30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مدنی گلدستہ
’’رسول ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) کسی بھی مقتدیٰ یا پیشوا کو اپنے اَصحاب و سائلین کے ساتھ بیٹھنا چاہیے تاکہ وہ اِس کے علم سے فائدہ اٹھا سکیں ۔
(2) صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان حضورنبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بہت زیادہ محبت کرتے تھے حتّٰی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آنے میں دیر ہوجاتی تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانبے چین و بے قرار ہو جاتے تھے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ڈھونڈنے نکل جاتے تھے ۔
(3) جنت میں داخلے کے لیے سچے دل سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی وحدانیت اور رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رسالت پر ایمان لانا اور زبان سے اِقرار کرنا ضروری ہے ۔
(4) جو بھی کلمہ گو مسلمان ایمان کی حالت میں مرے گا وہ جنت میں جائے گا یا اگر نیک ہے تو ابتدامیں جنت میں جائے گا اور اگر گنہگار ہے تو اپنے گناہوں کی سزا پاکربالآخر جنت میں جائے گا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ایمان کی سلامتی عطا فرمائے ، ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 425 شفاعتِ مُحَمَّد ، اُمّیدِ اُمّت
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَلَا قَوْلَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي اِبْرَاهِيْمَ : ( رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-) وَقَوْلَ عِيْسٰى : ( اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱۱۸) ) فَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ : اَللّٰهُمَّ اُمَّتِيْ اُمَّتِيْ وَبَكٰى فَقَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ : يَا جِبْرِيْلُ ! اذْهَبْ اِلَى مُحَمَّدٍ وَرَبُّكَ اَعْلَمُ فَسَلْهُ مَا يُبْكِيْہِ؟ فَاَتَاهُ جِبْرِيْلُ فَاَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا قَالَ وَهُوَ اَعْلَمُ فَقَالَ اللهُ تَعَالَی : يَا جِبْرِيْلُ ! اذْهَبْ اِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ : اِنَّا سَنُرْضِيْكَ فِي اُمَّتِكَ وَلَا نَسُوءُكَ. ( [1] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناعبداللہ بن عَمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنَا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامکے بارے میں نازل ہونے والے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس فرمان عالیشان کی تلاوت کی :
رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ- ( پ۱۳ ، ابراھیم : ۳۶ )
ترجمۂ کنزالایمان : اے میرے ربّ ! بے شک بتوں نے بہت لوگ بہکا دئیے تو جس نے میرا ساتھ دیا وہ تو میرا ہے ۔
پھر قرآن میں موجودحضرت عیسیٰعَلَیْہِ السَّلَام کے اِس قول کی تلاوت فرمائی :
اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۱۱۸) ( پ۷ ، المائدۃ : ۱۱۸ )
ترجمۂ کنزالایمان : اگر تو انہیں عذاب کرے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں بخش دے تو بے شک تو ہی ہے غالب حکمت والا ۔
پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنے دونوں ہاتھ اُٹھا دئیے اور بارگاہِ رَبُّ الْعِزَّت میں یوں عرض گزار ہوئے : ” اَللّٰهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِيیعنی اے میرے ربّ ! میری اُمَّت ( کو بخش دے ) میری اُمَّت ( کو بخش دے ) ۔ “اور ساتھ ہی رونے لگے ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَامسے فرمایا : ” اے جبریل ! محمد ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے پاس جاؤ ! حالانکہ تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ جانتا ہے اور ان سے پوچھو کہ انہیں کس چیز نے رُلایا؟“ پھر حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اُنہیں وہ دعا بتائی جو مانگی تھی حالانکہ ربّعَزَّوَجَلَّ جانتا ہے ، پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام سے فرمایا : ” اے جبریل ! محمد ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے پاس جاؤ ! اور کہو کہ ہم آپ کی اُمَّت کے بارے میں آپ کو خوش کردیں گے اور آپ کو غم میں مبتلا نہیں کریں گے ۔ “
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے ” ریاض الصالحین“ میں مذکورہ حدیث پاک میں جو پہلی آیت ذکر فرمائی ہے اُس کا آخری جزء ذکر نہیں فرمایا جبکہ اس آخری جزء کی مذکورہ باب سے مناسبت بھی ہے ۔ نیز مسلم شریف کے بعض نسخوں میں اور احادیث کی دیگر کئی کتب میں بھی آیت کا آخری جزء مذکور ہے ۔ پوری آیت مبارکہ یوں ہے :
رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۶) ( پ۱۳ ، ابراھیم : ۳۶ )
ترجمۂ کنزالایمان : اے میرے ربّ ! بے شک بتوں نے بہت لوگ بہکا دئیے تو جس نے میرا ساتھ دیا وہ تو میرا ہے ۔ اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے ۔
حضور کی بارگاہِ الٰہی میں وجاہت و عزت :
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ حدیث بہت سے فوائد پر مشتمل ہے ۔ ٭مثلاً اِس حدیث میں اِس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع