دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

عشق ومحبت کے کھوکھلے دعوے :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  مذکورہ حدیث پاک ہم گناہگاروں کے لیے امید کی شمع ہے ، حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو اپنی امت سے ایسی حقیقت محبت فرمائیں کہ جب تک تمام امت کو داخل جنت نہ فرمالیں قلب اَطہر کو قرار نہ آئے  اور ایک ہم اُمتیوں کی آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت ہے ، افسوس !  صد کروڑ افسوس !  اب مسلمانوں کی اکثریت کی حالت یہ ہو چکی ہے کہ عشق و محبت کے کھوکھلے دعوے اور جان ومال لٹانے کے محض نعرے لگاتے ہیں ، ظاہری حالت دیکھ کر ایسا لگتا ہے گویا اِن کے نزدیک دُنیا کی قَدر ( عزّت ) اس قدر بڑھ گئی ہے کہ مَعَاذَاللہاسلامی اَقدار کی کوئی پرواہ نہیں رہی ، نبی رحمت ، غمگسارِاُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آنکھوں کی ٹھنڈ ک ( یعنی نماز ) کی پابندی کا کچھ لحاظ نہیں ، غیروں کی نقّالی میں اِس قدرمحویت کہ اتباع سنّت کا بالکل خیال نہیں ۔  صبح اٹھنے سے لے کر رات کو سونے تک ہمارا لمحہ لمحہ گناہوں میں بسر ہوتا ہے ، حالانکہ راہِ عشق میں عاشق تو اپنی ذات کی پرواہ نہیں کرتابلکہ اس کی دلی تمنّایہی ہوتی ہے کہ میں ہر اس بات پر عمل کروں جس سے میرا محبوب راضی ہوجائے ، جس بات سے میرا محبوب ناراض ہوتا ہے میں اس کے قریب بھی نہ جاؤں ، عاشق حقیقی تو رضائے محبوب کی خاطر اپنا سب کچھ لُٹادیتا ہے ۔ کاش ! ہمارے اندر بھی ایسا جذبہ صادقہ پیدا ہوجائے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب ، ہم گناہگاروں کے طبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا کی خاطر گناہوں کو ترک کردیں ، اللہ ورسول کی رضا والے کاموں میں زندگی بسر کرنے والے بن جائیں ، ان کی رضا کی خاطراپنا سب کچھ قربان کر دیں ۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں حقیقی عشق ومحبت عطا فرمائے ۔ آمین

تو انگریزی فیشن سے ہر دم بچا کر                    ……      مجھے سنّتوں پر چلا یاالٰہی

غمِ مصطفی دے غمِ مصطفی دے                      ……      ہو دردِ مدینہ عطا یاالٰہی

محبت میں اپنی گما یا الٰہی                               ……      نہ پاؤں میں اپنا پتا یاالٰہی

مدنی گلدستہ

’’ شفاعت  ‘‘  کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور

  اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول

(1)   حضور نبی رحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اُمَّت سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں اور اُن پر بہت زیادہ شفیق ومہربان ہیں ۔

(2)   دعا کے لیے ہاتھ بلند کرنا مستحب ہے ، نیز دعا کے وقت رونا دعا کی قبولیت کی علامت ہے ۔

(3)   اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بڑی عزت و وَجاہت ہے ۔

(4)   حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اُمَّت کی فکر میں رویا کرتے تھے ۔

(5)   حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت اُن گنہگاروں کے لیے بھی ہے جو اِیمان کی حالت میں اِس دنیا سے چلے گئے ۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایمان کی حالت میں موت نصیب فرمائے ، اور کل بروزِ قیامت حضور نبی رحمت ، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت سے بہرہ مند فرمائے ۔    

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر :  426                                                                                                                                                                                                     اللہ کا بندوں پراور بندوں کا اللہ پرحق

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ  قَالَ كُنْتُ رِدْفَ النَّبِىِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  عَلَى حِمَارٍ فَقَالَ :  يَا مُعَاذُ !  هَلْ تَدْرِى مَاحَقُّ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ ؟ قُلْتُ :  اَللَّهُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمُ  قَالَ :  فَاِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ اَنْ يَّعْبُدُوْهُ وَلاَ يُشْرِكُوْا بِهِ شَيْئًا وَحَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ اَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا فَقُلْتُ :  يَا رَسُوْلَ اللَّهِ !  اَفَلاَ اُبَشِّرُ  النَّاسَ؟ قَالَ :  لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوْا. ( [1] )  

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں ایک دراز گوش ( یعنی  گدھے ) پر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے سوار تھا کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : ” اے معاذ !  کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا  بندوں پر کیا حق ہے اور بندوں کا اللہ عَزَّوَجَلَّپر کیا حق ہے ؟“ میں نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم زیادہ جانتے ہیں ۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ” اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا بندوں پر حق یہ ہے کہ وہ صرف اُس کی عبادت کریں اور اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور بندوں کا اللہ عَزَّوَجَلَّ پر حق یہ ہے کہ جواُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کو عذاب نہ دے ۔ “ پھر میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنا دوں؟  ‘‘   تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ” اُنہیں یہ بشارت مت دینا ورنہ وہ اِسی پر بھروسہ کرلیں گے ۔ “

 



[1]      بخاری ، کتاب الجھاد والسیر ، باب اسم الفرس والحمار ، ۲ / ۲۶۹ ، حدیث : ۲۸۵۶ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن