30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۔ جب اُس کا انتقال ہوا تو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے اِس حال میں ملا کہ اُس کے نامہ اعمال میں اس کے علاوہ کوئی بھی نیک عمل نہیں تھا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس سے ارشاد فرمایا : ’’ہم سے زیادہ معاف کرنے کا کون حق دار ہے ؟ ‘‘ یوں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے عبادت کے معاملے میں مفلس ہونے کے باوجود حُسنِ ظَنّ اور اُمید رکھنے کے باعث بخش دیا ۔ ( [1] )
گناہگار ہوں میں لائق جہنم ہوں ……… کرم سے بخش دے مجھ کو نہ دے سزا یاربّ
مدنی گلدستہ
’’رحم کر ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) رحمتِ الٰہی غیر متناہی ہے ، حدیث میں فقط سمجھانے کے لیے سو ( 100 ) حصے بیان کیے گئے ہیں ۔
(2) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت اس کے عذاب سے بہت زیادہ ہے ۔
(3) دنیا میں جو رحمت ہے وہ آخرت کی رحمت سے بہت کم ہے ۔
(4) وحشی جانور بھی اس ایک رحمت کی وجہ سے اپنے بچوں پر مہربان ہوتے ہیں ۔
(5) دنیا میں ایک رحمت کا عالَم یہ ہے کہ انسان ، جنات ، حیوان ، چرند پرند سب آپس میں رحم کرتے ہیں تو پھر پوری سو ( 100 ) رحمتوں کا عالَم کیا ہوگا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ کل بروز ِقیامت ہمیں اپنی رحمت سے بلا حساب وکتاب بخش دے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 421 بندہ گناہ کرتا ہے ربّ معاف فرماتا ہے
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی قَالَ : أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَالَ : اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ اللہُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : اَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ اَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَاْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَاَذْنَبَ فَقَالَ : اَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : اَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ اَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَاْخُذُ بِالذَّنْبِ ثُمَّ عَادَ فَاَذْنَبَ فَقَالَ : اَيْ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ ذَنْبِيْ فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : اَذْنَبَ عَبْدِيْ ذَنْبًا فَعَلِمَ اَنَّ لَهُ رَبًّا يَغْفِرُ الذَّنْبَ وَيَاْخُذُ بِالذَّنْبِ قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِیْ فَلْیَفْعَلْ مَا شَاءَ. ( [2] )
وَقَوْلُہُ تَعَالٰی : فَلْیَفْعَلْ مَا شَاءَ اَیْ : مَا دَامَ یَفْعَلُ ھٰکَذَا یُذْنِبُ وَ یَتُوْبُ اَغْفِرُ لَہُ فَاِنَّ التَّوْبَۃَ تَھْدِمُ مَا قَبْلَھَا.
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے رب تبارک و تعالیٰ سے حکایت کرتے ہیں کہ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا : ایک بندے نے گناہ کیا ، پھر کہا : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! میرے گناہ کو بخش دے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے : میرے بندے نے گناہ کیا اور اُسے معلوم ہے کہ اُس کا ایک ربّ ہے جو گناہوں کو بخشتا بھی ہے اورگناہوں پر پکڑ بھی فرماتا ہے ، پھر وہ بندہ دوبارہ گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے : اے میرے ربّ ! میرے گناہ کو بخش دے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّفرماتا ہے : میرے بندے نے گناہ کیا اور اُسے معلوم ہے کہ اُس کا ایک ربّ ہے جو گناہوں کو بخشتا بھی ہے اور اُن پر پکڑ بھی فرماتا ہے ۔ وہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے : اے میرے ربّ ! میرے گناہ کو بخش دے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے : میرے بندے نے گناہ کیا اور اُسے معلوم ہے کہ اُس کا ایک ربّ ہے جو گناہوں کو بخشتا بھی ہے اور اُن پر پکڑ بھی فرماتا ہے ۔ وہ بندہ پھر گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے : اے میرے ربّ ! میرے گناہ کو بخش دے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتا ہے : میرے بندے نے گناہ کیا اور اُسے معلوم ہے کہ اُس کا ایک ربّ ہے جو گناہوں کو بخشتا بھی ہے اور اُن پر پکڑ بھی فرماتا ہے ۔ پس میں نے اپنے بندے کو بخش دیااب وہ جو چاہے کرے ۔ ‘‘
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فرمان ” اب وہ جو چاہے کرے “ کا مطلب یہ ہے کہ یعنی اگر وہ ساری زندگی اسی طرح کرتا رہے یعنی پہلے گناہ کرے پھرتوبہ کرے تو میں اس کی توبہ کو قبول کروں گا کیونکہ توبہ ما قبل کے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ۔
اس حدیث پاک میں اس بات پر دلیل ہے کہ ’’جو بار بار گناہ کرتا ہے اس کا معاملہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مشیت پر ہے ، وہ چاہے تو اُسے عذاب دے اور اگر چاہے تو اسے معاف فرمادے اُس خوف کے غلبے کی وجہ سے جس خوف کے ساتھ وہ آیا ہے اور وہ اس کا یہ اعتقاد ہے کہ اس کا ایک ربّ ہے جو اسے عذاب دینے پر بھی قادر ہے اور معاف کرنے پر بھی اور بندے کا رب سے اِستِغفار کرنا اس بات پر دلیل ہے کہ وہ یہ اعتقاد رکھتا ہے ۔ ‘‘ ( [3] ) ” مرآۃ المناجیح“ میں ہے : ’’یعنی زبان سے بھی کہتا ہے اورعمل سے بھی کہ گزشتہ پرنادم ہوتا ہے اور آئندہ کے
[1] بخاری ، کتاب احادیث الانبیاء ، باب : ۵۶ ، ۲ / ۴۷۰ ، حدیث : ۳۴۸۰ ، احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ، بیان فضیلۃ الرجاء ۔ ۔ ۔ الخ ، ۴ / ۱۷۸ ۔
[2] مسلم ، کتاب التوبۃ ، باب فی قبول التوبۃ من الذبوب ۔ ۔ ۔ الخ ، ص۱۴۷۴ ، حدیث : ۲۷۵۸ ۔
[3] شرح بخاری لابن بطال ، کتاب التوحید ، باب قولہ تعالی یریدون ان یبدلوا کلام اللہ ، ۱۰ / ۵۰۳ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع