30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سی جگہ پسند ہے جہاں میں نماز پڑھوں؟“ جس جگہ میں چاہتا تھا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہاں نماز پڑھائیں میں نے اس طرف اشارہ کیا ، پس رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کھڑے ہوگئے اور تکبیر پڑھی اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بنائی ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دو رکعت نماز پڑھائی ، پھر سلام پھیر دیا اور ہم نے بھی سلام پھیر دیا ۔ میں نے حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خَزِیرہ ( گوشت سے بنے ایک کھانے ) کے لیے روک لیا جو آپ کے لیے تیار کیا گیا تھا ۔ اہل محلہ کو جب معلوم ہوا کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میرے گھر میں تشریف فرما ہیں تو وہاں لوگ جمع ہونا شروع ہوگئے حتی کہ بہت سے لوگ جمع ہوگئے تو کسی شخص نے کہا کہ : ’’مالک کہاں ہیں ، نظر نہیں آرہے ؟ ‘‘ تو ان میں سے ایک شخص بولا : ’’وہ منافق ہے ، وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّسے محبت کرتا ہے نہ ہی رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ۔ ‘‘ یہ سن کر رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” ایسا نہ کہو ، کیا تم دیکھتے نہیں کہ اس نے رِضائے اِلٰہی کے لیے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہا ۔ “یہ فرمان سن کر اُس شخص نے کہا : ” اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمزیادہ جانتے ہیں ، ہم تو یہی دیکھتے ہیں کہ اُس کی محبت اور باتیں منافقین کے ساتھ ہی ہوتی ہیں ۔ “ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ” بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس شخص کو دوزخ پر حرام کردیا ہے جو رِضائے الٰہی کے لیے لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہے ۔ “
حضرت عتبان بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ :
حضرت سَیِّدُنَاعتبان بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنصاری سالمی مدنی بدری صحابی ہیں ، ان نے سے دس احادیث مروی ہیں ، بخاری میں صرف ایک ہے ، یہ عہد رسالت ہی سے اپنی قوم کے امام تھے ، حضرت امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے زمانے میں مدینہ طیبہ میں وصال فرمایا ۔ کیونکہ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ نابینا تھے جبکہ بعض روایات میں یہ ہے کہ آپ کی نظر بہت کمزور تھی ۔ عام روایات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت حضرت سَیِّدُنَاعتبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی نظر کمزور ہوگئی تھی ، بالکلیہ ختم نہیں ہوئی تھی ، البتہ بخاری کی روایت میں یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنَامحمود بن ربیع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں کہ عتبان قوم کی امامت کرتے تھے اور وہ نابینا تھے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب حضرت سَیِّدُنَامحمود بن ربیع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے ان سے ملاقات کی تھی اس وقت وہ نابینا ہوں ۔ ہاں مسلم کی روایت میں تصریح ہے کہ وہ اس وقت نابینا تھے تو لا محالہ یہ کہنا پڑے گا کہ وہ نابینا ہوگئے تھے ۔ ( [1] )
حدیثِ مذکور میں اِس بات کا بیان ہے کہ حضرت سَیِّدُنَاعتبان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ جو کہ امامت کرتے تھے انہوں نے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی کہ بارش کے دنوں میں مسجد تک پہنچنا میرے لیے مشکل ہوجاتا ہے اس لیے آپ میرے غریب خانے پر تشریف لاکر ایک جگہ نماز پڑھ لیں تاکہ میں اس جگہ کو اپنی جائے نماز بنالوں تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی یہ خواہش پوری فرمادی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نابینا ہونا ترکِ جماعت کا عذر ہے یعنی اُسے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت ہے جیساکہ ” عمدۃ القاری“ میں ہے : ’’اس حدیث سے پتہ چلا کہ عذر کی وجہ سے جماعت چھوڑنا جائز ہے جیسے بہت زیادہ تیز بارش ، بہت سخت اندھیرا ہو یا جان کا خوف ہو ۔ ‘‘ ( [2] )
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے ترکِ جماعت کے بیس20اَعذاربیان فرمائے ہیں ان میں سے چند اعذار یہ ہیں : ’’اندھا ( ہونا ) ، سخت بارش اور سخت تاریکی ( اندھیرا ) ۔ ‘‘ ( [3] )
جماعت چھوڑنے والوں کے لیے لمحہ فکریہ :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واقعی اسلام بہت ہی پیارا دین ہے ، جس میں اَکھیاروں کے لیے اَحکام موجود ہیں تو نابینا افراد کے لیے بھی احکام موجودہیں ۔ منقول ہے کہ پہلے کے مسلمان باجماعت نَمازوں کا نہایت زبردست اہتمام فرمایا کرتے تھے کہ جولُوہار ہوتا تھا وہ اگر ضَرب ( یعنی چوٹ ) لگانے کے لئے ہتھوڑا اُوپر اٹھائے ہوئے ہوتا اور اِسی حالت میں اذان کی آواز سنتا تو اب ہتھوڑا لوہے وغیرہ پر مارنے کے بجا ئے فورًا رکھ دیتا ، نیز اگرموچی یعنی چمڑا سینے والا سُوئی چمڑے میں ڈالے ہوئے ہوتا اور جُوں ہی اذان کی آواز اُس کے کانوں میں پڑتی تو سُوئی کو باہَر نکالے بِغیر چمڑا اورسُوئی وَہیں چھوڑ کر بِلاتا خیر مسجِدکی طرف چل پڑتایعنی اُٹھے ہوئے ہتھوڑے کی ایک ضَرب لگا دینا یاسُوئی کو دوسری طرف نکالنا بھی اُن کے نزدیک تاخیر میں شامل تھا حالانکہ اِ س میں وَقت ہی کتنا لگتا ہے ۔ مگر افسوس اور لمحہ فکریہ ہے آج کے اُن مسلمانوں کے لیے جنہیں کوئی عذرِ شرعی بھی لاحق نہیں ہوتا مگر ان کی جماعت فوت ہوجاتی ہے ، بلکہ بعض نادان افراد تو نماز ہی قضا کردیتے ہیں حالانکہ جماعت ونماز دونوں کو ترک کرنا گناہ ہے ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہمیں پانچوں نمازیں باجماعت پہلی صف میں تکبیر اُولیٰ کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت ……… ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
میں پڑھتا رہوں سنّتیں وقت ہی پر ……… ہوں سارے نوافِل ادا یاالٰہی
دے شوقِ تلاوت دے ذوقِ عبادت ……… رہوں باوُضو میں سدا یاالٰہی
مالک بن دخیشن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ :
حدیث پاک میں مالک نامی شخص کا ذکر ہوا جنہیں مالک بن دخیشن کہاں جاتا ہے ۔ ان کا نام سن کر کسی نے کہا کہ وہ منافق ہے تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایسا کہنے سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع