30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سنادی ، حضور ربّ کی طرف سے مختار ہیں ۔ ‘‘ ( [1] )
” تفہیم البخاری“ میں ہے : ’’ پاس رکھنے سے مراد یہ نہیں کہ وہ کسی مکان میں ہے ۔ اگر یہ سوال پوچھا جائے کہ غضب کا معنیٰ ہے کسی سے انتقام کے ارادے سے دل کے خون کا جوش مارنا ۔ یہ اللہتعالیٰ کے لیے متصور نہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ غضب سے مراد اس کا لازم ہے وہ یہ کہ کسی کو عذاب دینے کا اِرادہ کرنا ۔ ‘‘ ( [2] ) ( اور یہ معنیٰ ربّ تعالیٰ کے لیے بالکل درست ہے ۔ )
حدیث پاک میں فرمایا کہ رحمت غضب پر سابق ہے حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی صفات قدیمہ ہیں تو ان کا یک دوسرے سے آگے یا پیچھے ہونا کیسے متصوّر ہے ؟ چنانچہ ” دلیل الفالحین“ میں ہے : ’’علماء فرماتے ہیں کہ غضب اور رحمت دونوں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ارادے کو کہتے ہیں ، لہٰذا اللہ عَزَّ وَجَلَّ جب کسی نیک بندے کوثواب اور جزاء دینے کا اِرادہ کرتا ہے تو اُسے رحمت کہتے ہیں اور جب کسی گنہگار کو سزا دینے اور اُس کی پکڑفرمانے کا اِرادہ کرتا ہے تو اِس ارادے کو غضب کہتے ہیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ارادہ اس کی صفتِ قدیمہ ہے اسی سے وہ تمام چیزوں کا اِرادہ فرماتا ہے ، رحمت کا غضب پر سبقت لے جانے یا غالب آنے سے رحمت کی کثرت مراد ہے ۔ ‘‘ ( [3] )
رحمت کے غضب پر حاوی ہونے کے معانی :
حدیث پاک میں ہے : ” میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ۔ “مُفَسِّر شہِیر مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاننے اس کے چند معانی بیان فرمائے ہیں : ’’٭ایک یہ کہ میری رحمت زیادہ ہے میرا عذاب و غضب کم کہ رحمت ہمیشہ رہتی ہے غضب کبھی کبھی ۔ ٭دوسرے یہ کہ میری رحمت عام ہے جس سے ہر کافر و مؤمن و جن و اِنس حصہ لے رہا ہے ، میرا غضب خاص کافر انسانوں اور جنات پر ۔ ٭تیسرے یہ کہ رحمت ملنے کے اَسباب بہت ہیں : ایمان لانا ، تو بہ کرنا ، عبادت کرنا ، رونا ، ڈرنا ، امید رکھنا ، بندوں پر رحم کرنا مگر غضب کا سبب صرف ایک ہے یعنی نافرمانی کرنا اگرچہ نافرمانی کی نوعیتیں بہت ہیں ۔ ٭چوتھے یہ کہ رحمت پہلے ہے غضب اس کے بعد ہے ، مخلوق کو پیدا فرمانا ، انہیں پالنا ، روزی دینا رحمت ، یہ پہلے ہے ، ان کی نافرمانی پر پکڑنا یہ غضب ہے جو ان رحمتوں کے بعد ہے ۔ دنیا میں بھی اس کی رحمت زیادہ ہے آخرت میں بھی زیادہ ہوگی ۔ ٭پانچویں یہ کہ اللہ کی رحمت تو بغیر سبب بھی مل جاتی ہے مگر اُس کا غضب کسی سبب سے ہی ہوتا ہے ۔ ہم پر اُس نے عالَمِ اَرواح اور ماں کے پیٹ میں رحمتیں کیں ، اُس وقت ہم کون سے اَعمال کررہے تھے ۔ ٭چھٹے یہ کہ رحمت تو ہمارے بغیر استحقاق کے بھی مل جاتی ہے مگر غضب ہمارے استحقاق سے ہی ہوتا ہے ۔ ٭ساتویں یہ کہ رحمت کی بہت قسمیں ہیں : رحمتِ ایجاد ، رحمتِ امداد ، رحمتِ توفیقِ اعمال ، رحمتِ قبول ، رحمتِ جزاءِ عمل وغیرہ مگر غضب کے اقسام بہت تھوڑے ہیں ۔ ٭آٹھویں یہ کہ خلفِ وعید جائز بلکہ واقع ہے مگر خلفِ وعد نا ممکن ہے ۔ اس کی اور وجوہ بھی ہوسکتی ہیں ۔ ‘‘ ( [4] )
خوف اور اُمِّید کے درمیان شخص :
سیدعالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک شخص کے پاس تشریف لائے جو نزع کے عالَم میں تھا ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے پوچھا : ’’خود کو کیسا محسوس کر رہے ہو؟ ‘‘ اس نے عرض کی : ’’میں اپنے آپ کو اس طرح پاتاہوں کہ گناہوں پر خوف زدہ ہوں اور اپنے رب کی رحمت کا امیدوار ہوں ۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : ’’ایسے وقت میں جب کسی بندے کے دل میں یہ دونوں چیزیں ( امیدوخوف ) جمع ہوجائیں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی امید اسے عطا فرماتا ہے اور جس چیز سے وہ خوف زدہ ہوتا ہے اُس سے اُسے اَمن عطا فرماتا ہے ۔ ‘‘ ( [5] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! یہ حدیث مبارکہ ہم گناہگاروں ، سیہ کاروں ، بدکاروں کے لیے بخشش ومغفرت کا ایک بہت بڑا آسرا ہے ، ربّ تعالیٰ نے تو ہمیں اپنی رحمت کی سبقت وغلبے کی نوید سنادی ، مگر اب دیکھنا یہ ہے کہ اس رحمت وبخشش کی خیرات کو لوٹتا کون ہے ؟ کاش ! ہم سب مسلمان اپنے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں سے توبہ کرلیں ، جو گناہ ہوچکے ہیں ان پر ندامت اختیار کرلیں ، آئندہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرلیں ، نیکیوں پر کمربستہ ہوجائیں ، نیکی کی دعوت کو عام کرنے والے بن جائیں ، مسلمانوں کی خیر خواہی کرنے والے بن جائیں ، برائیوں سے رُکنے والے اور روکنے والے بن جائیں ، ظاہری وباطنی تمام امراض سے خلاصی نصیب ہوجائے ، تمام اچھی خصلتوں کو اپنانے والے بن جائیں ۔
سَبَقَتْ رَحْمَتِیْ عَلٰی غَضَبِیْ …… تو نے جب سے سنا دیا یاربّ
آسرا ہم گناہگاروں کا …… اور مضبوط ہو گیا یاربّ
مدنی گلدستہ
’’رحمتِ خدا ‘‘ کے 7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع