دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اُمَّت پر انتہائی شفقت فرمانے والے اوراُن کے فوائد کی پرواہ کرنے والے  ہیں ۔  ٭دعا کے لیے ہاتھ بلند کرنا مستحب ہے ۔ ٭اِس حدیث میں اُمَّتِ مسلمہ کے لیے بہت بڑی بشارت ہے ۔ ٭یہ حدیث اُن اَحادیث میں سے ہے جن میں اِس اُمَّت کے لیے رحمتِ الٰہی سے اُمید دلائی گئی ہے ۔  ٭اِس حدیث سے بارگاہِ خداوندی میں حضور نبی اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مَرتبے کا پتہ چلتا ہے ۔ ٭اور یہ بھی کہ حضورنبی رَحمتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خاص لطف و کرم ہے ۔ ٭حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس بھیجنے میں حکمت یہ ہے کہ آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے شرف کا اِظہار ہو اور یہ کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہت اعلیٰ مقام پر فائز ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی رضا چاہتا ہے اور آپ کو وہ عزت و مقام عطا فرمائے گا جس سے آپ راضی ہو جائیں گے ۔ حدیث پاک میں ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ارشادفرمایا : ’’ ہم تمہیں راضی کردیں گے اور تمہیں غمگین نہ کریں گے ۔ “یہ تاکید کے لیے فرمایا کیونکہ رضا مندی تو اِس طرح بھی حاصل ہوجاتی ہے کہ بعض گنہگاروں کو معاف کردیا جائے اور باقی ماندہ کو جہنم میں ڈال دیا جائے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تاکید فرمائی کہ ہم آپ کو غمگین نہیں کریں گے بلکہ تمام اُمت کو معاف کردیں گے ۔ ‘‘ ( [1] )

حضور اپنی اُمَّت پر اِنتہائی شفیق ہیں :

اِس حدیث پاک سے پتہ چلتا ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اُمَّت سے کس قدر محبت فرماتے ہیں کہ اپنی اُمَّت کے لیے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے رو رو کر درخواست کرتے ہیں کہ اے میرے رب !  میری اُمَّت کو بخش دے ۔  وہ رؤف رحیم ہیں ، ہمارا مشقت میں پڑنا انہیں بہت گراں گزرتا ہے ۔  قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد ہوتاہے : (  عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ ) ( پ۱۱ ، التوبۃ : ۱۲۸ ) ترجمۂ  کنزالایمان  :  جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے تمہاری بھلائی کے نہایت چاہنے والے  ۔

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دونوں دستِ کرم بلند کردئیے اور رب عَزَّوَجَلَّ سے عرض گزار ہوئے : ” اے میرے ربّ !  میری اُمَّت میری اُمَّت“یعنی اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّمیری امت کو بخش دے ، اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّمیری امت پر رحم فرما ، دو بار اُمَّتی اُمَّتی فرماناتکرار کے لیے ہے یا تاکید کے لیے یا پھر اس سے پہلے کے لوگ اور بعد میں آنے والے لوگ مراد ہیں ۔ پھرآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم روئے ، کیونکہ حضورپاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب حضرتِ سَیِّدُنا ابراہیم اور حضرتِ سَیِّدُنا عیسی عَلَیْہِمَا السَّلَام کی ( قران میں ذکر کی گئی ) شفاعت کا ذکر پڑھا تو آپ کو اپنی اُمَّت یادآگئی جس کی وجہ سے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے ۔ “ ( [2] )

اعلیٰ حضرت امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن کیا خوب فرماتے ہیں :

پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے      ……    آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے

دل نکل جانے کی جا ہے آہ کن آنکھوں سے وہ    ……    ہم سے پیاسوں کے لیے دریا بہاتے جائیں گے

شفاعت کے لیے ایمان شرط ہے :

حضورنبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شفاعت اُس کے لیے بھی ہے جو اِیمان کی حالت میں اپنے گناہوں سے توبہ کیے بغیر مرگیاجیسا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے :  ” شَفَاعَتِي لِاَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ اُمَّتِيیعنی میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے ہے ۔ ‘‘ ( [3] ) یہاں اُمَّت سے مراد اُمَّتِ دعوت نہیں بلکہ امتِ اجابت یعنی مسلمان ہیں البتہ جس کا خاتمہ کفر پر ہوااس کے لیے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شفاعت نہیں کیونکہ اس کے بارے میں خود اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے : ( اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ- ) ( پ۵ ، النساء : ۴۸ ) ترجمۂ  کنزالایمان  :  بے شک اللہ اسے نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ کفر کیا جائے اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے ۔

حضور کا رونا ہماری خوشی کا ذریعہ :

مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’ ان دو محبوب نبیوں کی شفاعت کا ذکر پڑھا تو شفیع المذنبین ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کا دریائے رحمت جوش میں آگیا ، اپنی گنہگار اُمَّت یاد آگئی اور اس وقت شفاعت فرمائی ۔ معلوم ہوا کہ قرآنِ مجید میں جیسی آیت تلاوت کرے اسی طرح کی دعا مانگے یہ سنتِ رسولُ اللہہے ۔  ( صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )  ۔ دعا کے وقت رونا علامتِ قبولیت ہے ، پھر حضورِانور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کا رونا ، حضور کے آنسو سُبْحٰنَ اللہ !  حضور کا رونا ہماری ہنسی و خوشی کا ذریعہ ہے ، بادل روتا ہے تو چمن ہنستا ہے ۔  ( اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا : ” ہم آپ کی اُمَّت کے بارے میں آپ کو خوش کردیں گے ۔ “ ) یعنی آپ اپنی اُمَّت کے متعلق جو چاہیں گے جو کہیں گے ہم وہ ہی کریں گے ۔ اَحادیث میں ہے کہ اس پر حضور انور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) نے عرض کیا کہ تیری عزت کی قسم !  میں اس وقت تک راضی نہ ہوں گا جب تک کہ میرا ایک اُمَّتی بھی دوزخ میں ہو ، خدا کرے ہم اُمَّتی رہیں ۔ ‘‘ ( [4] )

 



[1]      شرح مسلم للنووی ، کتاب الایمان ، باب دعاء النبی  صلی اللہ علیہ وسلم لامتہ وبکائہ ، ۲ / ۷۸ ، الجزء الثالث ۔

[2]      مرقاۃ المفاتیح ، کتاب صفۃ القیامۃ والجنۃ والنار ، باب الحوض والشفاعۃ ، ۹ / ۵۲۸ ، تحت الحدیث : ۵۵۷۷ ۔

[3]      ترمذی ، کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع ، باب منہ : ۱۱ ، ۴ / ۱۹۸ ، حدیث : ۲۴۴۳ ۔

[4]      مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۴۲۵ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن