30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فَقَالَ رَسُوْلُ الله اِذْهَبْ فَمَنْ لَقِيتَ وَرَاءَ هَذَا الْحَائِـطِ يَشْهَدُ اَنْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ. ( [1] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ہم رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ، ہمارے ساتھ چند دیگر لوگوں کے ہمراہ حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور حضرت سَیِّدُنَاعمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی تھے ، پھر رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے درمیان سے اٹھ کر تشریف لے گئے ، حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے واپس تشریف لانے میں دیر کردی تو ہمیں خوف ہوا کہ کہیں ہماری غیر موجودگی میں حضور کو کوئی نقصان نہ پہنچا دے ، پس ہم گھبرا کر اُٹھ کھڑے ہوئے ، سب سے پہلے گھبرانے والا میں تھا ، پھر میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ڈھونڈنے کے لیے نکلا ، میں ایک انصاری کے باغ کی دیوار کے پاس پہنچا ۔ ‘‘ پھر سَیِّدُنَاابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس طویل حدیث کو یہاں تک ذکر کیا کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اے ابو ہریرہ ! جاؤ اِس دیوار کے پیچھے جو بھی تمہیں اس بات کی گواہی دیتا ہوئے ملے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اُس کا دل اُس گواہی پر مطمئن ہو تو اُسے جنت کی خوشخبری دے دینا ۔ ‘‘
مذکورہ حدیث میں بھی دیگر احادیث کی طرح رحمتِ الٰہی کی وُسعت کا بیان ہے کہ جو سچے دل سے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اُس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ایمان لائے وہ جنت میں جائے گا تو اس حدیث میں سچے دل سے کلمہ گو مسلمان کے لیے مغفرت کی بڑی اُمید ہے ۔
توحید و رسالت دونوں پر ایمان لانا ضروری ہے :
حدیث پاک میں صرف توحید ( لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ ) کا ذکر ہے رسالت ( مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ) کا ذکر نہیں ۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کہنے سے مسلمان ہوجائے گا بلکہ توحید کے ساتھ ساتھ رسالت کا اقرار کرنا بھی لازم ہے ۔ یعنی لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ کہنا اور دل سے اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے ۔ چنانچہ ” مرقاۃ المفاتیح“میں ہے : ’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ کا لازم ہے ( یعنی جو توحید کا قائل ہومسلمان ہونے کے لیے اس پر لازم ہے کہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رسالت کو بھی مانتا ہو ۔ ) اور اُس کا دل اس بات پر پختہ یقین رکھتا ہو ، اُسے اِجمالی اِیمان توحید اور نبوت میں کسی قسم کا شک یا تردد نہیں تو اُسے جنت کی خوشخبری دو ۔ ‘‘ ( [2] )
حدیث پاک میں فرمایا : ’’ ( جو توحید و رسالت کی گواہی دے ) اُسے جنت کی خوشخبری دو ۔ “ حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ جو بھی کلمہ پڑھے وہ جنت میں جائے گا خواہ اس نے گناہ کیے ہوں؟ ” دلیل الفالحین“ میں اس کی یہ مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں : ٭’’ ابتدا ہی میں جنت میں جائے گااس طرح کہ اسلام لانے کے بعد گناہوں میں مبتلا ہوئے بغیر مر گیا تو وہ جنت میں جائے گایا٭اسلام لانے کے بعد اُس نے کوئی گناہ نہ کیا تب بھی جنت ہی میں جائے گایا٭اُس نے صغیرہ گناہ کیے لیکن اس کی نیکیاں گناہوں سے زیادہ تھیں تو بھی جنت میں جائے گایا٭ کبیرہ گناہ کیے تھے لیکن اُن سے توبہ کرلی تھی تو بھی جنت میں جائے گایا ٭ اگر اُس نے صغیرہ گناہ کیے تھے اور وہ اس کی نیکیوں سے زیادہ تھے یا کبیرہ گناہ کیے تھے اور بغیر توبہ کیے مر گیا تو پھر پہلے اپنے گناہوں کی سزا پانے کے لیے جہنم میں جائے گا اور سزا پانے کے بعد بالآخر جنت میں جائے گا ۔ ٭یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ محض اپنے فضل و کرم سے ( بلا حساب و کتاب ) ابتدا ہی میں جنت میں داخل فرمادے جیسا کہ اُس کا فرمانِ عالیشان ہے : ( وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُۚ- ) ( پ۵ ، النساء : ۴۸ ) ترجمۂ کنزالایمان : اور کفر سے نیچے جو کچھ ہے جسے چاہے معاف فرمادیتا ہے ۔ ( [3] )
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ۹۱۲ صفحات پر مشتمل کتاب ’’احیاء العلوم ‘‘ جلدچہارم ، صفحہ۴۲۳پر ہے : حضرت سَیِّدُنَا یحییٰ بن اَکثم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے وِصال کے بعد کسی نے ان کو خواب میں دیکھ کر پوچھا : مَافَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ انہوں نے کہا : اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مجھے اپنی بارگاہِ عالی میں کھڑا کرکے فرمایا : ’’اے بدعمل بڈھے ! تونے فلاں فلاں کام کیا ۔ ‘‘ فرماتے ہیں : مجھ پر اس قدر رُعب طاری ہوگیا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی جانتاہے ۔ پھر میں نے عرض کی : اے میرے ربّ عَزَّ وَجَلَّ ! مجھے تیرا یہ حال نہیں بتایا گیا ہے ۔ ارشاد فرمایا : ’’پھر میرے بارے میں کیا بیان کیا گیا ؟ ‘‘ میں نے عرض کی : مجھ سے حضرت عبد الرزاق نے ، ان سے حضرت معمر نے ، ان سے حضرت امام زہری نے اور ان سے حضرت سَیِّدُنَاانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے اور وہ تیرے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام کے حوالے سے بیان فرمایا کہ تو فرماتا ہے : ’’میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں تو وہ میرے ساتھ جو چاہے گمان رکھے ۔ ‘‘ میرا گمان یہ تھا کہ تو مجھے عذاب نہیں دے گا ۔ تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا : ’’جبریل نے سچ کہا ، میرے نبی نے سچ کہا ، انس ، زُہری ، معمر ، عبدالرزاق نے بھی سچ کہا اور میں نے بھی سچ کہا ۔ ‘‘ حضرت سَیِّدُنَا یحییٰ بِن اَکثم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم فرماتے ہیں : ’’پھر مجھے جنتی لباس پہنایا گیا اور جنت تک میرے آگے آگے غلام چلتے رہے تو میں نے کہا : ’’واہ ! یہ تو خوشی کی بات ہے ۔ ‘‘
مِٹادے ساری خطائیں مِری مِٹا یارب ……… بنا دے نیک بنا نیک دے بنا یاربّ
نہیں ہے نامہ ٔ عطار میں کوئی نیکی ……… فقط ہے تیری ہی رحمت کا آسرا یاربّ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع