیرا دِین کیا ہے ؟ اور تیرے نبی کون ہیں؟ تو وہ کہے گا میرا رب اللہ عَزَّوَجَلَّ ہے ، میرا دِین اسلام ہے اور میرے نبی حضرت محمد مصطفے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں جو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع