دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرماتا ہے : جوتھوڑی عبادت سے میرا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو میں اُسے تھوڑی عبادت کے بدلے کثیر ثواب  عطا فرماتا ہوں اور جب وہ عبادت میں اضافہ کرتا ہے تو میں ثواب میں اس سے زیادہ  اضافہ  کر دیتا  ہوں اور اگر وہ اپنی سہولیات کو پیش نظر رکھ کر اطاعت بجا لائے تو میں اس کو اس عبادت کا ثواب جلد عطاکرتا ہوں ۔ اس حدیث کامقصود یہ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی طرف سے جو ثواب ملتا ہے وہ تعداد اورکیفیت کے اِعتبار سے بندے کے عمل سے  زیادہ ہوتا ہے ۔ ‘‘ ( [1] )

جتنی عبادت زیادہ اتنی نظر رحمت زیادہ :

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حدیث کامطلب یہ ہے کہ  جوشخص عبادت کے ذریعے میرا قُرب حاصل کرتا ہے تو میں اپنی توفیق ، رحمت اور اِعانت اُس کے قریب کردیتا ہوں ۔ بندہ جتنی زیادہ عبادت کرتا ہے میں اتنا ہی  زیادہ اُس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اوراُس پراپنی رحمت برساتا ہوں ۔  وہ جس قدر میراقُرب حاصل کرتا ہے میں اُس  سے کہیں زیادہ اَجر عطا فرماتا ہوں ۔ ‘‘ ( [2] )

ہاتھ کا فاصلہ سمجھانے کے لیے ہے :

حدیث پاک میں جو فرمایا کہ بندہ ایک ہاتھ بڑھتا ہے تو رحمتِ الٰہی دو ہاتھ اس کی طرف بڑھتی ہے ۔  یہ ہمیں سمجھانے کے لیے ہے یعنی اگر ہم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا قرب پانے کے لیے چھوٹی سی بھی نیکی کرتے ہیں تو رحمتِ الٰہی ہمارے بہت زیادہ قریب ہوجاتی ہے ۔ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یہ کلام تمثیلی ( مثال کے ) طور پر ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تم اخلاص کے ساتھ تھوڑے عمل کے ذریعے قُربِ الٰہی حاصل کروتو رَبّ تعالیٰ اپنے کرم سے بہت زیادہ رحمت کے ساتھ تم سے قریب ہوگا ۔ لہٰذا عمل کیے جاؤ ، تھوڑا بہت نہ دیکھو ۔ یہ کلام بطور ِمثال سمجھانے کے لیے ہے ۔  مطلب یہ ہے کہ تمہاری طلب سے ہماری رحمت سبقت لے گئی ، اگر ایسے معمولی اعمال کروجن سے بدیر ہم تک پہنچ سکو تو ہم تم کو اپنے کرم سے بہت جلد اپنے دامن رحمت میں لے لیں گے ۔ اگر ربّ تعالیٰ سے قرب ہماری کوشش سے ہوتا تو قیامت تک ہم اس تک نہ پہنچ سکتے اس تک رسائی اس کی رحمت سے ہے ۔ ‘‘ ( [3] )

رحمت الٰہی سے ناامید نہ ہو :

 ” مرقاۃ المفاتیح“میں ہے : ” علامہ طیبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا مقصدگناہوں کی کثرت کی وجہ سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے مایوس ہونے والوں کی مایوسی کو دور کرنا ہے لہٰذا کوئی بھی شخص گناہوں کی زیادتی کی وجہ سے دھوکہ نہ کھائے ۔   ‘‘  حضرت ابنِ ملک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں :  ’’بے شک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جسے چاہے معاف فرمائے اور جسے چاہے عذاب دے ( لہٰذا کوئی رحمت کی امید پر گناہ بھی نہ کرے کیونکہ ) کوئی نہیں جانتا کہ وہ کن میں سے ہے ؟ ( معاف کیے جانے والوں یا عذاب دیے جانے والوں میں سے ۔  ) اللہ عَزَّوَجَلَّ جسے چاہے کبیرہ گناہ کرنے پر بخش دے اور جسے چاہے صغیرہ گناہ پر  عذاب دے یا وہ جسے چاہے کثیر گناہوں کے باوجود معاف فرمادے اور جسے چاہے ایک چھوٹے گناہ پر پکڑ لے ۔ اس حدیث کے آخری مضمون کا یہی مقصد ہے اور شروع کی حدیث میں سُستی اور کاہلی کو دور کرتے ہوئے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عبادت اور اس کی اطاعت میں کوشش کرنے پر اُبھارا گیا ہے چنانچہ یہ حدیث راہِ سلوک کی منازل طے کرنے والوں کے لیے دل کی بیماریوں  کا ایک مفیدمعجونِ مرکب ہے ، طالبین کے شوق کی محرک ہے اور گناہ گاروں کے دلوں کے لیے تقویت کا باعث ہے ۔ “ ( [4] )

رحمت کی امیدپر گناہ کرنا کفر ہے :

 ”  اگر بندے کے گناہ پوری زمین کے برابر بھی ہوں تب بھی میں اس کو بخش دوں گا بشرطیکہ اس نے میرے ساتھ شرک نہ کیا ہو ۔ “اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے اس فرمان سے رحمتِ الٰہی کی وسعت کا پتہ چلتا ہے کہ ربّ تعالیٰ کی رحمت بہت بڑی ہے وہ معاف فرمانے والا ہے ، مگر رحمت کی امید پر گناہ کرنا کفر ہے ۔ مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یہاں شرک سے مراد کفر ہے اور بخشش سے مراد مطلقًا بخشش ہے جلد ہو یا دیر سے ۔  یعنی مسلمان کتنا ہی گنہگار ہو اس کی بخشش ضرور ہوگی خواہ پہلے ہی سے ہوجائے یا کچھ سزا دے کر اور ظاہر ہے کہ بخشش بقدر گناہ ہوگی ، ایک گناہ کی بخشش بھی ایک اور لاکھوں گناہوں کی بخشش بھی لاکھوں ۔ مقصد یہ ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا گنہگار بھی رحمت الٰہی سے ناامید نہ ہو بلکہ بخشش کی امید پر توبہ کرلے ، یہ مقصد نہیں کہ بخشش حاصل کرنے کے لیے خوب گناہ کرے کہ یہ تو خدا پر اَمن ( یعنی نڈر ہونا ) ہے اور اَمن کفر ہے ۔  لہٰذا یہ حدیث گناہوں کی آزادی دینے کے لیے نہیں بلکہ توبہ کی دعوت دینے کے لیے ہے ربّ فرماتا ہے :  (لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِؕ-) خیال رکھو کہ ربّ تعالیٰ کی رحمت بھی وسیع ہے اور اس کا عذاب بھی سخت ہے ، نہ معلوم رحمت کسے پہنچے ؟عذاب کسے پکڑے ؟ لہٰذا اُمید و خوف دونوں رکھو ، اِس مَعْجُونِ مُرکَّب کا نام اِیمان ہے ۔ ‘‘ ( [5] )

حقیقی امید نیک عمل پر اُکساتی ہے :

 



[1]      عمدۃ القاری ، کتاب التوحید ، باب ذکر النبی وروایتہ ۔ ۔ ۔  الخ ، ۱۶ / ۷۱۹ ، تحت الحدیث : ۷۵۳۶ ۔

[2]      شرح مسلم للنووی ، کتاب الذکر والدعاء الخ ، باب الحث علی ذکر اللہ تعالی ، ۹ / ۳ ، الجزء السابع عشر ۔

[3]      مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۳۰۷ ۔

[4]      مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الدعوات ، باب ذکر اللہ و التقرب الیہ ، ۵ / ۴۰ ، تحت الحدیث : ۲۲۶۵ ۔

[5]      مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۳۰۷ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن