حضور کی مُخالفت یا مُوافَقَت
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

ذکر ہے ، دل سے ایمان لانے کا اس لیے کہا تاکہ جو صرف زبان سے اقرار کرے اور دل میں ایمان نہ ہو وہ اس بشارت سے خارج ہوجائے مثلاًمنافقین ۔ ‘‘ ( [1] )  ” مرآۃ المناجیح“ میں ہے :  ’’اس طرح کہ دل سے اس کو مانے اور زبان سے اقرار کرے ، لہٰذا منافق اس بشارت سے علیحدہ ہے ، اور ساتر یعنی دل کا مؤمن زبان سے خاموش اس پر شریعت میں اسلامی احکام جاری نہ ہوں گے ۔  خیال رہے کہ عمر میں ایک بار زبان سے کلمۂ شہادت پڑھنا فرض ہے اور مطالبہ کے وقت بھی ضروری ۔ ‘‘ ( [2] )

مؤمن جہنم میں نہ جلے گا :

حدیث پاک میں فرمایا گیا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس پر دوزخ کو حرام کردے گا ۔ “اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ جہنم میں نہیں جائے گایا جائے گا مگر اپنے گناہوں کی سزا پانے تک جہنم میں رہے گا لہٰذا گناہوں سے بچنا اور نیک اعمال کرنا ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے ۔  چنانچہ  ” مرآۃ المناجیح“ میں ہے :   ’’ ( اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس پر دوزخ کو حرام کردے گا ۔  ) اس طرح کہ وہ آگ میں ہمیشہ نہ رہے گا یا آگ اس کے دل و زبان کو نہ جلا سکے گی کیونکہ یہ ایمان اور شہادت کے مقام ہیں ، کافر کا قلب و قالب دونوں جلائے گی ، ربّ فرماتا ہے : (تَطَّلِعُ عَلَى الْاَفْـٕدَةِؕ(۷))  ( پ۳۰ ، الھمزۃ :  ۷ ) یا حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو کافر مرتے وقت ایمان لائے اور کسی عمل کا موقع نہ پائے اس کے لیے یہ بشارت ہے ۔  بہرحال یہ حدیث قرآن کے خلاف ہے نہ دیگر احادیث  کے ، کوئی مؤمن عمل سے بے نیاز نہیں ہوسکتا ۔ ‘‘ ( [3] )  ” دلیل الفالحین“ میں ہے : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس پر دوزخ کو حرام کردے گا ۔  اس سے مراد یہ ہے کہ مسلمان  ہمیشہ کے لیے جہنم میں نہیں جائیں گے لہٰذا بعض گناہ گار مسلمانوں کو عذاب ہوگا یہ اس حدیث کے منافی نہیں ۔ ‘‘ ( [4] )

ہر بات ہر وقت بتانے کی نہیں ہوتی :

دلیل الفالحین میں ہے : ’’حضرت سَیِّدُنَامعاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے اِس بشارتِ عظمی کے اِعلان کی اجازت چاہی تاکہ لوگوں کے دلوں میں خوشی داخل ہو اور اُنہیں سچے دل سے اِیمان لانے اور اِخلاص کے ساتھ نیکیاں کرنے پر اُبھارا جائے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایاکہ’’پھر تو وہ اسی پر بھروسہ کرلیں گے ۔   ‘‘  اور نیک اَعمال کو چھوڑ دیں گے تو پھر آخرت میں ملنے والے جنت کے اعلیٰ درجات ( جو نیک اعمال سے ملیں گے اُن ) کو نہ پا سکیں گے ۔ جبکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتو اُمَّت کا مزید نیکیوں پر اہتمام ، اُن کی اپنے معاملات پر توجہ اور اُن کیلئے بلنددرجات کو چاہتے ہیں ۔ آپ نے حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو اِس اِعلان کے ترک کرنے کا اشارہ اس لیے فرمایا کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِعلان کرنے کے مقابلے میں اِعلان نہ  کرنے کے نتیجے کوزیادہ کامل خیال فرمایا ۔  ( [5] )

مرآۃ المناجیح میں ہے : ’’حضرت معاذ نے اِس بشارت کی تبلیغ کی اجازت مانگی یہ معلوم کرنے کے لیے کہ یہ حکم تبلیغی اُمور میں سے ہے یا اَسرارِ اِلہٰیہ میں سے ۔ شرعی اَحکام سب کے لیے ہیں ، طریقت  کے اَسرار اہل کے لیے ۔ خیال رہے کہ عوام بشارت سن کر بے پرواہ ہوجاتے ہیں ، مگر خواص بشارت پا کر زیادہ نیکیاں کرنے لگتے ہیں ۔ ربّ نے اپنے حبیب سے فرمایا : ( لِّیَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ ) ۔ ۔  ۔ الخ تو حضور نے نیکیاں اور زیادہ کیں ۔ عثمانِ غنی سے فرمایا تھا کہ جو چاہو کرو تم جنتی ہوچکے تو اُن کے اَعمال اور زیادہ ہوگئے ۔ ‘‘ ( [6] )

حضور کی مُخالفت یا مُوافَقَت :

سرکارِ مدینہ راحتِ قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو یہ حدیث لوگوں کو بیان کرنے سے منع فرمایا دیا تھا تو پھر حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یہ حدیث کیوں بیان فرمائی ؟  ” تفہیم البخاری“ میں ہے : ’’حضرت معاذ نے کِتمانِ عِلم سے بچتے ہوئے وفات کے وقت لوگوں کو اس کی خبر دی اس میں آپ ( صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی مخالفت نہیں کیونکہ وہ اس وقت لازم آتی ہے جبکہ توکل کی قید سے مقید ہو جب قید اُٹھ گئی تو مخالفت بھی نہ رہی ۔  اس کی تفصیل یہ ہے کہ شروع اسلام میں لوگ نئے نئے مسلمان تھے ، اگر ان کو یہ خبر دی جاتی تو وہ یہ اعتماد کرلیتے کہ انسان کی نجات کے لیے توحید و رِسالت کا اِقرار کرلینا ہی کافی ہے ، عمل کی کوئی ضرورت نہیں ، اس لیے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :  اس وقت وہ اعتماد کرلیں گے ۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ قید نہ رہے گی اور لوگ دِین مستقیم میں ثابت ہوجائیں گے اور عبادت میں حرص کرنے لگیں گے اور ان کو یہ یقین ہوجائے گا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی عبادت سے تَقَرُّبِ الٰہی حاصل ہوتا ہے تو پھر اس کی خبر دینے میں کوئی حرج نہ ہوگا ، اس لیے حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی حیات کے آخری لمحات میں اس کی خبر دی جبکہ جملہ مذکورہ باتیں مستحکم ہوگئیں تاکہ کتمانِ علم لازم نہ آئے اور توکل کا خطرہ بھی زائل ہوگیا ۔ ‘‘ ( [7] )

 ” دلیل الفالحین“میں ہے : ’’ جب حضرت سَیِّدُنَا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے وصال کا وقت آیا تو انہوں نے علم چھپانے کے گناہ کے خوف سے اس حدیث کو بیان فرمایا کیونکہ علم چھپانا بہت سخت گناہ ہے اور اس کی وعیدیں قرآن و حدیث میں آئیں ہیں ۔  چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنٰتِ وَ الْهُدٰى ( پ ۲ ، البقرۃ : ۱۵۹ )

 



[1]      دلیل الفالحین ، باب فی الرجاء ، ۲ / ۳۱۲ ، تحت الحدیث : ۴۱۵ ۔

[2]      مرآۃ المناجیح ، ۱ /  ۴۶ ۔

[3]      مرآۃ المناجیح ، ۱ /  ۴۶ ۔

[4]      دلیل الفالحین ، باب فی الرجاء ، ۲ / ۳۱۲ ، تحت الحدیث : ۴۱۵ ۔

[5]      دلیل الفالحین ، باب فی الرجاء ، ۲ / ۳۱۲ ، تحت الحدیث : ۴۱۵ ۔

[6]      مرآۃ المناجیح ، ۱ /  ۴۶ ۔

[7]      تفہیم البخاری ، ۱ / ۳۵۸ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن