30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1) جس جگہ کسی بزرگ نے نماز پڑھی ہو بطورِ تبرک اس جگہ کو نماز کے لیے مقرر کرنا جائز ہے ۔
(2) جب کسی گھر میں نیک لوگ آئیں تو اہلِ محلہ کو میزبان کی اجازت اور رضا کے ساتھ اُن کی خدمت میں حاضر ہونا چاہیے تاکہ اُن کے فیوض وبرکات حاصل کریں ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پانچوں نمازیں باجماعت پہلی صف میں تکبیر اُولیٰ کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر418 : ماں سے زیادہ مہربان
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ، قَالَ : قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ِسَبْيٌ فَاِذَا امْرَاَةٌ مِّنَ السَّبْيِ تَسْعَی اِذْ وَجَدَتْ صَبِيًّا فِي السَّبْيِ اَخَذَتْهُ فَاَلْزَقَتْهُ بِبَطْنِهَا فَاَرْضَعَتْهُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اَتَرَوْنَ هَذِهِ الْمَرْاَةَ طَارِحَةً وَلَدَهَا فِي النَّارِ؟ قُلْنَا : لَا وَاللهِ فَقَالَ : لَلّٰهُ اَرْحَمُ بِعِبَادِهِ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا. ( [1] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے ، فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس کچھ قیدی لائے گئے ، پس قیدیوں میں سے ایک عورت دوڑتی پھر رہی تھی جیسے ہی اسے ایک بچہ نظر آیا اس نے بچے کو پکڑ کے اپنے سینے سے لگالیا اور دودھ پلانے لگی ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے فرمایا : ” تمہارا کیا خیال ہے ، کیا یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال سکتی ہے ؟“ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ” خدا کی قسم ! نہیں ۔ “ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’خدا کی قسم ! یہ عورت جتنی اپنے بچے پر مہربان ہے اللہ عَزَّوَجَلَّاپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے ۔ ‘‘
رحمتِ الٰہی صرف مؤمنوں کو ملے گی :
حدیث پاک میں فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں پر ایک ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے ۔ “ لفظِ عباد میں تو سب بندے آجاتے ہیں خواہ وہ کافر ہوں یا مؤمن ، اس کا مطلب ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کافر بندوں پر بھی مہربان ہے ؟ اس کا جواب دیتے ہوئے عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ” عباد کا لفظ عام ہے یعنی اس میں مسلمان اور کافر سب داخل ہیں لیکن یہاں اس کا معنی مؤمن بندوں کے ساتھ خاص ہے جیسے فرمانِ باری تعالیٰ ہے : ( وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍؕ-فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ ) ( پ۹ ، الاعراف : ۱۵۶ ) ( ترجمۂ کنزالایمان : اور میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہے تو عنقریب میں نعمتوں کو ان کے لئے لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں ۔ ) لہٰذا رحمتِ الٰہی وسعت کے اعتبار سے عام ہے کہ ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے لیکن ملے گی انہیں جن کے لیے لکھ دی گئی ہے یعنی مؤمن بندوں کو ۔ “ ( [2] )
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حدیث پاک میں فرمایا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے بندوں پر ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے تو وہ بندوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا ۔ حالانکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تو اپنے بعض مؤمن بندوں کو آگ میں ڈالے گا تو پھر وہ ماں سے زیادہ مہربان کیسے ہوا؟ اس کے جواب میں مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’جیسے ماں نہیں چاہتی کہ میرا بچہ آگ میں جلے ایسے ہی رب تعالیٰ نہیں چاہتا کہ میرا بندہ آگ میں جلے وہ تو ماں سے زیادہ مہربان ہے ۔ خیال رہے کہ یہاں چاہنا بمعنی راضی ہونا ہے نہ کہ بمعنی ارادہ کرنا ، ربّ تعالیٰ نہ کفر سے راضی ہے نہ فسق سے ، دنیا کا ہر کام ربّ تعالیٰ کے اِرادے سے ہے نہ کہ اُس کی رضا سے ، لوگ اپنی حرکتوں سے دوزخ میں جاتے ہیں ربّ تعالیٰ اُن کے اِس جانے سے راضی نہیں ، لہٰذا حدیث صاف ہے اس پر مسئلۂ تقدیر کے اعتراضات نہیں پڑ سکتے ۔ ‘‘ ( [3] )
رحمت الہٰی سے امید رکھنے والے کی نورانی قبر :
حضرتِ سَیِّدُناابو غالب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ” میں تجارت کی غرض سے ملک شام آیا جایا کرتا تھا ، وہاں جانے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہاں حضرت سَیِّدُنَا ابو امامہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے ۔ میں وہاں ایک نیک شخص کے ہاں قیام کیا کرتا تھا ، ہمارے ساتھ اُس کا بھتیجا بھی رہا کرتا تھا جو اُس کا کہنا نہیں مانتا تھا ، وہ اُسے ڈانٹتا اور مارتا تھا لیکن وہ اُس کی بات نہیں مانتا تھا ۔ ایک بار وہ بیمار ہوگیا ، اس نے اپنے چچا کو وصیت کرنے کے لیے بلایا تو اس نے نے وصیت سننے سے انکار کردیا ۔ میں اُس کو ساتھ لے کر آیا ۔ چچا نے اسے ڈانٹ ڈپٹ کی اور فرمایا : ” اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دشمن ! کیا تو نے ایسا ایسا نہیں کیا؟“ اُس کے بھتیجے نے کہا : ’’اے چچا ! آپ کو جو کہنا تھا کہہ چکے ؟ ‘‘ انہوں نے کہا : ’’ ہاں ۔ ‘‘ تو وہ نوجوان بولا : ’’اے میرے چچا ! اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ میرا معاملہ میری ماں کے سپرد کر دے تو میری ماں میرے ساتھ کیسا معاملہ فرمائے گی؟ ‘‘ انہوں نے جواب دیا : ’’وہ تجھے جنت میں داخل کر دے گی ۔ ‘‘ تواس نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھ پر میری ماں سے بھی زیادہ مہربان ہے ۔ ‘‘ پھر اُس کی روح قَفَسِ عُنْصُرِی سے پرواز کر گئی ۔ حضرت غالب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں کہ ہم اس کی قبر کی اینٹیں صحیح کر رہے تھے تبھی ایک اینٹ قبر میں گر گئی ، اس نوجوان کے چچا قبر میں اترے تو نکلنے میں کافی دیر ہوگئی ، میں نے پوچھا : ’’ کیا ہوا اتنی دیر کیوں ہوگئی ۔ ‘‘ تو انہوں نے جواب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع