30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! واضح رہے کہ ربّ تعالیٰ کی رحمت سے حقیقی امید وہی ہے جو بندے کو نیک اَعمال پر ابھارے نہ کہ اَعمال سے دور کرے ، شرعاً بھی وہی امید قابل تعریف ہے جو نیک اعمال پر ابھارے ۔ چنانچہ حجۃ الاسلام حضرت سَیِّدُنَا امام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’جو شخص اس بات کو جانتا ہے کہ زمین نمکین ہے اور پانی بھی کم ہے ، بیج بھی کھیتی اگانے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو وہ لازمی طور پر زمین کی نگرانی چھوڑ دیتا ہے اور اس کی دیکھ بھال میں خود کو تھکاتا نہیں ہے ۔ امید اس لیے محمود ( یعنی قابل تعریف ) ہے کہ وہ ( نیک ) عمل پر اُکساتی ہے اور مایوسی جو کہ امید کی ضد ہے اس لیے مذموم ہے کہ وہ عمل سے روک دیتی ہے اور خوف امید کی ضد نہیں بلکہ اس کا رفیق ہے بلکہ جس طرح امیدرغبت کی راہ سے عمل پر ابھارتی ہے اسی طرح خوف بھی ڈر دلا کر عمل کا محرک بنتا ہے ۔ ‘‘ ( [1] )
مدنی گلدستہ
’’اولیاء ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1) جو ایک نیکی کرتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّایک نیکی کے بدلے کم از کم دس نیکیوں کا ثواب عطا فرماتا ہے اور زیادہ کی کوئی حد نہیں ۔
(2) ایک نیکی کا ثواب دس ، سات سو یا بے حساب عطا فرمانا اللہ عَزَّوَجَلَّ کا فضل اور ایک گناہ کے بدلے ایک ہی گناہ کی سزا دینا اُس کا عدل ہے ۔
(3) جو چھوٹی نیکی کے ذریعے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قُرب حاصل کرتا ہے تو اس کی رحمت اس سے بھی زیادہ اس کے قریب آتی ہے ۔
(4) بڑے سے بڑے گناہ گار کو بھی رحمتِ الٰہی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے ۔
(5) چاہے کوئی کتنا ہی بڑا گناہ گار ہو اس کی بخشش ضرور ہوگی بشرطیکہ اس نے شرک نہ کیا ہو ۔
(6) رحمت کی امید پر گناہ کرنا کفر ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہم پر اپنی رحمت نازل فرمائے ، ہماری حتمی مغفرت فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 414 تمام مسلمان جنتی ہیں
عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : جَاءَ اَعْرَابِیٌّ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ! مَا الْمُوجِبَتَانِ؟ فَقَالَ : مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ. ( [2] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناجابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! لازم کرنے والی دو چیزیں کیا ہیں؟ ‘‘ حضور نبی رحمت شفیع امت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ” جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اس حال میں مَرا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا تھا تو وہ جہنم میں داخل ہوگا ۔ “
مذکورہ حدیثِ پاک میں فرمایا کہ ” جو شخص ایمان کے ساتھ اس دنیا سے گیا وہ جنت میں جائے گا ۔ “ اس میں بھی بخشش کی بہت بڑی امید ہے کہ چاہے تمہارے گناہ کتنے ہی ہوں اگر تم ایمان کے ساتھ اس دنیا سے گئے تو تم جنت میں جاؤگے ۔ نیز حدیث میں فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں جائے گا ۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنت میں جانے کے لیے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ بس اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ شرک نہ کرو باقی ضروریاتِ دین کو مانو یا نہ مانو؟ تو ایسا ہرگز نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جو تمام ضروریاتِ دِین پر ایمان لائے وہ جنت میں داخل ہوگا اور ظاہر ہے کہ بندہ اسی وقت مؤمن ہوگا جب کہ اسلام کے تمام ارکان پر ایمان لائے گا ۔ چنانچہ علامہ عبد الرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ” حدیث میں صرف شرک کی نفی پر اکتفا ہے کہ توحید کا دعویٰ دراصل رسالت کا ثبوت ہے کیونکہ جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے رسولوں کو جھٹلایا اس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ ہی کو جھٹلایا اور جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کو جھٹلایا وہ مشرک ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسے تم کہو کہ جس نے وضو کیا اس کی نماز صحیح ہوگئی مطلب یہ ہوتا ہے کہ نماز کی تمام شرائط کے ساتھ اسے ادا کیا تو نماز صحیح ہوگئی ۔ بالکل اسی طرح اس حدیث کا مطلب ہے کہ جو اس حال میں مرا کہ وہ ایمان کے تمام اجمالی اور تفصیلی اَحکام پر اِجمالاً اور تفصیلاً ایمان لایا تو وہ جنت میں داخل ہوگایعنی اُس کا اَنجام جنت میں داخلہ ہوگا اور اگر اُسے جہنم میں ڈال دیا گیا تو گناہوں سے پاکی کے لیے ڈالا جائے گاپھر وہ جنت میں ہی جائے گا ۔ ‘‘ ( [3] )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع