30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کی وضاحت سے ملنے والے 7مدنی پھول
(1) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت اس کے غضب کے مقابلے میں بہت کثیر ہے ۔
(2) اللہ عَزَّوَجَلَّ کا کسی کو ثواب و جزا دینے کے اِرادے کو رحمت اور کسی کو عذاب دینے یا پکڑ فرمانے کے اِرادے کو غضب کہتے ہیں ۔
(3) حدیث میں جس تحریر کا ذکر ہے وہ لوحِ محفوظ پر نہیں بلکہ علیحدہ سے کسی اور مقام پر لکھی ہوئی ہے ۔
(4) لوحِ محفوظ پر فرشتوں ، نبیوں اور ولیوں کی نظر ہوتی ہے ۔
(5) حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نظر صرف لوحِ محفوظ پرہی نہیں بلکہ عرش پر لکھی ہوئی تحریر پر بھی ہے ۔
(6) رحمتِ الٰہی بنا استحقاق کے بھی مل جاتی ہے مگر غضب استحقاق سے ہی ملتاہے ۔
(7) رحمت کی بہت سی قسمیں ہیں جبکہ غضب کی چند قسمیں ہیں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رحمت کاملہ میں سے حصہ عطا فرمائے ، اپنی رحمت سے ہماری بخشش ومغفرت فرمائے ، بلا حساب جنت میں داخلہ نصیب فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 420 رَحْمَتِ اِلٰہِی کے سو اَجزاء
عَنۡ اَبِي هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : جَعَلَ اللَّهُ الرَّحْمَةَ مِائَةَ جُزْءٍ فَاَمْسَكَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَّتِسْعِينَ وَاَنْزَلَ فِى الْاَرْضِ جُزْءًا وَاحِدًا فَمِنْ ذٰلِكَ الْجُزْءِ يَتَرَاحَمُ الْخَلَائِقُ حَتّٰى تَرْفَعَ الدَّابَّةُ حَافِرَهَا عَنْ وَلَدِهَا خَشْيَةَ اَنْ تُصِيْبَهُ. ( [1] ) وَ فِیْ رَوَایَۃٍ : اِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ اَنْزَلَ مِنْهَا رَحْمَةً وَّاحِدَةً بَيْنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ وَالْبَهَائِـمِ وَالْهَوَامِّ فَبِهَا يَتَعَاطَفُوْنَ وَبِهَا يَتَرَاحَمُونَ وَبِهَا تَعْطِفُ الْوَحْشُ عَلَى وَلَدِهَا وَاَخَّرَ اللهُ تِسْعًا وَّتِسْعِينَ رَحْمَةً يَرْحَمُ بِهَا عِبَادَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. ( [2] ) وَرَوَاہُ مُسۡلِمٌ اَیۡضًا مِنۡ رِوَایَۃِ سَلۡمَانَ الۡفَارسِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَال رَسُولُ اللہِ : اِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ فَمِنْهَا رَحْمَةٌ بِهَا يَتَرَاحَمُ الْخَلْقُ بَيْنَهُمْ وَتِسْعٌ وَّتِسْعُوْنَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ. ( [3] ) وَ فِیْ رَوَایَۃٍ : اِنَّ اللهَ خَلَقَ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ مِائَةَ رَحْمَةٍ كُلُّ رَحْمَةٍ طِبَاقُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْاَرْضِ فَجَعَلَ مِنْهَا فِي الْاَرْضِ رَحْمَةً فَبِهَا تَعْطِفُ الْوَالِدَةُ عَلَى وَلَدِهَا وَالْوَحْشُ وَالطَّيْرُ بَعْضُهَا عَلَى بَعْضٍ فَاِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ اَكْمَلَهَا بِهٰذِهِ الرَّحْمَةِ. ( [4] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا کہ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے رحمت کے سو ( 100 ) حصے کیے ، اُن میں سے ننانوے ( 99 ) حصے اپنے پاس رکھ لیے اور صرف ایک حصہ زمین پر اُتارا ، پس اُس ایک حصے سے لوگ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں یہاں تک کہ ایک جانور بھی اپنے بچے سے اپنا کُھر ہٹا لیتا ہے کہ کہیں اُسے تکلیف نہ پہنچے ۔ ‘‘ ٭ایک روایت میں یوں ہے کہ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی سو ( 100 ) رحمتیں ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُن میں سے ایک رحمت جنوں ، انسانوں ، چوپایوں اور کیڑے مکوڑوں کے درمیان اُتاردی ہے ، اسی رحمت کے سبب وہ ایک دوسرے سے محبت اور رحم کرتے ہیں اور اسی رحمت کے سبب وحشی جانور اپنے بچوں پر رحم کرتے ہیں ۔ ننانوے ( 99 ) رحمتوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے روک رکھا ہے قیامت کے دن وہ اپنے بندوں پر اس کے ذریعے رحم فرمائے گا ۔ ‘‘ ٭اسی طرح امام مسلم نے حضرتِ سَیِّدُنا سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت کی ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” اللہ عَزَّوَجَلَّ کی سو ( 100 ) رحمتیں ہیں ، ایک رحمت کے ساتھ مخلوق ایک دوسرے سے شفقت سے پیش آتی ہے اور ننانوے ( 99 ) رحمتیں قیامت کے لیے ہیں ۔ “٭ایک روایت میں ہے کہ جس دن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آسمان اورزمین کو پیدافرمایا اُس دن سو ( 100 ) رحمتیں پیدا فرمائیں ، ہر رحمت آسمانوں اور زمین کے درمیان کی وُسعت کے برابر ہے ، پس اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ایک رحمت کو زمین میں رکھ دیا ، اُسی سے ماں اپنے بچے پر شفقت کرتی ہے ، وحشی جانور اور پرندے ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، قیامت کے دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُس رحمت کو ملا کر رحمت کو مکمل کردے گا ۔ ‘‘
حدیث پاک کی باب سے مناسبت واضح ہے کہ مذکورہ حدیث پاک میں فرمایا گیاکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت کا صرف ایک حصہ اس دنیا میں اُتارا گیا ہے ، باقی ننانوے ( 99 ) حصے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے روک لیے ہیں ، جب ایک رحمت کا یہ عالم ہے کہ دنیا میں اس رحمت کے سبب لوگ آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، جانور جو کہ دوسرے جانوروں کے جانی دشمن ہوتے ہیں اپنے کھانے کے لیے دوسرے جانوروں کو یہاں تک کہ اُن کے بچوں کو چیر پھاڑ دیتے ہیں ، وہ بھی اپنے بچوں پر بڑے مہربان ہوتے ہیں ، اپنے بچوں پر آنچ نہیں آنے دیتے ، انہیں ہر نقصان سے بچاتے ہیں تو جب قیامت کے دن اللہ عَزَّ وَجَلَّ اِس ایک حصے کو ننانوے ( 99 ) حصوں میں ملا کر اپنی رحمت کو کامل کردے گا اس دن اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رحم کا کیا عالَم ہوگا؟ اُس دن تو بڑے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع