30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک وہ جو ہماری اُتاری ہوئی روشن باتوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں ۔ ( [1] )
” مرآۃ المناجیح“میں ہے : ’’حدیث شریف میں ہے جو علم چھپائے اسے آگ کی لگام دی جائے گی ۔ قرآن شریف میں بھی علم چھپانے کی برائیاں مذکور ہیں ۔ یہ سمجھتے ہوئے کہ مجھے حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس بشارت سے اس وقت منع کیاتھا جب اکثر لوگ نو مسلم تھے اور حدیث دانی کاملکہ کم رکھتے تھے ، اب حالات بدل چکے ہیں ، لوگ ذی شعور اور سمجھدار ہوگئے ہیں ۔ یہ ہے اجتہادِصحیح ۔ ‘‘ ( [2] )
حدیث سے مستفاد ہونے والے اَحکام :
اس حدیث سے حضرت معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بارگاہِ اقدس میں تقرب اور اُن کی جلالت ظاہر ہوئی اورنبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تواضع اور صحابہ پر شفقت بھی ۔ نیز معلوم ہوا کہ شیخ ( یعنی استاد پیر وغیرہ ) خاص علوم جو عام اشاعت کے لائق نہ ہوں انہیں خاص تلامذہ ( شاگردوں مریدوں وغیرہ ) کو بتا سکتا ہے اور اشاعت ( آگے بتانے ) سے روک سکتا ہے ، نیز معلوم ہوا کہ جو بات عوام کی سمجھ سے بالا تر ہو اور نا سمجھی سے ان کے فتنے میں پڑجانے کا خطرہ ہو اور اس کا جاننا انہیں ضروری نہ ہو اسے انہیں نہ بتائی جائے ۔ ‘‘ ( [3] )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واقعی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت بہت بڑی ہے ، اگر کوئی شخص مؤمن ہے اگرچہ کتنا ہی بڑا گناہگار ہے اور ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی توبہ کو قبول فرماتا ہے ۔ حضرتِ سَیِّدُنَاابو سَعِیْد خُدْرِیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ” تم سے پہلے ایک شخص نے ننانوے قتل کئے تھے ۔ جب اس نے اہل زمین میں سب سے بڑے عالِم کے بارے میں پوچھا تو اسے ایک راہب کے بارے میں بتایا گیا ۔ وہ اس کے پاس پہنچااوراس سے کہا : ’’میں نے ننانوے 99 قتل کئے ہیں کیا میرے لئے توبہ کی کوئی صورت ہے ؟ ‘‘ راہب نے کہا : ’’نہیں ۔ ‘‘ اس نے اسے بھی قتل کردیا اور سو 100کاعدد پورا کرلیا ۔ پھر اس نے اہل زمین میں سب سے بڑے عالِم کے بارے میں سوال کیا تو اسے ایک عالِم کے بارے میں بتایا گیا تو اس نے اس عالِم سے کہا : ’’ میں نے سو 100قتل کئے ہیں کیا میرے لئے توبہ کی کوئی صورت ہے ؟ ‘‘ اس نے کہا : ’’ہاں ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور توبہ کے درمیان کون سی چیز رکاوٹ بن سکتی ہے ؟ فلاں فلاں علاقہ کی طرف جاؤ وہاں کچھ لوگ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرتے ہیں ان کے ساتھ مل کر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرو اور اپنے علاقہ کی طرف واپس نہ آنا کیونکہ یہ بُرائی کی سرزمین ہے ۔ ‘‘ وہ قاتل اس علاقے کی طر ف چل دیا ، جب وہ آدھے راستے میں پہنچا تو اسے موت آگئی ۔ رحمت اور عذاب کے فرشتے اس کے بارے میں بحث کرنے لگے ۔ رحمت کے فرشتے کہنے لگے : ’’یہ توبہ کے دِلی اِرادے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف آیا تھا ۔ ‘‘ اور عذاب کے فرشتے کہنے لگے کہ اس نے کبھی کوئی اچھا کام نہیں کیا ۔ تو اُن کے پاس ایک فرشتہ انسانی صورت میں آیااور انہوں نے اسے ثالِث مقرر کرلیا ۔ اُس فرشتے نے اُن سے کہا : ’’دونوں طرف کی زمینوں کو ناپ لو یہ جس زمین کے قریب ہوگا اُسی کا حق دار ہے ۔ ‘‘ جب زمین ناپی گئی تو وہ اس زمین کے قریب تھا جس کے اِرادے سے وہ اپنے شہر سے نکلا تھا تو رحمت کے فرشتے اسے لے گئے ۔ ( [4] )
گناہ بے عَدَد اور جُرْم بھی ہیں لا تعداد ……… مُعاف کردے نہ سہ پاؤں گا سزا یاربّ
میں کرکے توبہ پلٹ کر گناہ کرتا ہوں ……… حقیقی توبہ کا کر دے شَرَف عطا یاربّ
مدنی گلدستہ
’’مغفرت ‘‘ کے 5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اُس کی وضاحت سے ملنے والے 5مدنی پھول
(1) اگر کوئی اہم بات کرنی ہو تو مخاطب کو اچھی طرح اپنی طرف متوجہ کرنا چاہیے تاکہ وہ غور سے سنے ۔
(2) اِیمان کے لیے ضروری ہے کہ توحید و رِسالت کا زبان و دل سے اِقرار کرے ، اگر صرف زبان سے اِقرار کرے اور دل میں کفر ہو تو ایسا شخص مذکورہ بشارت سے محروم ہے بلکہ وہ منافق ہے ۔
(3) جہنم کی آگ مؤمن کی زبان اور دل کو نہیں جلائے گی ۔
(4) نیک اَعمال نہ چھوڑے جائیں کہ اِن کی وجہ سے جنت کے اعلیٰ درجات ملیں گے ۔
(5) جو بات لوگوں کی سمجھ سے بالا تر ہو اور انہیں بتانا ضروری بھی نہ ہو یا ایسی بات کہ جس کے بتانے سے عوام کے فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو وہ بات انہیں نہ بتائی جائے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں عِلمِ دِین حاصل کرنے ، اس کو پھیلانے اور اَحکامِ شرعیہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع