دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

عبادتِ الٰہی اس کے معبود ہونے کا تقاضا ہے :

حدیث پاک میں فرمایا :  ” بندوں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں ۔ “اس کی شرح میں عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں :  ’’یعنی اسے ایک مانیں اور اُس کی عبادت کریں ، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت کرنا اُس کے معبود اور ربّ ہونے کا تقاضا ہے ۔  اللہتعالیٰ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے عذاب نہ دے ۔  یعنی ہمیشہ رہنے والا عذاب ، لہٰذا یہ جہنم میں داخل ہونے کی ممانعت نہیں ہے ۔  بے شک اِس اُمَّت کے بعض گنہگار لوگ اپنے گناہوں کی سزا پانے کے لیے جہنم میں جائیں گے جیسا کہ اَحادیثِ صحیحہ بلکہ اَحادیثِ متواترہ سے ثابت ہے ۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی اُمَّتی جہنم میں جائے حالانکہ علامہ بیضاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک اُمَّت کا کوئی بھی شخص جہنم میں حتمی طور پر داخل نہیں ہوگابلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے وعدے کی بنا پر سب کومعاف کردیا جائے گا ، اللہ عَزَّوَجَلَّ شرک کے علاوہ سب گناہوں کو جس کے لیے چاہے گا معاف فرما دے گا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ علامہ بیضاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے کسی کے جہنم میں داخلے کی نفی نہیں کی بلکہ اس کے یقینی و لازمی طور پر جہنم میں داخل ہونے کی نفی کی ہے ۔  انہوں نے کہا کہ وعدۂ الٰہی کی بناء پر تمام گناہوں کا معاف ہونا ممکن ہے ۔  بہر حال حدیثِ نبوی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رُو سے گنہگار مؤمنوں کا جہنم میں داخل ہونالازمی ہے تو یہ بھی علامہ بیضاوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیکے قول کے مُعَارِض نہیں کیونکہ اِن کے قول سے وعدۂ الٰہی سے عام معافی ہونا لازم آتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ کوئی جہنم میں داخل ہی نہیں ہوگا کیونکہ بعض گنہگاروں کو ان کی سزا پوری ہونے سے پہلے جہنم سے نکال دینا بھی معافی ہی ہے ۔ ‘‘ ( [1] )

اللہ پر بندوں کا حق کیسا؟

حدیث پاک میں فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ اُس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ، نہ ذات میں نہ صفات اور اِس حق کو ادا کرنا واجب ہے اور بندوں کا اللہ عَزَّوَجَلَّ پر حق یہ ہے کہ جب وہ اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں تو وہ اُنہیں عذاب نہ دے لیکن یہ حق اللہ عَزَّوَجَلَّ پر واجب نہیں ہے بلکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے خود اپنے ذمہ کرم پرلیا ہے ۔ جیسا کہ مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’حق کے معنیٰ واجب ، لازم ، لائق ۔  بندوں کے متعلق تینوں معنی درست ہیں کہ کی عبادت ان پر واجب ہے ، لازم ہے ، ان کے لائق ہے ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے لئے یہ معنی اور طرح درست ہوں گے وہ یہ کہ اُس کریم نے اپنے ذمہ کرم پر خود لازم فرمالیا کہ عابدوں کو جزاء  دے ، کوئی اور اُس پر واجب نہیں کرسکتا ، لہٰذا جن روایتوں میں آیا ہے کہ اﷲ پر کسی کا حق نہیں وہ دوسرے معنیٰ میں ہے کہ کوئی اس پر واجب نہیں کرسکتا کیونکہ کوئی اس کا حاکم نہیں وہ سب کا حاکم ہے ۔  ( فرمایا :  ” اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔ “ ) اس طرح کہ نہ تو کسی کو اس کا ہمسر جانیں ، نہ اس کا بیوی بچہ ۔  لہٰذا اس میں مجوسیت ، نصرانیت ، یہودیت سب ہی داخل ہیں ۔  ان ہی تمام دینوں سے علیحدگی ضروری ہے ۔ ‘‘ ( [2] )

لوگوں کو بشارت نہ سنانے کا مقصد :

حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ  کو خوشخبری سنانے سے منع فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ نیک اَعمال کریں اور جنت میں اعلیٰ درجات کو حاصل کریں ۔  لہٰذا اگر لوگوں کو یہ بات بتادی جاتی تو پھر وہ اس کے اصل مقصد کو کھودیتے اور یہ سوچ کر اَعمال کرنا چھوڑ دیتے کہ جب عذاب سے بچنے کے لیے اِیمان ہی کافی ہے تو پھر نماز روزے کی کیا ضرورت ہے ۔ چنانچہ ،

مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں :  ’’اس طرح کہ مقصدِ کلام سمجھیں گے نہیں اور اَعمال چھوڑدیں گے کہ جب فقط درستیٔ عقیدہ سے ہی عذاب سے نجات مل جاتی ہے تو نماز وغیرہ عبادات کی کیا ضرورت ہے ؟اس سے معلوم ہوا کہ عالِم عوام کو وہ مسئلہ نہ بتائے جو اُن کی سمجھ سے وَرا ہو ۔ خیال رہے کہ حضرت معاذ نے اس وقت بشارت نہ دی بلکہ یہ حدیث بطور خبر بعد میں بعض خواص کو سنادی لہٰذا کوئی اعتراض نہیں ۔ ‘‘ ( [3] )

اُمید کے سبب جہنم سے چھٹکارا :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  ربّعَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت بہت بڑی ہے ، وہ کل بروزِ قیامت بعض لوگوں کو جہنم میں ڈالنے کے بعد فقط اپنی رحمت سے اُمید رکھنے کے سبب نکالے گا اور انہیں داخل جنت فرمائے گا ۔  چنانچہ رسولِ اکرم ، شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ایک شخص کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا تو وہ وہاں ایک ہزار1000سال تک ’’یَاحَنَّانُ یَا مَنَّانُ  ‘‘   کہہ کر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کو پکارتا رہے گا ۔  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جبریل امین سے فرمائے گا :  ’’جاؤ !  میرے بندے کو لے کر آؤ ۔ ‘‘ چنانچہ وہ اسے لے کر آئیں گے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں پیش کردیں گے ۔  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس سے دریافت فرمائے گا :  ’’تونے اپنا ٹھکانا کیسا پایا؟  ‘‘  وہ عرض کرے گا :  ’’بہت بُرا ۔ ‘‘ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرمائے گا : ’’اسے دوبارہ وہیں لے جاؤ ۔   ‘‘  وہ جارہا ہوگا تو پیچھے مڑ کر دیکھے گا ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرمائے گا :  ’’کیا دیکھتا ہے ؟  ‘‘   وہ عرض کرے گا :  ’’مجھے تجھ سے یہ امید تھی کہ ایک مرتبہ جہنم سے نکالنے کے بعد مجھے دوبارہ اس میں نہیں بھیجے گا ۔   ‘‘  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرمائے گا :  ’’اسے جنت میں لے جاؤ ۔ ‘‘ ( [4] )

 



[1]      مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الایمان ، الفصل الاول ، ۱ / ۱۸۳ ، تحت الحدیث : ۲۴ ۔

[2]      مرآۃ المناجیح ، ۱ /  ۴۵ ۔

[3]      مرآۃ المناجیح ، ۱ /  ۴۵ ۔

[4]     موسوعۃ ابن ابی الدنیا ، کتاب حسن الظن باللہ ، ۱ / ۱۰۵ ، حدیث :  ۱۰۹ ، احیاء العلوم ، ۴ / ۴۲۴ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن