دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

بڑے گناہ گار بھی رحمتِ الٰہی کے سبب بخشے جائیں گے ۔ اس حدیث میں ہم جیسے گناہ گاروں کے لیے بخشش کی بڑی امید ہے ۔ اسی لیے عَلَّامَہ نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیِّ نے اس حدیث کواس باب میں ذکر فرمایا ۔

رحمت کے حصوں کا مطلب :

حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت کے سو ( 100 ) حصے ہیں حالانکہ رحمتِ الٰہی تو غیر متناہی ہے اس کے سو ( 100 ) حصے یا اجزاء کیسے ہو سکتے ہیں؟ اس کا جواب دیتے ہوئے عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’رحمت وہ قدرت ہے جس کا تعلق ایصالِ خیر سے ہے یعنی خیر پہنچانے کی قدرت رحمت ہے ، قدرت ایک صفت ہے لیکن  اس کے متعلقات غیر متناہی ہیں ۔  حدیث میں سمجھانے کے لیے بطورِ مثال سو ( 100 ) حصوں میں منحصر کیا ہے تاکہ یہ سمجھنے میں آسانی ہو کہ جو رحمت ہمارے پاس ہے وہ کم ہے اور جو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پاس ہے وہ بہت زیادہ ہے ۔ ‘‘ ( [1] )  ” مرآۃ المناجیح“میں ہے : ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سو ( 100 ) قسم کی ہے یا سینکڑوں قسم کی جن میں سے ہر قسم کے ماتحت ہزارہا انواع ہیں ، ہر نوع کے نیچے ہزاروں صنفیں ہیں اور ہر صنف کے تحت ہزارہا افرادغرضکہ یہ حدیث حد بندی ( تحدید ) کے لیے نہیں بلکہ تکثیر و زیادت ( یعنی کثرت بیان کرنے ) کے لیے ہے ۔ ‘‘ ( [2] )

آخرت میں رحمتِ الٰہی عذاب سے زیادہ ہوگی :

اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ سَو ( 100 ) کا عددمعین کرنے میں کیا حکمت ہے حالانکہ عربوں کی عادت تو یہ ہے کہ وہ کثرت کے لیے ستر ( 70 ) کا عدد استعمال کرتے ہیں؟ تو اِس کا جواب یہ ہے کہ اس خاص سو ( 100 ) کے عدد کو کثرت اور مبالغہ کے لیے لایا گیا ہے اور ستر ( 70 ) بھی تو سَو ( 100 ) کے اجزاء میں سے ہے ۔  ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ بات طے ہے کہ آخرت کی آگ دنیا کی آگ سے انہتر ( 69 ) گنا زیادہ ہے پس اگر آگ کے ہر جز کا رحمت کے ہر جزسے مقابلہ کیا جائے تو رحمت کے تیس ( 30 ) اَجزاء زیادہ ہوں گے ۔  اس سے پتہ چلا کہ آخرت میں رحمتِ الٰہی عذاب سے زیادہ ہوگی اور اس کی تائید حضوراکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِس فرمان سے بھی ہوتی ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشادفرماتا ہے : ’’ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ۔ ‘‘ ( [3] )

وحشی جانوروں پر رحمت کا اثر :

حدیث پاک میں وحشی جانوروں کا ذکر فرمایا کہ وحشی جانور بھی اسی رحمت کے سبب اپنے بچوں پر رحم کرتے ہیں تو یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صرف وحشی جانوروں کا ذکر کیوں کیا؟ اس کا جواب دیتے ہوئے مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’وحشی جانوروں کا ذکر خصوصیت سے اس لیے فرمایا کہ اِن میں اُلفت و محبت کم ہے ، نفرت و غضب زیادہ ۔  یعنی وحشی درندے بھی اس رحمت کے حصے سے اپنے بچوں پر مہربان ہیں ۔ اگر ربّ تعالیٰ ماں کے دل میں محبت پیدا نہ کرے تو وہ اپنے بچوں پر ہرگز مہربان نہ ہو جیسے ناگن اور مچھلی کہ ناگن تو اپنے بچوں کو کھا جاتی ہے ، مچھلی اپنے بچوں کو پہچانتی بھی نہیں اور اگر ربّ محبت پیدا فرمادے تو پتھر اور درخت محبت کرنے لگیں ، دیکھو اُحد پہاڑ حضورسے محبت کرتا ہے ، درخت گھاس پھوس حضور پر نثار ہیں ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم )  ۔ ‘‘ ( [4] )

سَو ( 100 ) رحمتوں کا عالم کیا ہوگا؟

 ” دلیل الفالحین“میں ہے :  ” مذکورہ احادیث میں مسلمانوں کے لیے اُمید اور بشارت ہے ۔  علماء فرماتے ہیں کہ یہ دنیا جو کہ رنج اور تکلیفوں کا گھر ہے اس دنیا میں ایک رحمت کے سبب اِسلام ، قرآن ، نماز ، دل میں رحم اور اِن جیسی دیگر نعمتیں ملیں تو پھر آخرت جوکہ دارُ القرار و دارُ الجزاء ہے اُس میں سَو ( 100 ) رحمتوں کا کیا عالَم ہوگا ۔ ‘‘ ( [5] )

اُمِّید کے ساتھ عمل کرنا اعلیٰ ہے :

حجۃ الاسلام حضرت سَیِّدُنَا امام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’امید کے ساتھ عمل کرنا خوف کے ساتھ عمل کرنے سے اعلیٰ ہے کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا سب سے زیادہ مقرب بندہ وہ ہے جو اس سے زیادہ محبت کرتا ہو اور محبت کا غلبہ امید کے ذریعے ہوتا ہے ۔  اسے یوں سمجھیے کہ دو بادشاہوں میں سے ایک کی خدمت اس کی سزا کے خوف سے کی جاتی ہو اور دوسرے کی انعام کی امید پر تو انعام کی امید رکھنے والا خوف رکھنے والے شخص کے مقابلے میں زیادہ محبت کرنے والا ہوگا ۔  اسی لیے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے امید اور اچھا گمان رکھنے کے متعلق ترغیب دلائی گئی ہے بالخصوص موت کے وقت ۔ ‘‘ ( [6] )

حسن ظن اور اُمید کے باعث بخشش :

ایک شخص لوگوں کو قرض دیا کرتاتھا اور وہ اپنے غلام کو کہتا کہ جب تمہارے پاس کوئی تنگدست آئے تو اس سے درگزر سے کام لینا ہوسکتا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّہم سے درگزر فرمائے



[1]      عمدۃ القاری ، کتاب الادب ، باب جعل اللہ الرحمۃ مائۃ جزء ، ۱۵ / ۱۶۸ ، تحت الحدیث : ۶۰۰۰ ۔

[2]      مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۳۸۱ ۔

[3]      عمدۃ القاری ، کتاب الادب ، باب جعل اللہ الرحمۃ مائۃ جزء ، ۱۵ / ۱۶۸ ، تحت الحدیث : ۶۰۰۰ ۔

[4]      مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۳۸۱ ۔

[5]      دلیل الفالحین ، باب فی الرجاء ، ۲ / ۳۲۴ ، تحت الحدیث : ۴۲۰ ۔

[6]     احیاء العلوم ، ۴ / ۴۱۹ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن