30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سچی پکی توبہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 422 توبہ کرو اللہ معاف کرے گا
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ لَمْ تُذْنِبُوْا لَذَهَبَ اللهُ بِكُمْ وَلَجَاءَ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَسْتَغْفِرُوْنَ اللهَ تَعَالٰى فَيَغْفِرُ لَهُمْ. ( [1] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! اگر تم لوگ گناہ نہ کرتے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں لے جاتا اور ایک ایسی قوم کو لاتا جو گناہ کرتے پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے توبہ کرتے پس اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں بخش دیتا ۔ “
حدیث نمبر : 423 گناہ کرنے کے بعد ربّ تعالٰی کی معافی
عَنْ اَبِي اَيُّوبَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَوْلَا اَنَّكُمْ تُذْنِبُونَ لَخَلَقَ اللهُ خَلْقًا يُذْنِبُوْنَ فَيَسْتَغْفِرُوْنَ فيَغْفِرُ لَهُمْ . ( [2] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ : ” اگر تم لوگ گناہ نہیں کروگے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسی قوم کو پیدا فرمائے گا جو گناہ کریں گے پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ سے توبہ کریں گے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُنہیں معاف فرمادے گا ۔ “
” دلیل الفالحین“ میں ہے : ’’یہ حدیث لوگوں کو گناہوں پر اُبھارنے کے لیے نہیں بلکہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی تسلی کے لیے اور اُن کے خوفِ خدا کی شدت میں کمی کرنے کے لیے ہے کیونکہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پر خوفِ خدا کا اتنا غلبہ تھا کہ اُن میں سے بعض حضرات عبادت کے لیے آبادی سے بھاگ کر پہاڑوں کی چوٹیوں پر چلے گئے اور بعض نے اپنی عورتوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی اور بعض نے نیند کو چھوڑ دیا تھا ۔ نیز اس حدیث میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے مغفرت ملنے کی بڑی اُمید ہے ۔ ‘‘ ( [3] )
گناہ کرنے والی قوم کی پیدائش :
مذکورہ حدیث میں فرمایا کہ اگر تم گناہ نہ کروگے تو وہ دوسری قوم کو لائے گا جو گناہ کریں گے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں معاف فرمائے گا ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ گناہ کروانے کے لیے ایک قوم کو پیدا کرے گا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علمِ ازلی میں ایک قوم ایسی ہے جسے وہ پیدا کرے گا اور وہ گناہ کریں گے ، پھر معافی مانگیں گے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اُنہیں معاف فرمائے گا ۔ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’جو کچھ ہونے والا ہے وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے علمِ ازلی میں ہے اور اس کے علم میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ وہ گنہگاروں کو بخشے گا ، اگر یہ فرض کیا جائے کہ گناہ ہی نہ ہوں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ ایسے لوگوں کو پیدا فرمائے گا جو گناہ کریں گے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّانہیں معاف فرمائے گا ۔ “ ( [4] )
گنہگاروں کو بخشنا اللہ کو پسند ہے :
اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’یہ حدیث گناہوں میں مگن لوگوں کی تسلی کے لیے نہیں ( جیسا کہ بعض کم علم لوگوں نے گمان کیا ، بے شک انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کو اسی لیے مبعوث کیا گیا تاکہ وہ گنہگاروں کو گناہوں کی دلدل سے باہر نکالیں ۔ ) ، بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی مغفرت کے بیان اور گنہگاروں کو معاف کرنے کے کے لیے ہے تاکہ وہ توبہ میں رغبت کریں ۔ حدیث کا معنیٰ مرادی یہ ہے کہ جس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو یہ پسند ہے کہ وہ نیکوکاروں کو ثواب عطا کرے ، اسی طرح اُسے یہ بھی پسند ہے کہ وہ گنہگاروں کو معاف فرمائے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے کئی صفاتی نام اس بات کی دلیل ہیں جیسے اَلْغَفَّار ( بخشنے والا ) اَلْحَلِیْم ( حلم والا ) اَلتَّوَّاب ( توبہ قبول کرنے والا ) اَلْعَفُوّ ( معاف فرمانے والا ) ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے بندوں کو ایک فطرت پر پیدا نہیں فرمایا جیسا کہ ملائکہ تمام کے تمام ایک ہی فطرت پر پیدا کیے گئے ہیں کہ وہ گناہوں سے پاک ہیں بلکہ اس نے بندوں کو الگ الگ فطرت پر پیدا کیا ، بندوں میں سے کچھ اپنی خواہشاتِ نفس کی طرف مائل ہیں اُن کا نفس جو چاہتا ہے وہ وہی کرتے ہیں ، پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ انہیں گناہوں سے بچنے کا حکم دیتا ہے اور گناہوں کے پاس جانے سے ڈراتا ہے اور انہیں توبہ کا راستہ دکھاتا ہے ، پھر اگر وہ گناہوں سے بچتے ہیں تو ان کا اجر و ثواب اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمہ کرم پر ہے اور اگر وہ خطا کرے تو پھر بھی توبہ کا راستہ اُن کے پاس ہے ۔ پس رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ( اس حدیث سے یہ سمجھانے کا ) قصد فرمایا کہ اگر تم بھی ملائکہ کی فطرت پر پیدا کیے جاتے توربّ تعالیٰ ایک ایسی قوم کو پیدا فرمائے گا جو گناہ کریں گے پھر اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی صفتِ غفاری کے مقتضیٰ کے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع