30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حدیث میں شرک سے مراد کفر ہے یعنی جو کفر کی حالت میں مرا وہ جہنم میں جائے گااور جو ایمان کی حالت میں مرا وہ جنت میں جائے گا ۔ مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’یعنی کفر کرتا ہوا ( مرا ) جس کی ایک قسم شرک بھی ہے ۔ دیکھو دہریہ ، آریہ وغیرہ سب جہنمی ہیں اگرچہ مشرک نہیں ، ایسے مقامات میں شرک سے مراد کفر ہوتا ہے ، اس کا مقابل ایمان ہے نہ کہ توحید ۔ ‘‘ ( [1] ) اللہ عَزَّوَجَلَّ ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے ، اور بلا حساب جنت میں داخلہ عطا فرمائے ۔ آمین
مدنی گلدستہ
’’مسجد ‘‘ کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول
(1) بندے کے گناہ جتنے بھی ہوں اگر وہ اس دنیا سے ایمان کی حالت میں رخصت ہوگا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے فضل و کرم سے اسے جنت میں داخل فرمائے گا ۔
(2) شرک کے علاوہ دوسرے گناہوں سے بچنا بھی ضروری ہے کیونکہ گناہ گار مسلمان اپنی سزا پاکر جنت میں جائیں گے ۔
(3) صرف شرک سے بچنا جنت میں جانے کے لیے کافی نہیں بلکہ اسلام کے تمام ارکان و احکام کو ماننا بھی ضروری ہے کیونکہ یہاں شرک کا مطلب کفر ہے یعنی جو اسلام کے تمام احکام کو مانتا ہوا اِس دنیا سے گیا وہ جنت میں جائے گا لہٰذا دہریہ اور آریہ وغیرہ جہنمی ہیں کیونکہ اگرچہ وہ مشرک نہیں لیکن وہ مسلمان بھی نہیں ۔
(4) جو شخص کفر کی حالت میں مرا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ اِیمان پر اِستقامت عطا فرمائے ، ایمان پر ہی خاتمہ نصیب فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 415 سچے مسلمان پر آ گ حرام
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ النَّبِىَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذٌ رَدِيْفُهُ عَلَى الرَّحْلِ قَالَ : يَا مُعَاذُ ! قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُوْلَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ! قَالَ : يَا مُعَاذُ ! قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ! قَالَ : يَا مُعَاذُ ! قَالَ : لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ. ثَلاَثًا.قَالَ : مَا مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلَهَ اِلاَّ اللَّهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ اِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ قَالَ : يَا رَسُوْلَ اللَّهِ ! اَفَلاَ اُخْبِرُ بِهَا النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوْا قَالَ : اِذًا يَتَّكِلُوا فَاَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْ تِهِ تَاَ ثُّمًا. ( [2] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سواری پر سوار تھے اور آپ کے پیچھے حضرت سَیِّدُنَامعاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تھے ۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اے مُعاذ ! ‘‘ انہوں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں حاضرہوں ۔ “آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھرفرمایا : ’’اے معاذ ! ‘‘ انہوں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں حاضرہوں ۔ “آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پھر فرمایا : ’’اے معاذ ! ‘‘ عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں حاضرہوں ۔ “ یوں تین مرتبہ فرمایا ۔ پھر ارشاد فرمایا : ” اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا جو بھی بندہ سچے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندے اور رسول ہیں ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس پر جہنم کو حرام کردیتا ہے ۔ “ حضرت سَیِّدُنَامعاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کیا میں لوگوں کو اس بات کی خبر نہ دے دوں تاکہ وہ خوش ہوں؟ ‘‘ ارشاد فرمایا : ” پھر وہ اِسی پر بھروسہ کرلیں گے ۔ “ پھر حضرت معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے وصال کے وقت علم چھپانے کے گناہ کے خوف سے اس حدیث کو بیان کیا ۔
مذکورہ حدیث پاک میں حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سَیِّدُنَا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو تین بار پکارا ۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’حضرت معاذ کو تین بار پکارنا ، کچھ نہ فرمانا زیادتی شوق کے لیے تھا کہ حضرت معاذ کلام سننے کے پورے مشتاق ہوجائیں ، جو بات انتظار کے بعد سنی جاتی ہے خوب یاد رہتی ہے ۔ لَبَّیْكَ وَسَعْدَیْكَکا اردو میں مختصر ترجمہ یہ ہے کہ میں خدمت میں حاضر ہوں ۔ چھوٹے کو چاہیے کہ بڑے کا ادب بہرحال کرے ۔ ‘‘ ( [3] )
مذکورہ حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ جوسچے دل سے توحید و رسالت کی گواہی دے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس پر جہنم کی آگ حرام کر دے گا ۔ سچے دل سے گواہی دینے کا اس لیے فرمایا تاکہ اس حکم سے منافقین نکل جائیں کیونکہ وہ صرف زبان سے اسلام کا اقرار کرتے تھے اور دل میں کفر کرتے تھے ۔ ” دلیل الفالحین“میں ہے : ’’حدیث میں سچے دل سے ایمان لانے کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع