30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیا کہ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس کی قبر کو نور سے بھر دیا ہے اور حدِ نظر تک وسیع فرمادیا ہے ۔ ‘‘ ( [1] )
قبر محبوب کے جلوؤں سے بسادے مالک …… یہ کرم کردے تو میں شاد رہوں گا یاربّ
مدنی گلدستہ
’’قرآن ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) ایک ماں اپنے بچے پر بہت مہربان ہوتی ہے لیکن ہمارا ربّ تعالیٰ اس سے بھی زیادہ مہربان ہے ۔
(2) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت بہت بڑی ہے اور اس نے اپنی رحمت اپنے مؤمن بندوں کے لیے لکھ دی ہے ۔
(3) جیسے ماں نہیں چاہتی کہ اس کے بچے کو کوئی نقصان پہنچے ایسے ہی ربّ تعالیٰ بھی نہیں چاہتا کہ اس کا بندہ جہنم میں جلے ۔
(4) جواللہ تَعَالٰی کی رحمت سے امید رکھتا ہے تو چاہے کتنا ہی گناہ گار ہو ربّ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے بخش دیتا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی رحمت کاملہ سے بخش دے ، ہمارے تمام صغیرہ کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے ، کل بروز قیامت ہمیں جنت میں بلا حساب وکتاب داخلہ نصیب فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 419 رَب کی رحمت اُس کے غَضَب پر حَاوِی ہے
عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْخَلْقَ كَتَبَ فِى كِتَابٍ فَهُوَ عِنْدَهُ فَوْقَ الْعَرْشِ : اِنَّ رَحْمَتِىْ تَغْلِبُ غَضَبِىْ. ( [2] ) وَفِیْ رِوَایَۃٍ : غَلَبَتْ غَضَبِیْ. وَفِی رِوَایَۃٍ : سَبَقَتْ غَضَبِیْ.
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” جب اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مخلوق کو پیدا فرمایا تو اُس نے ایک کتاب میں جو اُس کے پاس عرش پر ہے لکھ دیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ۔ “ایک روایت میںتَغْلِبُکے بجائے غَلَبَتْکے الفاظ ہیں ( [3] ) جبکہ دوسری روایت میںسَبَقَتْ کے الفاظ ہیں ۔ ( [4] ) ( دونوں صورتوں میں معنیٰ وہی ہے ۔ )
ربّ تعالیٰ کے پاس ہونے سے مراد :
حدیث پاک میں فرمایا کہ ’’وہ تحریر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس ہے ۔ ‘‘ اس کے تحت ” عمدۃ القاری“میں ہے : ’’یعنی جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مخلوق کی تخلیق کا فیصلہ فرمایا تو اپنے پاس لکھ کر رکھ لیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے ۔ پاس رکھنے کا معنیٰ یہ نہیں کہ وہ کسی مکان میں ہے بلکہ اس طرف اشارہ ہے کہ وہ مخلوق سے چھپی ہوئی ہے وہ اُس کا اِدراک نہیں کرسکتے ۔ ‘‘ ( [5] )
رسولُ اللہ کا علم غیب :
مُفَسِّر شہِیر ، حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یہ تحریر یا تو لوح محفوظ میں ہے دوسری تحریروں کے ساتھ یا تحریر علیحدہ ہے جوربّ تعالیٰ کے پاس محفوظ ہے ، ہر وقت ربّ کی نظر میں ہے ۔ خیال رہے کہ اس قسم کی تحریریں تاکید اور اہمیت ظاہر فرمانے اور اپنے خاص بندوں کو دکھانے کے لیے ہوتی ہیں ، اس لیے نہیں کہ ربّ تعالیٰ کو اپنے بھول جانے کا خطرہ تھا لہٰذا لکھ لیا نَعُوْذُ بِاللّٰہ ۔ معلوم ہوا کہ وہ تحریر حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیکھی ہے ، دیکھ کر پڑھ کر ہم کو سنارہے ہیں ۔ ‘‘ ( [6] )
حدیث میں ہے کہ وہ تحریر عرش پر ہے یعنی لوحِ محفوظ پر نہیں ہے ۔ ” مرآۃ المناجیح“میں ہے : ’’اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تحریر لوح محفوظ میں نہیں ہے بلکہ خاص تختی پر ہے لوحِ محفوظ پر فرشتوں ، نبیوں ، ولیوں کی نظر ہے مگر اس تحریر پر سوا ہمارے حضور ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے کسی کی نظر نہیں ، یہ تو حضور کا کرم ہے کہ وہ خاص تحریر ہم کو بتادی ،
[1] شعب الایمان ، باب فی معالجۃکل ذنب با لتو بۃ ، ۵ / ۴۱۷ ، حدیث : ۷۱۱۵ ۔
[2] بخاری ، کتاب التوحید ، باب و یحذرکم اللہ نفسہ ، ۴ / ۵۴۰ ، حدیث : ۷۴۰۴ ۔
[3] بخاری ، کتاب بدء الخلق ، باب ما جاء فی قول اللہ تعالٰی : وھو یبدأ الخلق ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۳۷۵ ، حدیث : ۳۱۹۴ ۔
[4] بخاری ، کتاب التوحید ، باب وکان عرشہ علی الماء ، ۴ / ۵۴۷ ، حدیث : ۷۴۲۲ ۔
[5] عمدۃ القاری ، کتاب بدء الخلق ، باب فی قول اللہ تعالی : وھو الذی یبدء الخلق ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱۰ / ۵۴۵ ، تحت الحدیث : ۳۱۹۴ ۔
[6] مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۵۶۴ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع