دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

لیے بچنے کا عہد کرتا ہے اور بقدرِ طاقت گذشتہ گناہ کا کفارہ بھی ادا کردیتا ہے لہٰذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ لوگوں کے مال مار کر فقط کہہ دو معافی ہوگئی ۔ ‘‘ ( [1] )

اِستِغفار میں بڑا فائدہ ہے :

 ” فتح الباری“ میں ہے :  ” علامہ قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اِستِغفار کا فائدہ بہت بڑا ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل بہت بڑا ہے ، نیز اُس کی رحمت ، اُس کا حلم اور اُس کا کرم بہت وسیع ہے لیکن مراد وہ اِستِغفار ہے جو دل میں ایسا پختہ ہو چکا ہو کہ جس سے اِصرار ( بار بارگناہ کرنے ) کی گرہ کھل جائے اور ساتھ ساتھ ندامت بھی ہو  ۔ پس یہی توبہ کا معنیٰ ہے اور اس پر یہ حدیث بھی شاہد ہے کہ ”  تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جو فتنے میں مبتلا ہونے کے بعد اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے بہت توبہ کرنے والے ہیں ۔ “اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص بار بار گناہ کرے اور توبہ بھی کرے یعنی  جب بھی وہ گناہ میں مبتلا ہو توفوراً توبہ کرلے لیکن توبہ اُس شخص کی طرح نہ ہو جو صرف زبان سے کہہ دے : ” میں توبہ کرتا ہوں ۔ “ اور اُس کا دل اُس گناہ پر قائم ہو ، ایسے اِستِغفار کو تو خود اِستِغفار کی حاجت ہے ۔ “ مزید فرماتے ہیں : ” اس حدیث کا فائدہ یہ ہے کہ ( گناہ سے توبہ کر کے پھر ) گناہ کی طرف لوٹنا گناہ کی ابتدا کرنے سے زیادہ بُرا ہے کیونکہ اس میں گناہ کے ارتکاب کے ساتھ ساتھ توبہ کو بھی توڑنا ہے لیکن ایک مرتبہ توبہ کر کے پھر توبہ کرنا ابتداءً توبہ کرنے سے اچھا ہے کیونکہ توبہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے التجاء کرنا ، گڑ گڑا کر سوال کرنا اور اس بات کا اعتراف کرنا ہے کہ اُس کے سِوا گناہوں کو بخشنے والا کوئی نہیں ۔ “ ( [2] )  ” مرآۃ المناجیح“ میں ہے : ” یعنی توبہ کے وقت تو اس کا ارادہ بھی یہی تھا کہ کبھی گناہ نہ کروں گا پھر کر بیٹھا لہٰذا حدیث ، قرآن کریم کی اس آیت کے خلاف نہیں : (وَ  لَمْ  یُصِرُّوْا  عَلٰى  مَا  فَعَلُوْا )گناہ پر اصرار اور ہے اور بار بار گناہ ہوجانا اور ، توبہ کرتے رہنا کچھ اور ۔ ‘‘ ( [3] )

میں کر کے توبہ پلٹ کر گناہ کرتا ہوں              ………    حقیقی توبہ کا کر دے شَرَف عطا یاربّ

ہزار بار توبہ قبول  :

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اگر بندہ سو 100بار گناہ کرے یا ہزار 1000بار کرے یا اس سے بھی زیادہ کرے اور ہر دفعہ گناہ کے بعد توبہ کرلے تو اُس کی توبہ قبول ہو جائے گی اور اس کے گناہ معاف ہوجائیں گے اور اگر وہ تمام گناہوں کے بعد ایک ہی بار توبہ کرلے تب بھی اس کی توبہ صحیح ہوجائے گی ۔ ‘‘ ( [4] )

کر کے توبہ میں پھر گناہوں میں                     ………    ہو ہی جاتا ہوں مبتلا یاربّ

توبہ کے ارادے سے گناہ کرنا کفر ہے :

مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی تو گناہ کرنے کا عادی اور میں بخشنے کا عادی ، جب تو گناہ سے بازنہیں آتا تو میں اپنے بخشنے کی عادت کیوں چھوڑ دوں ، تو کرتا جا میں بخشتا جاؤں ، یہ فرمان گناہوں کی اجازت دینے کے لیے نہیں بلکہ وُسعت مغفرت کے اِظہار کے لیے ہے ۔  یعنی اس طرح بندہ اگر لاکھوں بار گناہ کرے گا میں بخش دوں گا کہ ہر توبہ کے وقت آئندہ گناہ نہ کرنے کا ہی عہد ہو مگر پھر کر بیٹھے لہٰذا حدیث بالکل ظاہر ہے ۔ توبہ کے اِرادے سے گناہ کرنا کفر ہے کہ چلو گناہ میں حرج ہی کیا ہے ، کل توبہ کرلیں گے ۔  یہ توبہ نہیں بلکہ شریعت کا مذاق اڑانا ہے اور خدائے تعالیٰ پر اَمن ( یعنی نڈر ہونا ) ، یہ دونوں باتیں کفر ہیں یا یہ مطلب ہے کہ ایسے توبہ کرنے والے کو ربّ تعالیٰ اپنی امن میں لے لیتا ہے کہ پھر اس سے گناہ ہوتے ہی نہیں ، پھر فرمایا جاتا ہے کہ جو چاہے کرے جیسے پرندے کا پر کاٹ کر اس سے کہو کہ جا اُڑتا پھر ۔ ‘‘ ( [5] )

مدنی گلدستہ

’’اِستِغفار  ‘‘  کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور

 اُس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول

(1)   گناہوں سے توبہ و اِستِغفار ایسا ہو کہ بندہ پھر گناہ کی طرف نہ پلٹے ، سچے دل سے توبہ کرے ۔

(2)    گناہ سے زبانی توبہ کرنا اور دل کا اُسی گناہ پر قائم رہنا توبہ نہیں بلکہ توبہ کا مذاق ہے ۔

(3)   گناہ سے توبہ کر کے پھر اسی گناہ کو کرنا پہلی دفعہ گناہ کرنے سے زیادہ بُرا ہے ۔

(4)   توبہ کے بعد دوبارہ توبہ کرنا پہلی دفعہ توبہ کرنے سے زیادہ اچھا ہے ۔

(5)   اگر بندہ ہزار بار گناہ کرے اور ہزار بار توبہ کرے تب بھی اس کی توبہ قبول کی جائے گی ۔

(6)   توبہ کے ارادے سے گناہ کرنا کہ بعد میں توبہ کرلوں گا کفر ہے ۔

(7)   شریعت کا مذاق اڑانا کفر ہے ۔

 



[1]      مرآۃ المناجیح ، ۳ /  ۳۶۰ ۔

[2]      فتح الباری ، کتاب التوحید ، باب قولہ تعالٰی :  یریدون ان یبدلوا کلام اللہ ، ۱۴ / ۳۹۹ ، تحت الحدیث : ۷۵۰۷ ۔

[3]      مرآۃ المناجیح ، ۳ /  ۳۶۰ ۔

[4]      شرح مسلم للنووی ، کتاب التوبۃ ، باب قبول التوبۃ من الذنوب وان تکررت ، ۹ / ۷۵ ، الجزء السابع عشر  ۔

[5]      مرآۃ المناجیح ، ۳ /  ۳۶۰ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن